اے سی کی تیسی

خدا کرے آپ کا پالا کسی مکینک سے نہ پڑے۔ اگر آپ کا غلطی سے کسی مکینک یا استاد سے پالا پڑ جائے تو سمجھ لیں کہ گرمیوں کے موسم میں آپ کا جسم ٹھٹر کر یوں برف بن جائے گا جیسے اس پر پالا پڑ گیا ہو۔ ہمارے ایک کتوں کی لڑائی کے ماہر دوست کا دعویٰ ہے کہ کتے والا کاف جس پیشے میں آ جائے وہ آپ کے ساتھ کتوں سے بھی بدتر سلوک کرنے سے باز نہیں آتا۔ حالانکہ ہم نے تو مشاہدہ کیا ہے کہ قینچی والے قاف سے بھی جس کا واسطہ پڑ جائے وہ بھی قینچی کے ذریعے آپ کی جیب کاٹنے یا قصائی کی طرح کھال اتارنے سے نہیں چوکتا۔ زندگی کے کسی موڑ پر اگر کسی بھی استاد سے آپ کو کسی چیز کی مرمت یا پھر خدمات کے حوالے سے کام پڑ جائے تو آپ سمجھ لیں کہ آپ کی جیب ہی نہیں آپ کی طبیعت بھی صاف ہو سکتی ہے۔ آپ اگر راج مزدور کو مکان کی تعمیرومرمت کے لئے گھر میں بلا لیں تو ان کے آتے ہی ان کا راج شروع ہو جاتا ہے اور آپ تاراج ہونے لگتے ہیں۔ دیوار کی چنائی بھی اس طرح چن چن کر شروع کی جاتی ہے کہ آپ اپنا سر دھن دھن کر رہ جاتے ہیں۔ مستری حضرات اپنی ’’کانڈی، تیسی‘‘ سے ایک ایک اینٹ چاروں طرف سے اس طرح ٹھونک ٹھونک کر لگاتے ہیں کہ آخر کار اینٹ میں سے آواز آنا شروع ہو جاتی ہے کہ مستری صاحب میں نے ایسا کیا قصور کر لیا ہے کہ آپ ٹھکائی پے ٹھکائی کئے جا رہے ہیں۔ مزدور بھی مستری کی طرح مصالحہ اس طرح پیار سے بنا رہا ہوتا ہے جیسے کوئی شریف آدمی کسی کو اپنا سالا بنا رہا ہو۔ گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی آپ کو اے سی مکینک حضرات کی ایک فوج ظفرموج موٹرسائیکلوں پر گیس سلنڈر اٹھائے ایسے نظر آئے گی جیسے عید قربان کے موقع پر موسمی قصائیوں کی ریل پیل دکھائی دیتی ہے۔ یہ لوگ اے سی سروس کے نام پر آپ کی وہ سروس کریں گے کہ آپ کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔ سب سے پہلے تو یہ آپ کو خوشخبری سنائیں گے کہ اے سی کی گیس پوری کرنا پڑے گی اور ساتھ ہی اپنے موٹرسائیکل پر لٹکائے ہوئے سلنڈر کی طرف اشارہ کر کے بتائیں گے کہ ہم نے آپ کے لئے خصوصی طور پر یہ امریکی گیس کا سلنڈر منگوایا ہے ورنہ تو لوگ چائنا کی گیس ڈال کر امریکی گیس کے پیسے بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس پیار محبت میں وہ پانچ ہزار تک کا ٹیکہ لگا کر یہ جا وہ جا ہوتے ہیں۔ اگر اے سی میں غلطی سے کوئی اور نقص نکل آئے تو سمجھ لیں کہ آپ کے لئے نقص امن عامہ کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ یا تو آپ اپنا اے سی اونے پونے داموں انہی نیم حکیموں کی وساطت سے کسی کو بیچنے پر اور پھر ان کے مشورے سے کسی اور کا سیکنڈ ہینڈ اے سی خود خریدنے پر مجبور ہو جائیں گے یا پھر آپ نیا اے سی خریدنے کے لئے اپنے وسائل سے بڑھ کر خرچ کریں گے تاہم نئے اے سی کی خریداری میں بھی مکینک حضرات کا کمیشن دکاندار کی جانب سے انتہائی ایمانداری سے ان کو پہنچا دیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ہمارے دفتر کا ایئرکنڈیشنر عجیب و غریب آوازیں نکالنے لگا، اس کی آہ و زاری سن کر ایک مکینک کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس نے اے سی کو دیکھتے ہی اس کے بلور کی موٹر تبدیل کرنے کا مشورہ دیا اور مبلغ ساڑھے آٹھ ہزار خرچ کرنے کی نوید سنا دی۔ ہمارے دفتر کے ہیڈکلرک نے اتنی بڑی رقم خرچ کرنے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کسی اور مکینک سے مشاورت کا عندیہ دیا۔ لہٰذا ایک بہت ہی ماہر مکینک کو بلا لیا گیا جو بڑے بڑے اے سی پلانٹ ٹھیک کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے اور وہ ہمارے دفتر کے ایک آفیسر کے قریبی عزیز ہیں۔ موصوف دن بھر اے سی کی تیسی کرنے کے باوجود اس نقص تک نہ پہنچ پائے اور آخرکار انہوں نے بھی وہی نسخہ تجویز کر کے اپنی جان چھڑانے میں ہی عافیت محسوس کی۔ ہمارے دفتر کے ایک متجسس نوجوان جو ہر چیز کو بڑی گہرائی سے دیکھتے ہیں انہوں نے خود ٹول کٹ اٹھائی اور اے سی کی ایک ایک چیز کھولنا شروع کر دی۔ وہ تجرباتی انداز سے ہر اتارے جانے والے پرزے کو غور سے دیکھتے اور آگے بڑھتے چلے جاتے رہے۔ بالاخر بلور کی وہ موٹر بھی انہوں نے کھول کر چیک کی۔ تفصیلی چیکنگ کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ بلور کا وہ پیچ کہیں گر گیا ہے جو اسے ایک جگہ پر موٹر کے ساتھ منسلک رکھتا ہے۔ یہ محض پانچ روپے کا ایک معمولی سا پیچ تھا جس کی وجہ سے پورا دفتر گرمی کے موسم میں پیچ و خم میں مبتلا تھا۔ اس غیرمکینک نوجوان نے اپنی جیب سے یہ پیچ ڈال کر اے سی کی ٹھنڈک کا اہتمام اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی چیخ و پکار کا بھی خاتمہ کر دیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مکینک حضرات ہمارے بجٹ کی اے سی کی تیسی کر دیتے۔ ہمیں اس قسم کے مکینک حضرات ہر جگہ ملتے ہیں۔ آپ پنکچر لگوانے چلے جائیں تو پنکچر کی بجائے آپ کو ٹیوب کی تبدیلی کے لئے قائل ہونا پڑے گا۔ آپ اگر کار سوار ہیں اور انجن میں سے پانی ٹپک رہا ہے تو پائپ کی تبدیلی کی بجائے ریڈی ایٹر تبدیل کرائے بنا آپ کی جان نہیں چھوٹ سکتی۔ ہمارے ایک دوست کی بولان کار موٹروے پر انجن کی شدید گرمی کے باعث بند ہو گئی، مکینک نے اس کے انجن کے کام پر دس ہزار روپے خرچ کروا دیئے مگر راولپنڈی پہنچنے پر انجن پھر گرم ہو کر بند ہو گیا۔ آخرکار ایک اور ورکشاپ پر جا کر چیک کروایا گیا تو پتہ چلا کہ اصل میں سائلنسر کی جالی بند تھی جس کی وجہ سے انجن ہیٹ اپ ہو رہا تھا اور یہ مجموعی طور پر صرف چار سو روپے میں ٹھیک کر دیا گیا۔ آپ کو بھی قدم قدم پر اس طرح کے نیم حکیم قسم کے استادوں سے پالا پڑتا ہی رہتا ہے وہ آپ کی کھال اتارتے ہیں مگر قدرت کا اپنا ایک نظام ہے لوگوں کی کھال اتارنے والے کسی نہ کسی مصیبت یا بیماری میں مبتلا ہو کر ناجائز طریقے سے کمائی جانے والی یہ دولت اسی طرح لٹا بیٹھتے ہیں جس طرح انہوں نے لوگوں سے لوٹی ہوتی ہے۔ کاش ہمیں یہ راز سمجھ میں آ جائے تو ہم دھوکا دہی کے اس مکروہ دھندے سے خود کو الگ تھلگ رکھ کر دوسروں کی اے سی تیسی کے ساتھ ساتھ اپنی ایسی تیسی کرانے سے بھی باز رہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *