کیا نواز شریف مجرم ؟

احمد نورانی

نیب عہدے داران جے آئی ٹی کے پانامہ کی رپورٹ پر بحث کرتے  ہوئے کہتے ہیں کہ شریف برادران کے خلاف کیس کافی مضبوط ہے کیوں کہ وہ  احتساب عدالت کی پیشیوں کے آخر تک کچھ خاص سوالات کا جواب دینے میں ناکام رہے ہیں لیکن  نیب کی طرف سے جمع کروائے گئے ثبوت اور جے آئی ٹی کی پانامہ دستاویزات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ملزموں کو گناہ گار  ثابت کرنے کے لیے مناسب ثبوت  فراہم  نہیں کیے گئے۔

*نواز شریف کی بے نامی ملکیت*

نواز شریف کے خلاف واحد بڑا دعوی  جو ان کی بے نامی آونر شپ کے بارے میں تھا وہ اس وقت بے وقعت ہو گیا جب تمام نیب کی طرف سے پیش کردہ گواہوں نے یہ اعتراف کیا کہ ان کے پاس نہ تو کوئی شواہد ہیں اور نہ کبھی ایسی معلومات ان کو ملی کہ نواز شریف لندن پراپرٹی کے بے نامی مالک تھے۔ جب تفتیش کے بعد وہ اس بنیادی الزام کو ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئے، وکیل صفائی نے اپنی مد میں کوئی گواہ پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا، یہ بیان دیتے ہوئے کہ درخواست دہندہ نے الزام تک ثابت نہیں کیا  اور ان کے گواہوں نے بھی نیب کے الزام کی قلعی کھول دی ہے۔

*نیب کا  جامع موقف*

*نیب عہدیداران اور جے آئی سے منسلک لوگوں کا اصرار ہے کہ جے آئی ٹی کے قائد واجد ضیا کے بار بار اعتراف  کے جو انہوں نے  احتساب عدالت میں کیا کہ وہ نواز کے لندن فلیٹس سے کسی قسم کے تعلق کو ثابت نہیں کر پائے،  اس کے باوجود شریف فیملی کچھ بنیادی سوالات کا جواب دینے میں ناکام ہوئی جس کی وجہ سے ان کا کیس کمزور ہو گیا۔ جے آئی ٹی اور نیب کے  مطابق، یہ رقم لندن کیسے پہنچی، انویسٹمنٹ بھی ناممکن تھی جس کی وجہ بی سی سی آئی بینک کے قرضہ جات تھے، قطری فیملی کے ساتھ انویسٹمنٹ کیسے عمل میں آئی، اور آخر میں اگر نواز یہ ثابت کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں کہ ان کے بچوں کے اثاثے کیسے بنائے  تو پھر نیب قوانین کے مطابق انہیں سزا دی جا سکتی ہے۔ تاہم دستاویزات، کیس کی کاروائی اور نیب کی طرف سے جمع کروائے گئے شواہد کوئی اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ کیسے نابالغ بچوں نے بغیر کسی ذرائع آمدن کے لندن فلیٹس خرید لیے، نیب بمقابلہ شریف برادران اگرچہ نیب، جے آئی ٹی کی رائے کے مطابق مصر ہے کہ یہ شریف فیملی کے بچے ہی تھے جنہوں نے 1990 کے اوائل میں لندن فلیٹس خریدے،تو پہلی بات یہ ہے کہ ایسا کوئی ثبوت ہی نہیں کہ بچوں نے 1990 میں یہ فلیٹ خریدے۔ اگرچہ برقی و سوشل میڈیا کی بڑی مہم اس نقطے پر ہے کہ کیسے ان نو عمر بچوں نے فلیٹ خریدے، تو نیب یہ شواہد لانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے کہ فلیٹس بچوں ہی نے 1990 کی دہائی میں خریدے۔ پانامہ پیپر کی ایک دستاویز یہ ظاہر کرتی ہے کہ 2006 سے مریم نواز ان آف شور کمپنیوں   جو لندن فلیٹس  کی مالک ہیں کی بینفشل اونر رہی ہیں۔  یہ خط ایک سروس مہیا کرنے والی فرم کی طرف سے ایف آئی اے کے ایک سوال کے رد عمل میں لکھا گیا۔ نواز شریف کے بیان کے مطابق  مریم نواز اس پراپرٹی کی ٹرسٹی تھیں اور 2006 سے آف شور کمپنیوں  کے مالک حسین نواز ہیں،  لندن فلیٹس حسین نواز کے دادا میاں محمد شریف    کی پراپرٹی تقسیم کے مطابق  ان کی ملکیت میں آئے ۔شریف فیملی نے اپیل کی کہ یہ پانامہ دستاویز آفیشل دستاویز نہیں ہے بلکہ خدمتگار فرم کے کسی ملازم کی غلط فہمی ہے جو انہوں نے  بی وی آئی کے ایف آئی اے کو  ارسال کر دیا ۔ جب جے آئی ٹی ، بی وی آئی سرکار اور متعلقہ سرکاری اداروں سے آف شور کمپنیوں کی ملکیت سے متعلق تصدیق حاصل نہ کر سکی تو آسان الفاظ میں انہوں نے پانامہ دستاویزات میں یہ خط بی وی آئی کے ایف آئی اے ادارے کو پیش کیا  اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا یہ خط ریکارڈ میں پیش کیا گیا یا نہیں۔ ریکارڈ کے مطابق جے آئی ٹی نے بی وی آئی اتھارٹیز سے یہ سوال تک نہیں کیا کہ ان آف شور کمپنیوں کا حقیقی مالک کون ہے۔ خط اصل میں وہاں موجود تھے بی وی آئی کے ایف آئی اے کے ادارے کے ریکارڈ میں موجود ہونے کے بارے میں کوئی تجسس نہ تھا۔ بی وی آئی کے ایف آئی اے ادارے نے جے آئی ٹی اور خط کے ریکارڈ میں موجودگی کے سوال کا جواب ہاں میں دیا  اور جے آئی ٹی نے اس کو بنیاد بنا کر یہ الزام لگا دیا کہ  مریم نواز ہی ان آف شور کمپنیوں کی حقیقی مالکہ ہیں۔ دوسری طرف شریف
فیملی نے متعلقہ سروس مہیا کرنے والی فرم کا خط پیش کیا کہ 2006 سے حسین نواز آف شور کمپنیوں کے حقیقی مالک ہیں۔ شریف فیملی نے2006 سے فلیٹس کی ملکیت سے کبھی انکار نہیں کیا۔ حالیہ عدالتی کاروائیوں میں شریف فیملی نے تمام دستاویزی شواہد جمع کروا دیے ہیں کہ فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں اور موصوف اس کی تفصیلات فراہم کریں گے۔ شریف فیملی نے یہ ریکارڈ بھی پیش کیا یہ فلیٹس حسین نواز کے دادا میاں محمد شریف کی وراثت کی تقسیم  کی بدولت حسین نواز کی ملکیت بنے ہیں، تو نہ تو نواز شریف کا ان فلیٹس کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ان سے ان کی تفصیلات مہیا کرنے کے بارے میں پوچھا جا سکتا ہے۔ تا ہم شریف فیملی مکمل تفصیل اور منی ٹریل جے آئی ٹی کے سامنے پیش کر چکی ہے۔ نیب نے کوئی ایک  ثبوت بھی پیش نہیں کیا جس سے شریف فیملی کا بیان غلط ثابت ہو سکے۔ جعلی ٹرسٹ ڈیڈ ، کیلبری ایشو ، نیب بمقابلہ شریف خاند ان ایک اور الزام جو نیب نے شریف خاندان پر لگایا وہ یہ تھا کہ ٹرسٹ ڈیڈ  میں مریم نواز کو ٹرسٹی دکھایا گیا ہے  جب کہ یہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی تھی۔ جے آئی ٹی اور نیب نے ایک برطانوی فورینزک ایکسپرٹ کی رپورٹ کو بطور ثبوت پیش   کیا۔  لیکن یہ رپورٹ بھی گواہ کے ساتھ جرح کے دوراں غلط  ثابت ہو گئی رابرٹ ولیم ریڈلی جو برطانوی فورینسک ایکسپرٹ ہیں ان سے احتساب عدالت میں جرح ہوئی جس میں 2006 میں کیلببری فونٹ کے استعمال کے بارے میں اور ٹرسٹ ڈیڈ کے فونٹ کے بار ے میں سوالات کیے گئے۔ نیب اور جے آئی ٹی نے الزام لگایا کہ کیلبری فونٹ 2007 کے بعد قابل استعمال بنا یا گیا اس لیے 2006 کی ٹرسٹ ڈیڈ کیلبری فونٹ میں تیار نہیں کی جا سکتی تھی جس کا مطلب ہے کہ یہ جعلی ہے۔ جرح کے دوران ریڈلے نے پہلے یہ تسلیم کیا کہ 2006 میں کیلبری فونٹ قابل استعمال تھا  بلکہ یہ 2005 میں بھی ڈاون لوڈ کیا جا سکتا تھا لیکن صرف آئی ٹی ایکسپرٹس اسے ڈاون لوڈ کر سکتے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے خود 2005 میں یہ
ڈاون لوڈ کیا تھا تو انہوں نے ہاں میں جواب دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ آئی ٹی ایکسپرٹ ہیں تو ان کا جواب تھا نہیں۔ اس طرح نیب اور جے آئی ٹی کا کیس مکمل طور پر ناکام ہوا۔ لیکن نیب اہلکاروں کا اصرار تھا کہ بیورو اس معاملہ پر بھی مریم نواز کے خلاف کیس  کر  رکھتی ہے۔ رقم لندن کیسے پہنچی؟ اس کی منی ٹریل کہاں ہے؟ نیب بمقابلہ  شریف خاندان نیب اہلکاروں کے مطابق لندن فلیٹس کی منی ٹریل موجود نہ تھی اور شریف برادران جے آئی ٹی کے سامنے یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ان کی رقم لندن کیسے پہنچی۔ شریف برادران نے 1970 کے آغاز سے میاں محمد شریف کی دبئی میں گلف سٹیل مل کے قیام کے ذریعے انویسٹ منٹ کی منی ٹریل پیش کر چکے ہیں ۔ اسی منی ٹریل کو صحیح
یا غلط ثابت کرنا ہے۔ جے آئی ٹی کا سب سے اہم اور بنیادی دعوی یہ ہے  کہ جب گلف سٹیل ملز کے 75 فیصد شئیر فروخت کر دئیے گئے اور یہ اہلی سٹیل ملز بن گئی تو اس وقت یہ خسارے میں تھی۔ جے آئی ٹی کے مطابق اس کے بقایا 25 فیصد شئیرز  کو بیچنے کے بعد شریف خاندان کو14 ملین درہم کا قرضہ بی سی سی آئی بینک کو ادا کرنا  تھا اس لیے ان کے پاس مزید انویسٹمنٹ کے لیے کوئی رقم نہ بچتی۔یہ ایک مضحکہ خیز نکتہ ہے اور کوئی بھی عقل مند انسان اس کو  قبول نہیں کرے گا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے اگر ایک بڑے بزنس کو خسارہ ہو جائے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ اس کے سارے اثاثوں کی قیمت زیرو ہو چکی ہے۔  دوسرے جب ایک بزنس کو فروخت کیا جاتا ہے اور یہ اثاثوں کےساتھ فروخت کیا جاتا ہے تو واجبات بھی ساتھ مشتری کو منتقل ہو جاتے ہیں۔ شریف خاندان کے بیان کے مطابق یہ رقم بعد میں قطر میں انویسٹ کی گئی
تھی۔ جے آئی ٹی اس منی ٹریل کو غلط ثابت کرنے کے لیے ایک ثبوت بھی پیش نہ کر سکی۔  اور واحد کوشش بزنس ٹرانزیکشن کی عجیب و غریب توجیہات پیش کرتے ہوئے کی۔ جے آئی ٹی نے رپورٹ میں اعتراف کیا کہ اسی وجہ سے (کہ شریف خاندان کے پاس رقم نہ بچ سکتی) انہوں نے شریف خاندان کے قطری خاندان کے ساتھ انویسٹمنٹ کے دعوی کی حقیقت کی کھوج لگانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ 25 فیصد شئیرز بیچنے کے بعد شریف خاندان کے پاس کوئی رقم نہ رہتی اس لیے قطر میں انویسٹمنٹ کی کہانی ہی بے بنیاد ہے۔ شریف خاندان نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ  ان کے پاس  بہت زیادہ   ** RAW MATERIAL** تھا جو انہوں نے اہلی خاندان کو 1980 میں فائنل ایڈجسٹمنٹ کے لیے دے دیا تھا  اور بقایا 25 فیصد شئیرز  تمام واجبات کے ساتھ بیچ کر اور  12 ملین  درہم وصول کرنے پر اتفاق کیا تھا۔  بنیادی سوال یہ ہے کہ گلف سٹیل ملز ایک حقیقت ہے جو دنیا جانتی ہے کیونکہ اس وقت گلف ممالک میں یہ ایک بڑا بزنس سمجھا جاتا تھا ۔ اگر یہ رقم قطر میں نہیں
انویسٹ ہوئی تو گئی کہاں؟ اگر طارق  شریف نے 12 ملین درہم وصول نہیں کیے  تو پھر اہلی سٹیل ملز کے باقی 25 فیصد شئیرز کہاں چلے گئے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ 25 فیصد شئیرز آہلی فیملی کو تحفہ میں تو نہیں دے دیئے گئے؟ اور اس سے بھی اہم یہ کہ  جے آئی ٹی نے آہلی سٹیل ملز سے تحقیقات کیوں نہ کیں  باوجود اسکے کہ آہلی خاندان کے سربراہ اس کیس میں تعاون کرنے کے لیے  تیار تھے؟  اگر قطری خاندان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی انویسٹمنٹ ہوئی ہے ، جس کی جے آئی ٹی نے تحقیق کرنا ضروری نہیں سمجھا، تو پھر یہ قطری خاندان تو لندن میں سب سے بڑا  رئیل سٹیٹ انویسٹر ہے اور آج بھی برطانیہ کے دار الحکومت میں بہت سی جائیدادوں کا مالک ہے۔ تو اگر یہ انویسٹ منٹ 1980 میں کی گئی  اور نواز شریف اور قطری شہزادے کے بیان کے مطابق انویسٹمنٹ کی ایڈجسٹمنٹ 2006 میں کی گئی اور اس کے لیے فلیٹس کی شریف خاندان کے نام منتقلی کا طریقہ اختیار کیا گیا تو لندن رقم ٹرانسفر کا سوال ہی ختم ہو جاتا ہے۔ سوال صرف ایک ہی ہے اور وہ جے آئی ٹی کی اس منطق کے بارے میں ہے کہ جب کوئی بزنس بیچا جاتا ہے تو واجبات ا س سیل ایگریمنٹ کا حصہ نہیں ہوتے۔ یہ واقعتا ایک نیا اور اجنبی کانسپٹ ہے۔  لندن رقم  ٹرانسفر کا معاملہ اس لیے غیر متعلق ہو جاتا ہے کہ قطری خاندان جس نے 1980 میں انویسٹمنٹ وصول کی  اس کی اس تمام عرصہ لندن میں بہت سی جائیدادیں رہی ہیں۔ نیب ڈپٹی پراسیکیوٹر ذوالفقار بھٹہ نے دی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کو متعلقہ بینک کی دستاویزات فراہم کرنا چاہییے تھیں  لیکن وہ ایسا نہ کر پائے۔ جب سوال پوچھا گیا کہ یہ بینک تو 25 سال قبل بند ہو چکا تھا ا سلیے
اب یہ دستاویزات کیسے حاصل کی جا سکتی تھیں  تو بھٹہ کا کہنا تھا کہ شریف کے بچوں کو اس سلسلے میں عدالت میں گواہی دینا چاہیے تھی۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ نواز شریف نے عدالت کے سامنے درخواست کی تھی کہ فلیٹس ان کے بیٹے حسین نواز کی ملکیت میں ہیں جو انہیں اپنے والد سے وراثت میں ملے ہیں اس لیے انہیں اس کیس میں نہیں گھسیٹا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی استدعا کی کہ نیب نواز شریف کا لندن فلیٹس سے کوئی تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے  اور پراسیکیوشن کے گواہوں نے بار بار اعتراف کیا ہے کہ انہیں کسی موقع پر ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی انہیں اس بارے میں معلومات ہیں کہ  نواز کبھی ان فلیٹس کے بے نامی  مالک رہے ہیں۔ البتہ اس بارے میں نیب اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کو الگ رکھ کر دیکھا جائے تو شریف خاندان کے خلاف کافی ثبوت  موجود ہیں۔ بی سی سی آئی لون ڈیفالٹ اور شریف خاندان کی بی سی سی آئی دستاویزات فراہم کرنے میں ناکامی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا  نے خواجہ حارث کی طرف سے بار بار پوچھے جانے کے بعد کہ  جے آئی ٹی شریف خاندان کی قطری خاندان کے ساتھ انویسٹ منٹ کو جھوٹ ثابت  کیوں نہیں کر سکے، نے بتایا کہ شریف خاندان کے پاس قرض کی ادائیگی کے بعد کوئی رقم بچی ہی نہ تھی  کہ وہ انویسٹمنٹ کرتے اور وہ اپنے بیان کو سچ ثابت کرنے کے  لیے بی سی سی آئی دستاویزات بھی پیش نہیں کر پائے۔  جے آئی ٹی کی اس کنفیوژن پر اوپر بات ہو چکی ہے  اور اگر بی سی سی آئی 1991 میں بند ہو گیا اور اب اس سے کسی قسم کی  دستاویزات حاصل کرنا نا ممکن ہو گیا ہے تو  بھی اس بات کو ایک خیالی کہانی بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ جے آئی ٹی نے کیا  خاص طور پر اس وقت جب باقی تمام متعلقہ دستاویزات فراہم کر دیے گئے تھے۔  سابقہ ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب راجا عامر عباس نے جے آئی ٹی اور نیب  کی یہ عجیب منطق جو انہوں نے بزنس ٹرانزیکشن کے بارے میں گھڑی تھی جس کے مطابق واجبات کو  بزنس فروخت کرتے وقت اثاثوں کے ساتھ  مشتری کے حوالے کیا جاتا ہے کہ بارے میں کہا یہ عدالت کا اسی اہم نکتہ پر فیصلہ  کرنا ہے اس لیے وہ اس پر کمنٹ نہیں کر
سکتے۔ قطری شہزادہ جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوا ۔ نیب بمقابلہ شریف خاندان  نیب اہلکاروں کے مطابق قطری شہزادہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوا  باوجود اس بات کے کہ اسے مختلف آپشنز دیئے گئے تھے۔ جے آئی ٹی کو کسی طرح کی مالی ٹرانزیکشن کا ثبوت نہیں دیا  جس میں بتایا گیا ہو کہ رقم کس طرح شہزادے کے والد کے ساتھ انویسٹ کی گئی  اور یہ لندن کیسے پہنچی۔  حقیقت یہ ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے ہ اگرچہ قطری شہزادے کی گواہی کے حصول میں مسائل تھے  لیکن جے آئی ٹی قطر جا کر تحقیقات کرنے پر آمادہ نہ تھی کیونکہ اسے یقین تھا کہ شریف برادران نے جب گلف سٹیل ملز فروخت کی تو ان کے پاس کوئی رقم انویسٹمنٹ کے لیے بچنی نہیں چاہییے تھی جس کی
وجہ بی سی سی آئی بینک کے واجبات کی ادائیگی تصور کی گئی۔ یہ چیز بھی آن ریکارڈ ہے کہ قطری شہزادے نے جے آئی ٹی کواپنا بیان ریکارڈ کروانے کے  لیے مختلف آپشنز دیے لیکن جے آئی ٹی ممبران نے اوپر بتائی گئی وجوہات کی بنا پر شہزادے کےبیان لینے میں  عدم دلچسپی ظاہر کی۔ راجا عامر عباس کی رائے میں یہ ملزموں کا فرض تھا کہ وہ گواہ مہیا کر کے اپنے آپ کو معصوم ثابت کریں  لیکن چونکہ وہ اپنے گواہ نہیں لا سکے اس لیے وہ بے گناہ  نہیں ہیں۔ راجا عامر عباس کا کہنا تھا کہ یہ ایک مختلف کیس تھا اور شریف خاندان نے اسے صحیح طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔  دوسرے ممالک بھیجے جانے والے غلط اور خراب قسم کےسوالات جن کا مقصد اپنے من پسند جواب حاصل کر کے کورٹ کو گمراہ کرنا تھا  علاوہ ازیں،  جے آئی ٹی نے یو اے ای حکام کے ساتھ جو خط و کتابت کی اور جسے نواز شریف کے 1970 کے زمانہ کی یوا ے ای اور بعد میں سعودیہ میں انویسٹمنٹ کے بارے میں بیانات کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا گیا  یہ سارے سوالات بگاڑ کر پی کیے گئے اور ان کا کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسکی ایک مثال وہ سوالات ہیں جو یو اے ای  پورٹ حکام سے سعودی عرب کی طرف فیکٹری مشینری کی ترسیل کے بارے میں تھے۔ شریف خاندان نے جے آئی ٹی کو بتا دیا تھا کہ  مشینری روڈ کے ذریعے سعودیہ بھیجی گئی تھی۔ شریف خاندان کو جب معلوم پڑا کہ یو اے ای  پورٹ حکام نے کسی مشینری کی ترسیل کی تردید کی ہے تو وہ حیران رہ گئے کیونکہ انہوں نے کبھی دعوی نہین کیا تھا کہ انہوں نے مشینری پورٹ کےذریعے بھیجی تھی۔ بعد میں شریف خاندان  نے میڈیا کے سامنے ٹرانس پورٹیشن  کی
ساری رسیدیں سامنے لائیں جس میں 2000 ء کے ابتدائی سالوں میں ترسیل کی ساری تفصیلات اور رسیدیں موجود تھیں۔  من گھڑت الزامات کے ظاہری مقاصد بنیادی طور پر جے آئی ٹی یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ شریف خاندان کی اس وقت یو اے ای میں کوئی انویسٹمنٹ نہیں تھی۔ اگر جے آئی ٹی کی فائنڈنگز کو سائیڈ پر رکھ کر دیکھا جائے تو اس وقت گلف سٹیل مل شریف خاندان کی سب سے بڑی انویسٹمنٹ گلف ریاست میں موجودد تھی۔ یہ دنیا بھر میں قابل قبول ایک بڑی حقیقت ہے۔ ظاہری طور پر ایسا لگتا ہے کہ یہ تمام بے بنیاد  الزامات
2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے ایک کٹھ پتلی حکومت کے قیام کا راستہ ہموار کرنے کے لیے لگائے گئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *