جمخانہ لاہور میں شام مزاح

عمارہ کنول

 پہلی بار جمخانہ کلب کے دیدار سے فیضاب ہونے کا موقع ملا۔ اس دیدار میں گل نوخیز اختر صاحب کاسب سے بڑا ہاتھ ہے جنھوں نے بندی کو اس تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ بھیج کر عزت بخشی۔ میرے گھر سے جمخانہ کافی فاصلے پر ہے یہاں تک کہ رکشے والے نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا تو میں نے بھی یا گوگل تیرا ہی آسرا کا نعرہ بلند کرتے ہوئے رکشے والے کو آمادہ کر ہی کیا کہ وہ مجھے منزل مقصود تک پہنچا دے ۔ بہرحال کوئی پون گھنٹہ کی سر کھپائی اور پانچ افراد کی نشاندہی کے بعد ہم بخیریت جمخانہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے گیٹ پر موجود سیکیورٹی نے روکا تو ان کو دعوت نامہ دکھا دیا جس پر اس نے ہچکچاتے ہوئے بادل ناخواستہ ہمیں اندر جانے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔اندر پہنچ کر گیٹ کیپر کے متذبذب ہونے کی وجہ سمجھ آئی یہاں گاڑیاں آتی ہیں اور ہم رکشہ سے اترے تھے سو دل ہی دل میں اللہ اور گل نوخیز اختر صاحب کا پھر شکریہ ادا کیا اور منزل یعنی مطلوبہ ہال کی تلاش شروع کر دی پنجرے میں چھوڑے گئے نئے نئے جانور کی طرح کچھ دیر تک ہم ادھر ادھر بھٹکنے کے بعد منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔

 عجیب سا جھٹکا لگا کہ فنکشن اپنے وقت پر شروع ہو چکا تھا اور ہم خالص پاکستانی روایت برقرار رکھتے ہوئے لیٹ آئے تھے۔ اب وہی ہوا جو اکثر ،شادیوں میں تاخیر سے پہنچنے پر دولہے کے رشتے داروں بالخصوص پھپھو کے ساتھ ہوتا ہےہمیں کہیں جگہ نہیں مل رہی تھی ۔ فون کو لاچاری سے تکتے رہنے کے بعد آنکھیں گھمائیں تو حافظ زاہد نظر آگئے اللہ کا شکر ادا کیا کہ دیار غیر میں کوئی تو مانوس صورت نظر آئی۔ پانچ منٹ ماحول سے مانوس ہونے میں ہی گزرے ہو نگے کہ ہمارے ایک اور ادبی ساتھی مبین سلطان کی کال موصول ہوئی وہ بھی پکے پاکستانی نکلے۔ ان کو ہال سے اندر انٹری نہیں دی جا رہی تھی ۔ ان کو لینے باہر آئی تو دربان نے ہمیں بھی اندر جانے سے منع کر دیا۔ بالکل ویسے ہی جیسے امیر رشتہ دار غریب رشتے داروں سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں ۔ ہم نے لاکھ اس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ابھی تمھارے سامنے ہی اندر سے بر آمدگی ہوئی ہے مگر وہ طوطا چشم نا مانا۔

قسمت نے یاوری کی کامران لاشاری صاحب ہال کی طرف آتے دیکھائی دئیے۔ ان سے گزارش کی شاید اس معصوم صورت دیکھ کر ان کو بھی ترس آگیا تو اس طرح ہم دوبارہ ہال میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ محفل اختتامی مراحل کی جانب رواں دواں تھی ۔ گل نوخیز اختر صاحب کی سٹیج پر باری آئی تو محفل میں جیسے جان سی پڑ گئی۔صوفی تیرا ککھ نا رہے والے والا واقعہ گو پہلے بھی سن رکھا تھا مگر گل نوخیز صاحب سے دوبارہ سن کر لطف دوبالا ہو گیا۔ برگر فیملی کے ممبران شاید پنجابی سے نابلد تھے سو یہ سطر ان کو اردو ٹرانسلیشن کر کے بھی سنائی گئی اور قہقہے پھر ابلنے لگے۔ وصی شاہ کی کمپئرنگ اچھی لگی۔ کسی دور میں وصی شاہ کی کنگن زبانی یاد کر کہ سنانے پر ہم اپنے کالج میں شہرت یافتہ ہوئے تھے اور لڑکیاں پاگلوں کی طرح یہ نظم ہم سے سنا کرتی تھیں اور تقریباایک جیسے ناک کی وجہ سے ہمیں عاشر عظیم اور وصی شاہ کی بہن بھی سمجھا جاتا تھا۔
وہ تو ہم نے ان کو سمجھایا کہ ہمارا ناک وصی شاہ سے ایک مرلہ کم ہے تو ان سے زیادہ خود کو تسلی ہوئی کہ ہمیں بہن سمجھے جانے پر کوئی خاص اعتراض نا تھا جتنا ان کی ہم ناک سمجھے جانے پر۔
کہتے ہیں سوئیٹ ڈش ہمیشہ کھانے کے اختتام پر سرو کی جاتی ہے کامران لاشاری صاحب وہی سوئیٹ ڈش ثابت ہوئے اور ہم ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔ کیونکہ خیالی سے زیادہ آپ بیتی مزے کی ہوتی ہے ۔ تقریب مختتم ہوئی تو سیلفی سیشن شروع ہوا ۔ یہیں اسٹیج پر جانے کی سعادت بھی حصے آگئی۔اور ہمارا تعارف عطاء الحق قاسمی صاحب کے صاحبزادے یاسر پیر زادہ صاحب سے ہوا جو کہ قاسمی صاحب کی خاصی خوش شکل اولاد واقع ہوئے ہیں۔ آمنہ مفتی صاحبہ جو کہ زیادہ وقت مسکراتی ہی رہیں اور ہماری سیلفیوں کے لیے مسکراتا سا منہ بناتی رہیں ۔ سیلفیوں کے بعد ہائی ٹی کے لیے ہال میں آگئے اور پیٹ پوجا شروع کر دی جس پر دی اینڈ یعنی تلک چائے نے لگایا۔ہال سے اترنے پر نشو بیگم نظر آئیں ماضی کی اس چلبلی اور ورسٹائل باوقار ادکارہ سے سیلفی لینے کو دل مچل سا گیا۔ وہیں ان سے بات شروع کی اور ساری باتیں فلمسٹارشان کی والدہ نیلو اور ریاض شاہد صاحب کے متعلق کیں ۔ پھر اپنا ماتھا پیٹا کہ یہ نشو جی ہیں جو کہ صاحبہ کی والدہ صاحبہ ہیں۔ دل میں سوچا کہ آج تو یہ بھی جا کر خوب ہی ہنسیں گی کہ ایسے نمونے بھی ہوتے ہیں جن کو نیلو جی اور نشو جی کا فرق ہی نہیں معلوم۔ انہوں نے ہماری اس غلطی کو کمال ضبط سے معاف کیا اور سیلفی بنانےکے لیے ہمارا ساتھ بھی۔ شاداں و فرحاں گھر روانہ ہوئے۔ اب گھر آکر سوچ میں ہی گم ہیں کہ خواب تھا یا حقیقت ۔۔ ایک خوبصورت محفل جس کے گلدستے کا ہر پھول اور ہر پتی گل رنگ تھی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *