نواز شریف کو سزا کا فیصلہ ایک خصوصی تجزیہ

فیصلے میں بار بار تاخیر اور نواز شریف کی جانب سے ڈیل سے انکار کے بعد سزا کا اعلان
پاکستان کے منتخب وزیراعظم نواز شریف نے آئین شکن فوجی آمر جنرل مشرف کے خلاف بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا۔ آج جنرل مشرف آزاد ھیں۔ ان کے مقدمات موخر ھیں۔ ان کی جائیداد اور بنک اکاؤنٹس محفوظ ھیں۔ عدالت ان کی عدم موجودگی میں ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بحال کر چکی ھے۔
جبکہ ان پر بغاوت اور غداری کا مقدمہ قائم کرنے والا منتخب وزیراعظم تا حیات نااھل ھو چکا ھے۔ وزارت عظمی سے نکالا جا چکا ھے۔ پارٹی صدارت سے برخواست ھو چکا ھے۔ اور آج اسے اور اس کے بچوں کو سزا بھی سنا دی گئی ھے۔ کیونکہ نوازشریف جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ کسی ڈیل کے لیے تیار نہیں۔ جھک جاتا تو سزا نہ ھوتی۔
لیکن ٹھہریں ۔ یہ سزا ، یہ نااھلی یہ جرمانہ اور جائیداد کی ضبطی برسوں پہلے اسی فوجی آمر جنرل مشرف کے دور میں بھی اسی نیب نے سنائی تھی۔ تب بھی کہا گیا تھا۔ نواز شریف کی سیاست ختم ھو گئ۔ اور پھر سب نے دیکھا ۔ نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بن گئے۔
اسٹیبلشمنٹ غلطیاں کرنا چھوڑتی ھے۔ اور نہ سبق سیکھتی ھے۔ اسٹیبلشمنٹ تاریخ کے جیل خانے میں قید ھو چکی ھے۔ یہ بند اور فکسڈ دماغوں کے قیدی ھیں۔ اسٹیبلشمنٹ کا باھر کی روشنی اور ھوا سے رابطہ منقطع ھو چکا ھے۔ یہ تاریخ کے تاریک زنداں کے اسیر ھیں۔

نواز شریف کو سزا کا فیصلہ ایک خصوصی تجزیہ” پر بصرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *