متوقع فیصلہ کے غیر متوقع نتائج


یہ فیصلہ تو اسی وقت متوقع تھا جب عمران خان کو کہ گیا تھا کہ آپ کیس عدالت میں لے کر تو جائیے آپ کو انصاف ملے گا۔ مگر سوال صرف یہ ہے کہ کیا یہ فلیٹ نواز شریف نے اپنے اس دور میں خریدے ہیں؟ اگر نہیں اور استغاثہ کے مطابق نہیں تو پھر نیب اب کیوں متحرک ہوئی؟ اس ایک سوال کے جواب میں ساری حقیقت پوشیدہ ہے۔ اب تو یہ اوپن سیکرٹ ہے کہ یہ کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے؟ اور ذرا عدالت کی دلیل دیکھیں ، کیونکہ جن بھائیوں کی ملکیت جائیداد ہے وہ اپنی کمائی سے انھیں نہیں خرید سکتے۔ یعنی اگر میرا بیٹا میرے والدین کی وراثت کے ذریعے سے کوئی جائیداد خریدیں تو میں قصور ٹھہرایا جاؤں گا۔

Image result for nawaz sharif and maryamاصل مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف کو دہشت گردوں سے تعلق توڑنے کی پالیسی اختیار کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔ یہ دراصل سول سپر میسی کی بات کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ یہ ڈان لیکس کی سزا دی جا رہی ہے۔ یہ سیاست دانوں کو کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات جیتنے کی اہلیت پیدا کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ یہ کچھ نہیں بس دھرنا ڈرامے ، پانامہ فلم اور کرپشن رولے ہی کی ایک کڑی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایک سوال تھا کہ کیا نواز شریف اور مریم نواز واپس آنے کو تیار ہوں گے۔ اب اس کا اعلان کر دیا ہے کہ دونوں ہر قیمت پر واپس آئیں گے اور ملک کو خلائی مخلوق کی محکومی سے نجات دلانے کا جدو جہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ اس اعلان کے بعد مخالف قوتوں کو پھر مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ اگر دونوں واپس آتے ہیں تو یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہو گا جو جمہوری جدو جہد کو نئی جہت عطا کرے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *