کم نمک کھانا بھی جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

نمک کا بہت زیادہ استعمال فالج اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا دیتا ہے مگر اس کے بہت کم استعمال کے نتیجے میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔

یہ انتباہ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

میک ماسٹر یونیورسٹی اور ہیملٹن ہیلتھ سائنسز کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نمک کا بہت کم استعمال کرنے کے نتیجے میں دل کے دورے اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 49 ممالک کے ایک لاکھ 30 ہزار افراد کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا گیا کہ نمک کے استعمال ، امراض قلب اور فالج وغیرہ کے درمیان کیا تعلق ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ لوگ چاہے ہائی بلڈ پریشر کے ہی شکار کیوں نہ ہو، غذا میں نمک کا بہت کم استعمال دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ نمک کا زیادہ استعمال کم کرنے کی اہمیت پہلے ہی سامنے آچکی ہے تاہم اسے انتہائی کم کردینا بھی کوئی فائدہ مند چیز نہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے روزانہ پانچ سے چھ گرام نمک استعمال کرنا صحت کے لیے فائدہ مند قرار دیا گیا ہے۔

تاہم نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 3 گرام سے کم نمک کا استعمال جان لیوا امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

محققین کے بقول تین گرام سے کم نمک نمک کا استعمال غیرمحفوظ ہوتا ہے تاہم اس کے زیادہ استعمال سے ہونے والا نقصان بلڈ پریشر کے شکار افراد کو ہی ہوتا ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے لانسیٹ جرنل میں شائع ہوئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *