زیکا وائرس ظاہری علامات کے بغیر ہی خواتین میں حمل ضائع کرسکتا ہے، تحقیق

کیلیفورنیا: ایک تازہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ زیکا وائرس بغیر علامات ظاہر کیے حاملہ خواتین پر حملہ آور ہو کر حمل ضائع کر دیتا ہے۔

سائنسی جریدے ’نیچر میڈیسن‘ میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ حاملہ خواتین کے حمل ضائع ہونے کی ایک وجہ ’زیکا وائرس‘ کی موجودگی بھی ہے۔ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایسی خواتین میں زیکا وائرس کے حملہ آور ہونے کی علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں؛ اور انہیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ اس نقصان کی وجہ تولیدی نظام میں کوئی خرابی نہیں بلکہ زیکا وائرس ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس سے وابستہ طبّی تحقیق کاروں نے امریکا بھر کے مختلف اسپتالوں میں حاملہ خواتین کے حمل ضائع ہونے کے اعداد و شمار جمع کیے جس سے انکشاف ہوا ہے کہ 26 فیصد حاملہ خواتین کے حمل زیکا وائرس کی وجہ سے پہلے تین ماہ میں ہی ضائع ہوئے جب کہ زیکا وائرس کی وجہ سے ہونے والے زرد بخار، دردِ سر اور دیگر علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے  ان ماؤں کو اپنے جسم میں زیکا وائرس کی موجودگی کا علم بھی نہیں ہو سکا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ہونے والی تحقیق سے حمل ضائع ہونے میں زیکا وائرس کے کردار کا انکشاف ہوا تھا لیکن اُس وقت حاملہ خواتین میں زیکا وائرس کی علامات مشاہدہ کی گئی تھیں۔ لیکن اس نئی تحقیق نے زیکا وائرس کے چوری چھپے حاملہ خواتین پر حملہ آور ہونے کے شواہد پیش کیے ہیں۔

واضح رہے کہ زیکا وائرس اُسی مچھر سے پھیلتا ہے جو ڈینگی اور چکن گنیا پھیلانے کا باعث ہے۔ زیکا وائرس کے حملے سے ظاہر ہونے والی علامات بہت معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں جن میں ہلکا بخار، جلد پر خراشیں، آنکھوں کا سرخ ہوجانا، اور پٹھوں اور جوڑوں کا درد وغیرہ شامل ہیں لیکن اس سے زیادہ خطرہ حاملہ خواتین کو ہوتا ہے۔ زیکا وائرس کے حملے سے متاثرہ حاملہ خواتین جن بچوں کو جنم دیتی ہیں ان کے سر بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور وہ یا تو مردہ ہی پیدا ہوتے ہیں یا پھر پیدا ہوتے ہی مرجاتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سمیت وہ تمام ممالک جہاں ڈینگی بخار اور چکن گنیا پھیلانے والے ’’ایڈیز مچھروں‘‘ کی بہتات ہے، ان ممالک میں بھی زیکا وائرس کا حملہ ہوسکتا ہے اور وہ بھی زیکا وائرس سے پھیلنے والی وبا کی زد میں آسکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *