مریم نواز کو سزا

خاص طور پر مریم نواز کی سزا بڑی معنی خیز ھے۔ ایک خاتون جس نے کبھی کوئی پبلک عہدہ استعمال نہیں کیا۔ کبھی ممبر پارلیمنٹ نہیں رھی۔ اسے سات سال سزا کے علاوہ دس سال کے لیے الیکشن لڑنے سے بھی نااھل کر دیا گیا ھے۔ اس بنا پر کہ وہ اپنے باپ کے جرائم میں شامل ھے۔ وہ جرائم جو ثابت نہیں ھو سکے۔ اور خیالی تنخواہ کی طرح خیالی پراپرٹی کے مفروضے پر سزا دی گئ۔ یہی نااھلی بتا رھی ھے۔ ھماری اسٹیبلشمنٹ مریم نواز کی سیاست میں آمد اور اسٹیبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کی پالیسی سے کسقدر خوفزدہ ھے۔ یہ وھی اسٹیبلشمنٹ ھے۔ جو وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سیلیوٹ کرنے میں اپنی تضحیک محسوس کرتی تھی۔ یہ لوگ تو ایک مرد وزیراعظم کو سیلیوٹ نہیں کرتے۔ ٹانگیں پھیلا کر اس کے برابر بیٹھ جاتے ہیں۔ چہرے پر کرختگی طاری کر لیتے ہیں۔ اور سٹک سے کھیلتے رھتے ھیں۔ یعنی اندازہ کریں۔ بائسویں سکیل کا ایک افسر کس قدر بد تہذیبی کے ساتھ اپنے باس کے برابر بیٹھ جاتا ھے۔ وہ باس جو 22 کروڑ عوام کا منتخب وزیراعظم ھے۔ ایسے میں ایک کل کی بچی کے سامنے کل کو کس طرح پیش ھو سکتے ہیں اگر وہ وزیراعظم بن جاے۔ چناچہ سوچا گیا۔ ابھی سے اس سے جان چھڑوا لی جائے۔ پہلے بے نظیر کو قتل ھونا پڑا تھا۔ اب ایک اور عورت کا سیاسی گلہ گھونٹا گیا ھے۔ فاطمہ جناح کا حال بھی سب کو معلوم ھے۔ جنہیں جنرل ایوب نے سیکیورٹی رسک ڈکلیر کیا۔ اور جن کی وفات مشکوک حالات میں ھوئ۔ اس ملک میں آزاد مرد وزیراعظم قبول نہیں ۔ خواتین کو کیسے اجازت دی جا سکتی ھے۔ وہ حکمران بن جائیں۔ ویسے بھی ایک باپ کو ڈرانے کے لیے ، اسے اپنے ڈھب پر لانے کے لیے اس کی بیٹی کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا صرف ھماری اسٹیبلشمنٹ کا ھی خاصہ ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *