عام انتخابات یا خاص انتخابات؟

میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ وطن واپس آئیں گے اور اپنے حامیوں میں جوش و جذبہ جگاکر انھیں متحرک کرتے ہوئے نون لیگ کی انتخابی مہم کی قیادت سنبھالیں گے ۔ان کی اس بات پہ یقین نہ کرنے کی ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں کیونکہ جس دن سے انھیں اقتدار سے بے دخل کیاگیا ہے، ان کی مزاحمت میں کوئی کمی ہم نے نہیں دیکھی۔ مسئلہ یہ ہے کہ احتساب عدالت چھ جولائی کونواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس کا فیصلہ سنانے والی ہے۔یہ فیصلہ کیا ہوگا؟ یہ کوئی راز نہیں ہے۔ سب پہلے ہی سے جانتے ہیں کہ کس طرح سول و ملٹری و عدلیاتی قوتیں میاں صاحب کے خلاف صف آراء ہیں۔میاں صاحب کو صرف اقتدار سے بے دخل ہی نہیں کیا گیا بلکہ یقینی طور پرقبل از انتخابات دھاندلی کی گئی ہے ، انھیں مسلسل ہراساں کیا جاتا رہا ہے اورانتہائی سنگین صورتحال پیش آنے پہ ہی انھیں جانے کی اجازت ملی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ان کی واپسی کی خبربہت اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔مگر میاں صاحب کو اس وقت جو صورتحال درپیش ہے وہ بھی بہت ہی عجیب ہے۔اگر تو وہ اپنی علیل اہلیہ کو لندن میں بستر علالت پہ چھوڑ کر اپنے خلاف مقدمے کا فیصلہ سننے کے لئے وطن واپس آتے ہیں تو ان کی گرفتاری اور اسیری کا امکان موجود ہے۔اگر ایسا ہوا اور لندن میں ان کی اہلیہ کی صحت خدانخواستہ مزید بگڑی تو پھر واپس ان کے پاس جانا ان کے لئے ممکن نہیں ہو سکے گا۔سیاسی نقصان کے ساتھ ساتھ ایک ذاتی المیے سے بھی وہ دوچارہوں گے۔تاہم اگر میاں صاحب اپنی اہلیہ کی خاطر لندن میں ہی رہے تو ان کے ناقدین ان پر بزدلی کا الزام دھریں گے اور کہیں گے کہ گرفتاری کے خوف سے وہ وطن واپس آنے سے کترا رہے ہیں۔یہ لوگ تو پہلے سے یہ الزام لگارہے کہ اپنی اہلیہ کی بیماری بھی انھوں نے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے گھڑی ہوئی ہے۔سب سے اہم بات یہ کہ ان کی عدم واپسی ان کے حامیوں کے لئے مایوسی کا سبب بنے گی اور اس سے نون لیگ کی انتخابی مہم بھی متاثر ہو گی۔سو امکان کیا ہے کہ میاں صاحب کیا کریں گے؟
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بیگم کلثوم نواز کی صحت جلد بحال ہو جائے گی۔اسی لئے میاں صاحب کچھ دن اور لندن میں رہنا چاہتے ہیں اور انہوں نے نیب سے استدعا کی ہے کہ فیصلہ ایک ہفتے بعد سنایا جائے تاکہ وہ اس کے سننے کے لئے بذات خود عدالت میں موجود ہوں۔اگر تو انہوں نے عدالت کے ساتھ کئے گئے اپنے اس وعدے کو توڑا تو ان کی ساکھ بے حد گر جائے گی۔تاہم اگر وقت مقررہ پہ وہ عدالت میں موجود ہوئے تو اس سے ان کی مقبولیت بڑھے گی۔اگر تو عدالت نے ان کی پٹیشن منظور کر لی تو بڑی اچھی بات ہو گی ۔ تاہم اگر چھ جولائی کے فیصلے میں انھیں مجرم ٹھہرا کر سزا سنا دی گئی تو میاں صاحب کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ وطن واپس آکر سیدھا جیل جاتے ہیں یا پھر لندن میں ایک بار پھرطویل مدت کی جلا وطنی اختیارکرتے ہیں۔اگر تو وہ واپس آتے ہیں تو اعلیٰ عدالتوں سے ضمانت پانے کے لئے وہ اپیلیں دائر کرکے خود پہ کئے گئے ظلم کے مقابل مزاحمت کے اپنے بیانیے کو مزید تقویت دے دیں گے۔ تاہم اگر انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کو اہمیت دینے کا فیصلہ کیا تو ان کے مخالفین انتخابات سے قبل ہی ان کی پارٹی کو ہدف بنا کے اور گھائل کر کے چھوڑیں گے۔ کیا حالیہ کئے گئے سروے اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں؟اب تک تین سروے شائع ہو چکے ہیں۔ان کے سکوپ،درستگی یا جانبدار ی کو خاطر میں لائے بغیر اگر دیکھا جائے توان میں سے دو قومی سطح پہ نون لیگ ہی کو سب سے آگے دکھارہے ہیں جبکہ ایک میں پی ٹی آئی نون لیگ سے قدرے آگے دکھائی گئی ہے ۔ پنجاب میں البتہ تینوں ہی سروے نون لیگ کو پی ٹی آئی کے مقابل پندرہ فیصد آگے بتا رہے ہیں۔اس امر کی جانب بھی تینوں سروے اشارہ کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی مضبوط ہو رہی ہے۔ (یہ الگ بات کہ اس کام میں خلائی مخلوق اس کی مددگار ہے جو نون لیگ سے انتخاب جیتنے کی اہلیت رکھنے والوں کو چن چن کر الگ کر کے انہیں پی ٹی آئی میں داخل کروا رہی ہے۔اگر یہی رجحان مزید تین ہفتوں تک برقرار رہا تو پنجاب کے حوالے سے نون لیگ کا اطمینان قائم نہیں رہ سکے گا۔یوں دیکھا جائے تو میاں صاحب کے پاس اور کوئی راستہ ہے ہی نہیں۔ چاہیکچھ بھی ہو جائے انہیں واپس آنا ہی ہو گا۔انہیں جرأت کے اظہار کے لئے وطن واپس آنا ہی پڑے گا چاہے اس کی خاطر انھیں کچھ عرصے کے لئے جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔بعض ایسی باتیں بھی ہیں جن سے میاں صاحب قدرے تسکین پا سکتے ہیں۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا والے خود پہ لگنے والی پابندیوں پہ بے چینی کااب اظہار کرنے لگے ہیں۔قبل از انتخابات دھاندلیوں کے حوالے سے بھی دھیمی دھیمی خبریں دی جا رہی ہیں۔سوشل میڈیاالبتہ زیادہ جرأت اور بے باکی سے ٹرولزسے نمٹ رہا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں کبھی سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی مقبولیت اس قدر نہیں گری تھی۔اب تو خود اندرونی طور پر عدلیہ میں بھی دراڑوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ چیف جسٹس صاحب کے متنازعہ بیانات اور اقدامات ان کی خوش نیتی کو مشکوک بنا رہے ہیں۔یہ ایک معجزہ ہی ہے کہ نواز شریف اور مریم نوازتمام طاقتوں کی حامل ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں اب تک کھڑے رہ پائے ہیں اور پنجاب میں ان کی مقبولیت بھی بدستور قائم ہے۔یہ بھی ایک بڑی غیر معمولی بات ہے کہ کسی سیاستدا ن نے فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے تسلط کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر میاں صاحب کو صرف وزارت عظمیٰ ہی چاہئے ہوتی اور حکومت میں رہ کر دولت لوٹنا ہی ان کا مقصد ہوتا تو فوج و اسٹیبلشمنٹ کو وہ نہ للکارتے اور آج وہ جس حال میں ہیں وہ ان کا نہ ہوتا ۔ میاں صاحب اب جس راستے پہ ہیں وہ عمران خان کے اختیار کردہ راستے کے بالکل برعکس ہے۔خان صاحب نے تو خود کو انصاف و احتساب کا علمبردار اور سٹیٹس کو کے خلاف ایک مجاہد ظاہر کیا تھا لیکن اب وہ پوشیدہ مفادات رکھنے والے ان تمام عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کر چکے ہیں جو اس ملک کے مسائل کا سبب ہیں۔ ستر اور ستتر کے عام انتخابات پاکستان کی تاریخ میں المناک نتائج کے حامل رہے۔اس مہینے کے آخر میں جو خاص انتخابات ہونے والے ہیں ان کی بدولت اس قابل رحم ملک کی پہلے سے ہی کمزور دستوری حالت مزید بکھر سکتی ہے۔

(یہ کالم رائٹ ویژن میڈیا سینڈیکیٹ کی جانب سے مجاز اخبارات کو جاری کیا جاتا ہے جن میں یہ مؤقر روزنامہ بھی شامل ہے۔ اس کی کسی بھی صورت میں کہیں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں۔)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *