نشہ اور مایوس نوجوان

ڈاکٹر اکرام الحق

ڈاکٹر اکرام الحق

ہر معاشرہ اپنے اندر موجود سب سے برا اور پریشان کن کردار نظر انداز کر دیتا ہے۔ زیادہ تر ایسی باتوں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی کیوں کہ اس کی پہچان تکلیف دے ہو سکتی ہے  خاص طور پر ان کے لئے جو اپنا سٹیٹس برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس میں کچھ بھی حیران کن نہیں ہے، اگر ہمارے ملک کے حکمرآن تھوڑی سی اس بارے میں دلچسپی دکھائیں اور جب ان کی حرکات شہریوں کو بہت بڑے نفسیاتی تناؤ سے دو چار کریں تواس  مسئلہ کو " ملک کی محبت " کے بارے میں تقاریروں سے چھپا لیا جاتا ہے اور اصل صورت حال کھل کرسامنے نہیں آتی۔ آئیے اس پس منظر کے خلاف منشیات اور نوجوان  طبقے کی پریشانیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز سے سرکاری اور غیر سرکاری افسران کو بتایا جاتا ہے کہ وہ مللکت خداد میں رہنے کے باعث کتنے خوش قسمت ہیں، جو بہت ساری جانوں کی  قربانیوں کے بعد  کافروں سے لڑ کر حاصل ہوا۔ ان قربانیوں کی یاد دلاتے ہوئے  ،انہیں باور کروایا جاتا ہے کہ اس ریاست کی  نظریاتی سرحد کی حفاظت  کرنا ہمارا پہلا فریضہ ہونا چایئے۔ ان سالوں میں نوجوانوں کوقائل کرنے کی  کوشش کی جاتی ہے کہ  اپنے بزرگان کی عظیم قربانیوں کے باعث ہی انہیں یہ سب مواقع اورسہولیات میسر ہو رہی ہیں جن کا وہ تقسیم ہند سے پہلے ہندوستان میں  تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔  اس ساری کوشش کا مقصد بہت ہی واضح ہے: تاکہ نوجوان طبقے کو اس دھوکے میں رکھا جا سکے کہ آزادی حاصل کرنا کافی ہے تاکہ وہ 1947 کے بعد ہونے والے تمام معاملات سے دور رہیں۔ پوری طرح اس تقریر کے خالی پن سے واقف ہونے کے بعد نوجوان خود نتیجہ نکالیں ان معاشرتی حقائق  کا جن سے انہیں روز واسطہ پڑتا ہے۔  نوجوان نسل کے روئیے کو ڈھالنے میں  پچھلی 6 دہائیوں سے سیاسی رہنما تباہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ 50 سال پرانے پاکستانیوں نے دو خطرناک جنگیں دیکھی ہیں۔ بد ترین دہشت گردی کے حملے سہے ہیں، تین مارشل لاء برداشت کئے ہیں اور ایک ملٹری  سول حکمرانی کا دور دیکھا ہے،  سیاست کی ہولناک قسم کی اذیت  سے پاکستانی گزرے ہیں اور انہیں  قید کیا گیا، خودکش بم بلاسٹ ہوئے، سکولوں میں اور مسجدوں میں دہشت گرد حملے، اسلام کے نام پر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، فرقہ ورانہ اور نسلی جھڑپیں، پرس اور عدالت کا منہ بند کروایا گیا، زوالفقار علی بھٹو کو پھانسی، بینظیر بھٹو کا قتل، اکبر بگٹی کا قتل اور کئی اس قسم کی اموات۔ یہ سب نوجوانوں کو ان کے لاشعور میں مایوس کن طور پر ذہن نشین کروا یا گیا ہے۔ نوجوان طبقے کا زندگی کی طرف رویہ بیان کرنے کے لئے مایوسی بہترین لفظ ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے لئے زندگی کی بدترین حقیقت یہ ہے کہ انہیں نہ ختم ہونے والی کوشش کرتے رہنا ہے کہ وہ اس بے انصاف، عدم مساوات، مایوس کن ، کینا پرور اور بد عنوان سسٹم  سے نجات حاصل کر سکیں۔ ان کی مایوسی بجا ہے۔ یہ بھی حیران کن نہیں کہ 8 ملین سےزیادہ لوگ پاکستان میں   ایسے ہیں جو نشہ کی لعنت کا شکار ہیں۔  اور زیادہ تر ان میں 15 سے 25 سال کے جوان  ہیں۔ وہ ایسی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سوال کئے بغیر کہنا مانے جانے کی توقع کی جاتی ہے اور پیسہ اور طاقت  کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ، نسل اور ذات ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور فرقے اور نسلی وابستگی کو ایک مذہبی فریضہ مانا جاتا ہے۔ نوجوانوں نے ایک چیز تو دیکھی ہے: اپنے بزرگوں کے زبانی اصول اور قول و عمل میں فرق۔ اور یہ کہنے اور کرنے میں فرق ہی انہوں نے بنیادی اصول اور زندگی کی سچائی سمجھا ہے اور اس طرح کی تربیت ایک منافقانہ نظام کو تشکیل دیتی ہے۔ پاکستانی نوجوان مسائل کے انبار کا سامنا کر رہا ہے: جیسا کہ جنونیت۔ عسکریت پسندی اور شدت پسندی، میرٹ کی کمی، بے روزگاری، تعلیمی نظام میں بگاڑ،سیاسی تشدد، سخت گیر فیملی سسٹم کا دباؤ اور وحشت ۔پاکستان میں نشے کے استعمال پر 2013 کی سروے رپورٹ: خواب آور ادویات اور نشے کے کنٹرول کے پاکستان بیورو اور یونائیٹڈ نیشن آفس کی مشترکہ ریسرچ  کہتی ہے کہ  7.6 ملین  نشہ میں مبتلا ہیں جن میں سے 78 ٪ مرد اااور 22 ٪ خواتین ہیں۔ Cannabis پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نشہ ہے اور 4 ملین لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔اور ایک فیصد   Opiates جسے اوپیم اور ہیروئین کہا جاتا ہے کا استعمال کرتے ہیں۔  اور 860000 اس کے نشہ میں مکمل طور پر غرق  ہیں۔  اور تین ملین لوگوں کو پروفیشنل علاج کی  اشد ضرورت ہے۔ لیکن موجودہ ڈھانچے کی بنیادپر ہر سال صرف 30000 نشہ  کرنے والے لوگوں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ 40000 لوگ ہر سال اس نشے کی لت میں پڑتے ہیں۔  اور سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے  ہیروئین کے نشے کے عادی پہلے سے ذیادہ ہو رہے ہیں اور ان کی عمر 24 سال سے کم ہے۔ اور یہ بتانے کے لیے  کسی تقریر کی ضرورت نہیں  کہ نشے کے برے اور خوفناک نتائج سکول سے ہی بتانے چاہییں۔ اور وسیع پیمانے پر مہمات چلانی چاہییں خاص طور پر  الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے  جس کا ذیادہ اثر ہو۔ لیکن زیادہ ضروری ہے ان وجوہات کو ڈھونڈ نکالنا  اور ختم کرنا جونوجوانوں کو  اس نشے کی عادت میں  مبتلا کر  دیتی ہیں۔ کیا یہ ایک منافقانہ  نظام اور بے انصافی نہیں جو انہیں نشے کی راہ پر ڈالتی ہے؟ نوجوان والدین اور اساتذہ کے محکمانہ رویے کے شکار ہیں اور محبت اور چاہت سے محروم ہیں۔ بد قسمتی سے کوئی  بھی ان کے مسائل سمجھنے اور ہمدردی کرنے کا روادار نہیں۔  نا بالغ ، مجرم اور بدقسمت نشے کا عادی دھتکارا جاتا ہے اور آسانی سے سب ذمہ دار لوگ اس کی ذمہ داری سے خود کو  سبک دوش  سمجھ کر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو موجودہ اداروں کو چلاتے ہیں  اور مسئلے کو جانتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ   سمجھنے کی کوشش کریں کہ  نوجوان نسل کرپشن، عسکریت پسندی، پیسے کی طاقت کے پجاری سسٹم سے مایوس ہیں اور دل برداشتہ ہیں۔  اور وہ مزید اس دقیانوسی سستم کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ اور ان میں سے زیادہ تر جنہیں اور کوئی راستہ نہیں ملتا ان منشیات کے استعمال یا دہشت گردی میں نجات ڈھونڈتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *