ماضی کے انتخابات اور موجودہ الیکشن

پاکستان کے پہلے باقاعدہ انتخابات ملک بننے کے تقریباٍ تئیس برس بعد ہوئے ۔ اتنی دیر بعد کیوں ہوئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس آئین کے تحت
انتخابات ہونے تھے ، اسے ایوب خاں کے مارشل لاء نے ختم کر دیا اور پھر اپنی پسند کا آئین بنا دیا تھا۔(1956میں پہلاآئین بنا ، 1958 میں معطل ہوا، اور 1962میں نیا آئین بنا) جب ایوب خان کی حکومت 1965کی اپنی ہی چھیڑی ہوئی پاک بھارت جنگ میں مطلوبہ نتائج لینے میں ناکام ہو گئی تو ملک شدید بے چینی کا شکار ہو گیا ، پچھلے دور کی ساری ترقی جنگ کی تباہی میں صفر ہو گئی تو وہ استعفا دینے پر مجبور کر دیے گئے ۔ ان سے زبردستی استعفا لیا گیا ، بالکل اسی طرح جس طرح پرویزمشرف کی ناکامی کے بعد ان کے نائبین نے ان سے استعفا لیا تھا۔چنانچہ جنرل یحییٰ خاں نے ان کو زبر دستی رخصت کرکے ایک عارضی انتظام کے تحت ( لیگل فریم ورک آرڈر ) انیس سو ستر میں یہ انتخابات کروائے تھے۔ ان انتخابات کو پاکستان کی تاریخ کے سب سے منصفانہ انتخابات کہا جاتا ہے ۔ لیکن ان کا رزلٹ عملی طور پر تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک ٹوٹ گیا ۔ اس کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ قانون ضابطے کے مطابق جیتنے والی پارٹی ( شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ )کو حکومت بنانے کی دعوت دینی چاہیے تھی ، لیکن یحییٰ خاں چاہتے تھے کہ شیخ مجیب الرحمان ان کو اپنی آیندہ حکومت کا صدر مان لیں لیکن وہ اس پر راضی نہ ہوئے ۔ وہ فوج کے سیاسی کردار کے حامی نہیں تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاست دان یحییٰ خاں کو اس پر مجبور کرتے اور وہ مجیب کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ،لیکن ہوا یہ کہ اس وقت کی مغربی پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں، اسی طرح فوجی قیادت کی ہم نوا ہو گئیں ، جس طرح وہ آج نون لیگ کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑی ہیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انھوں نے مغربی پاکستان ہی سے بغاوت کر دی اور ہماری فوج اپنے ہی آدھے ملک( مشرقی پاکستان ) سے شکست کھا کر بھارت کی قیدی بن گئی ۔ بھارت کی قیدی اس لیے بنی کہ لاکھوں بنگالی خانہ جنگی کے باعث بھارت چلے گئے تھے اور بھارت نے ان کی مدد کی ، بالکل اسی طرح، جس طرح ہم نے افغانستان سے پاکستان آئے ہوئے مہاجرین کی مدد کی اور انھیں افغانستان لڑنے کے لیے واپس بھیجا اور ان کی مدد کے لیے اپنے مجاہدین اور فوجی بھی بھیجے ۔ جس طرح طالبان کی حکومت ہماری شکرگزار تھی، اسی طرح مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بننے والی نئی ریاست بھارت کی شکر گزار تھی اور شکر گزار ہے۔( افغانستان میں اب ایسا کیوں نہیں ، یہ ایک الگ موضوع ہے ، اس پر پھر بات کریں گے ۔ )یوں بھارتیوں نے ہماری فوج کو قید کر لیا اور حکومت مجیب الرحمان کے سپرد کر دی ۔
اس حادثے کے بعد باقی بچ جانے والا پاکستان، دوسری بڑی پارٹی یعنی پیپلز پارٹی کے سپرد کر دیا گیا اور بھٹو صاحب وزیراعظم بن گئے ۔ یاد رہے کہ یہ سارا نقصان کس وجہ سے ہوا ؟ انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے ۔بھٹو صاحب نے پانچ برس گزارنے کے بجائے ، قریباًچار برس ہی کے بعد الیکشن کرا دیے ۔ وہ جیت گئے لیکن اپوزیشن نے دھاندلی کاشور مچا دیا ۔ بہت احتجاج کے بعد بھٹو صاحب نے اپوزیشن کے مطالبات مان لیے اور جہاں جہاں شکایات تھیں ، الیکشن دوبارہ کرانے کا اعلان کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ معاہدے پر دستخط ہو گئے لیکن اس کا اعلان کرنے سے پہلے ہی ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا دیا(1977)۔ اکثر لوگوں کو اس حقیقت کا علم ہی نہ ہو سکا کہ ضیاء نے اس وقت مارشل لاء لگایا جب سیاست دان معاہدے پر پہنچ چکے تھے۔
یہ ساری مصیبت کیوں آئی ؟ اس لیے کہ الیکشن کے نتائج تسلیم نہ کیے گئے۔
بہر کیف ضیاء الحق نے اسلام کا نام استعمال کیا اور 1985تک مارشل کے تحت حکومت کی اور غیر جماعتی الیکشن کرائے ۔ پھر اپنے ہی کرائے گئے الیکشن کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو 1988میں ختم کر دیا ۔ اسی سال وہ ایک پراسرار فضائی حادثے کا شکار ہوئے اور ان کے مرنے کے بعد آئین کے مطابق 1989میں الیکشن ہوئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ الیکشن ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی جیت گئی۔ یعنی 1977کے الیکشن کے نتائج کو اس لیے تسلیم نہ کیا گیا کہ پیپلز پارٹی جیتی ہے ، لیکن گیارہ برس بعد ایک مارشل لاء بھگتنے کے بعداسی پارٹی کی جیت کو قبول کر لیا گیا ۔ یعنی سو جوتے بھی کھائے اور پیاز بھی ! ذرا ٹھہر کر ان جوتوں اور پیازوں کا جائزہ لیجیے :
جرنیلوں سے کوڑے کھائے ، پابند سلاسل ہوئے ،لاکھوں پاکستانی ہیروئن کے عادی ہوئے ، اصل میں فسادی لیکن جہادی کہلائے ! فرقہ پرستی ،عدم برداشت اور کلاشنکوف کلچر ملا ، سیاست میں ایم کیو ایم ،جئے سندھ ، لشکر طیبہ ، لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ ، سپاہ محمد اور نہ جانے کیا کیا الا بلا ۔۔۔ہاں ایک اور چیز بھی ملی ۔۔۔’’ اسلامی نظام ‘‘!ایسا اسلامی نظام کہ نہ سزائیں نہ جزائیں !! اندازہ کریں عدالتوں سمیت ساراملک کرپشن کرپشن پکار رہا ہے ، موبائل سے لے کر جہاز تک چوری ہوئے ، ملک میں پورے کا پورا ’’اسلامی نظام‘‘ نافذ ہے لیکن کسی چور کے ہاتھ نہیں کٹے ، تعلیم سے لے کر تفریح تک اور دوا سے لے کر غذا تک، کوئی چیز خالص دستیاب نہیں، نہ جانے کتنی زینب بے آبرو ہوئیں ،کتنے نقیب تہ تیغ ہوئے، لاکھوں بے قصور قتل ہوئے مگر یہ اسلامی نظام کسی کا کچھ بگاڑ نہ سکا۔مزید برکات ملاحظہ فرمائیں کہ مسلمان اتنے بدبخت ہوئے کہ رسولﷺ کو مان کر بھی گستاخی کے مرتکب ہونے لگے! ( اس قانون کے نفاذ کے بعد پوری اسلامی تاریخ میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان ’’گستاخی رسول ‘‘ کے مرتکب نہیں ہوئے )
توجب پیپلز پارٹی کی جیت ( 1988) سے یہ اندازہ ہوا کہ اعدادو شمار خاصے بدل چکے ہیں، اس لیے بدمزہ نتائج کو زیادہ عرصہ برداشت کرنا ممکن نہ رہا ۔ چنانچہ شور مچایا کہ یہ کرپٹ ہیں ،سیکورٹی رسک ہیں۔ انھیں فارغ کر کے نئے الیکشن کا ڈول ڈالا گیا ۔اس دفعہ ( 1990) پسندیدہ رزلٹ لانے میں کامیابی ہوئی۔ اس لیے اپنا نیا بندہ پیدا کیا، سیاسی جماعت زندہ کی اور نواز شریف نئے وزیر اعظم بنے ۔مگر ان کی دو چار دولتیوں ہی سے بے زار ہوکر پھر بے نظیر کو لے آئے( 1993) ، بے نظیر دوسری دفعہ بھی ’’اوارے ‘ میں نہ آئی تو دوبارہ نواز شریف پر کاٹھی ڈالی(1997)یوں دونوں کو دو ،دو بار موقع دیا مگر جب معلوم ہوا کہ ان کو’’ عقل‘‘ نہیں آنی تو بساط ہی لپیٹ دی۔ ان چاروں انتخابات پر غور کریں ۔
ان کے نتائج تسلیم کرنے کے بعد ، اپنی مرضی کی حکومت بھی آنے دی مگر پھر بھی ان کو دھتکارا گیا ۔ یوں عوام یہ فیصلہ ہی نہ کر پائے کہ ان کا انتخاب ٹھیک تھا کہ غلط۔
اب عوام کے سامنے نیا تماشا پیش کیا گیا۔پرویز مشرف اپنی ڈگ ڈگی بجا کر دو عدد وزیراعظم نما بندر نچاکر عوام کو بہلاتا رہا۔ مگر عوام نے اس کے تماشے کو رد کر دیا ۔ 2008 کے انتخابات میں پرانی جماعتیں اس عذر کے ساتھ کھڑی تھیں کہ ہمیں تو کارکردگی کا موقع ہی نہ ملا۔اس لیے وہ اپنا اپنا’’ مظلومیت چورن‘‘ بیچنے کی پوزیشن میں تھیں۔ دونوں برابر سرابر تھیں۔ لیکن نواز شریف کی ’ن ‘جیت جاتی تو بہت رسوائی ہوتی ، اس لیے ایسی جماعت کو جتوایا گیا جو جیت کر بھی ہارنے جیسے کیفیت سے دوچار تھی۔ بینظیر شہید کرا دی گئیں اور زرداری کے اوپر ہما بٹھا دیا گیا۔مگر اس دفعہ ’’ چوروں ‘‘ کو مور پڑ گئے ۔ مشرف نے جیسے ہی وردی اتاری ، ہر طرف شور مچ گیا کہ بادشاہ ننگا ہے ۔ وہ بے چارا شرم کا مارا باہر بھاگا۔یوں پہلی دفعہ پانچ برس جیسے تیسے گزر گئے اور پہلی دفعہ قاعدے ضابطے کے مطابق نگران حکومت کی نگرانی میں انتخابات ہوئے۔ پی پی پی کی حکومت کارکردگی کی بنیاد پر میدان میں تھی۔اس طرح 2013میں خاصی حد تک جمہوریت کا جھاڑو عوام کے ہاتھ میں آیا اور نتائج سامنے آئے تو پاکستانی عوام نے ثابت کر دیا کہ وہ مردہ پرست نہیں ہے ، ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسی جا سکتی۔ پی پی ہار چکی تھی۔ بھٹو اب واقعی مر چکا تھا۔جس کو ضیا ء اور اس کے جانشین زبردستی مارنے کی کوشش میں ناکام ہوئے تھے، عوام نے ایک ہی ہلے میں ان کا کام تمام کر دیا۔ پانچ برس گزارنے کے عمل کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ پی پی پی اب مرکز میں اپنے بل پر حکومت بنانے کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے ۔ 2013کے انتخابات کا رزلٹ سامنے آیا تو حالات ہماری اسٹیبلشمنٹ کے لیے وہی بن گئے جو ضیاء الحق کے مرنے اور بے نظیر کے جیتنے پر بنے تھے۔ اب نواز شریف بھی پہلے والا نہیں تھا ۔ وہ اب اپنی مرضی سے چلنا چاہتا تھا۔ وہ پچھلے حساب بھی برابر کرنے پر تل گیا۔ کسی مخالف کو خاطر میں نہ لانے کا تہیہ کیے بیٹھا تھا۔ اس کا یہ موڈ دیکھ کر عمران خان کو ہلا شیری دی گئی اور اس کے بعد حالات سب کے سامنے ہیں ۔ دھرنا، اسلام آباد پہلے عمران سے بند کرایا اور پھر خادم رضوی سے، پھر پانامہ ۔ ہر چال پر نواز شریف کمزور سے کمزور پڑتے گئے۔وہ اپنا دفاع بھی طریقے سلیقے سے نہ کرسکے۔ چنانچہ نااہل ہوئے ، اور پھر مستقبل کی امید مریم سمیت گیارہ برس کی سزا ئے سخت کے حق دار ٹھہرے۔اور اب 2018 کے انتخابات سر کھڑے ہیں ۔اور ذرا حقائق ملاحظہ فرمائیں :
*اپنی ساری کمزوریوں ، غلطیوں اور بیڈ گورنس کے باوجودن لیگ نے جو کارکردگی دکھائی وہ مقابلتاً تمام جمہوری حکومتوں سے بہت زیادہ ہے ۔ 4.5فیصد GDPنے اسے اپنے ماضی کی تمام جمہوری حکومتوں سے ممیز کر دیا ہے۔ عالمی اقتصادی اداروں نے اس دور کی معیشت کو ’’ سٹیبل ‘‘ قرار دیااور اسے ’’B‘‘ کیٹیگری سے نوازا۔یوں یہ کسی بھی جمہوری حکومت کی پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ کامیابی ہے ۔ کوئی بھی نیٹ پر سرچ کرکے اس کی تصدیق کر سکتا ہے ۔
* اہم ترین مسئلے یعنی لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی پر محتاط سے محتاط بھی بات کی جائے تو نواز شریف حکومت ستر فی صد کامیابی حاصل کر چکی ہے۔ لمبی چوڑی تحقیق میں پڑے بغیر ذرا زرداری دور ہی کو یاد کر لیں، بات واضح ہو جائے گی۔
* نواز شریف کی نااہلی کے بعد حکومت کو بہت بڑا دھچکا لگا۔ مقبولیت میں خاصی کمی ہوئی مگر پارٹی مستحکم رہی۔ یہی وجہ ہے انتخابات سے پہلے کیے گئے سرویز میں اسے پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی اور اکثریتی پارٹی قرار دیا گیا۔
* میڈیا پر سب سے زیادہ وقت حاصل کرنے کے باوجود ، اسٹیبلشمنٹ ، عدلیہ اور بیو رو کریسی کی واضح اور بھاری مدد کے بعد بھی پی ٹی آئی فیصلہ کن جیت سے دور ہے ۔اور اگر نواز شریف وطن واپس آگئے تو یہ دوری بہت بڑھ جائے گی۔
کاش ایسا ہوتا کہ محض کارکردگی کی بنیاد پر یہ الیکشن ہوتے۔ لیکن ایسا نہیں ہے ۔ اس لیے مقتدر قوتوں کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ 1970کی پالیسی اختیار کرتے ہیں یا 2008 کی یا 2013 کی ۔ حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ ہم 1970کی طرف جارہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *