زمین پر چلنے اور پانی میں تیرنے والا روبوٹ

ہارورڈ: حشرات اور کیڑوں سے متاثر ہوکر ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک ایسا روبوٹ بنایا ہے جو زمین پر چلتا ہے اور پانی میں تیرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سمندر کے فرش پر چل بھی سکتا ہے۔

اسے ہارورڈ امبیولیٹری مائیکروبوٹ یا ایچ اے ایم آر کہا جاتا ہے۔ یہ روبوٹ انتہائی آڑے ترچھے موڑ لے سکتا ہے اور ہلکا پھلکا وزن بھی اٹھا سکتا ہے۔ اس کا وزن کاغذات جوڑنے والے کلپ کے برابر ہے جو پانی میں تیرسکتا ہے اور پانی کے فرش پر چل بھی سکتا ہے۔

اسے ہارورڈ یونیورسٹی میں جان اے پالسن اسکول آف انجینئرنگ کےماہرین نے تیار کیا ہے۔ ہلکا ہونے کے باوجود یہ پانی کا سطحی تناؤ (سرفیس ٹینشن) توڑ کر پانی کے اندر چلا جاتا ہے اور ڈوب جاتا ہے جبکہ تہہ میں بیٹھنے کے بعد یہ وہاں آسانی سے چل سکتا ہے۔

یہ ایک بہت چھوٹا سا مائیکروبوٹ ہے جس کا وزن صرف 1.65 گرام ہے جبکہ یہ 1.44 گرام ساماناٹھاسکتا ہے۔ مائیکروبوٹ خشکی اور پانی دونوں میں بہ آسانی چل سکتا ہے۔ ایچ اے ایم آرخطرناک ماحول میں جاسکتا ہے اور ساتھ ہی لوگوں کی تلاش اور جان بچانے کا مشن بھی انجام دےسکتا ہے جس کی تفصیلات ہفت روزہ نیچر میں شائع ہوئی ہیں۔

یکن اتنے ہلکے اور چھوٹے روبوٹ کو ڈبونا اور تیرانا سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوا تھا۔ اس کے چپو نما چار پیر ہیں جو اسے پانی پر کھڑا ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کی تیاری میں طبیعیات کے اصولوں کو بطورِ خاص مدِ نظر رکھا گیا ہے جن میں سے ایک الیکٹرو ویٹنگ کا اصول بھی ہے۔

جب اس کے پیروں پر وولٹیج دیا جاتا ہے تو اس کے پیر کا زاویہ کچھ بدلتا ہے اور یہ پانی میں اترجاتا ہے۔ اس طرح بجلی کی کمی بیشی سے یہ پانی اور خشکی پر چلتا ہے۔ اگلے مرحلے میں ماہرین اسے مزید دیرپا اور زائد وزن اٹھانے کے قابل بنانا چاہتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *