خواب تھا، جو کچھ کہ دیکھا !قسط نمبر (3)

’’کھڑکی میں کھڑے کیا دیکھ رہے ہو ؟‘‘شبانہ نے کسی قدر تیز آواز میں پو چھا ’’میں تمہاری بیوی نہیں کہ انتظار کرتی پھروں !‘‘
پستہ قد شخص کھڑکی سے ہٹ آیا اور مسکراتا ہوا بولا ’’سالا بھی آجائے تو پھر بات کرتا ہوں۔‘‘
شبانہ اسے گھورتی رہ گئی، ’’سالا !کیا کہہ رہے ہو؟‘‘وہ اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے بولی ۔
’’پچھلے ہفتے تم میرے ایک دوست کویہاں لائیں پھر تم نے اسے لوٹا اور پٹائی بھی کی ،کی نا؟پر فکر نہ کرو، میں یہاں بدلہ لینے نہیں آیا ۔‘‘
’’ہوش میں آؤ بونے !’’شبانہ حقارت سے پھنکارتے ہوئے بولی ’’ہاتھی سے گنے چھیننے کی کوشش نہ کرو۔‘‘
پستہ قد شخص تمسخر سے دانت نکالتے ہوئے بولا ’’گڈو !مفت کی کھاتے ہوئے بہت گزر گئی اب ذرا ہاتھ پاؤں بھی ہلاؤ !‘‘
اتنے میں دروازہ کھلا اور راجو اندر آگیا ، پہلے جب وہ یوں اچانک کمرے میں آیا کرتا ، شبانہ کپڑے اتار کر برہنہ تن یوں بستر پر دراز ہوا کرتی کہ راجو کو زخمی اور غیرت مند بھائی کا کردار ادا کرنے کا نادر مو قع مل جاتا۔
’’آؤ میرے وحشی پرندے ، پستہ قد شخص بولا ’’تم سے ملنے کا بڑا اشتیاق تھا مجھے ۔‘‘
راجو نے اس عجیب و غریب صورتِ حال سے پریشان ہو کر سوالیہ نگاہوں سے شبانہ کی طرف دیکھا ؟
’’مجھ سے کیا پوچھتے ہو ؟ میرا خیال ہے یہ شخص پاگل ہے ، شاید ......‘‘ شبانہ نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا ۔
راجو نے اند ر آکر دروازہ بند کر دیا اور بولا ’’ اوکے مسٹر ! بٹوا اور گھڑی میرے حوالے کر دو ۔‘‘
پستہ قد شخص خوفزدہ ہوئے بغیر مسکراتا رہا ۔
’’ بند کر و یہ دانت نکالنا ، یہاں ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار نہیں چل رہا ‘‘ راجو نے جار حانہ انداز میں کہا ۔
پستہ قد شخص نے تیزی سے پیچھے ہٹ کر کہا ’’ تمہیں کیا چاہیے ؟ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے تیزی سے جیب میں ہاتھ ڈالااور اسی پھرتی سے گن نکال کر راجو پر تان دی اور کہا ’’ میرے پاس تو یہ ہی ہے ۔‘‘
’’ آخر تم چاہتے کیا ہو ؟‘‘ راجو نے پیچھے ہٹتے ہو ئے کہا اور شبانہ بھی سانس کھنچ کر رہ گئی ۔
’’ میں تمہاری قسمت بدلنے آیا ہوں ، اور تم ہو کہ تمہیں رنگ بازی سے فرصت نہیں !‘‘
’’ تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟‘‘
’’ میرے پاس ایک منصوبہ ہے ، کوئی بڑی رقم جو تم صرف سوچ سکتے ہو ، کمانا چاہو تو کل شام 6بجے میرئیٹ ہوٹل کے کمرہ نمبر 140میں آجانا ، میں وہیں تمہارا انتظار کروں گا ، میرا نام گلاب خان ہے ‘‘اس نے یہ کہا اور دونوں کو حیران و پریشان چھوڑ کر تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا ۔ باہر آسمان سے اب بھی ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی ۔
مزید پڑھنے کیلئیے یہاں کلک کریں"خواب تھا، جو کچھ دیکھا ! (قسط نمبر 1)"
میرئیٹ ہوٹل سے پچاس گز دور سب انسپکٹر جاوید احمد اپنی کار میں بیٹھا صدر دروازے کی نگرانی کر رہا تھا ۔ امریکن سنٹر کی قربت کی وجہ سے ارد گرد زیادہ رونق نہ تھی، سفید کپڑوں میں بھی کچھ پولیس والے ادھر ادھر نظریں جمائے ہوئے تھے اور پھر انسپکٹر جاوید احمد کو اطلاع تھی کہ کریم بھا اس ہوٹل میں ٹھہر ا ہوا ہے ۔انسپکٹر جاوید سگریٹ سلگا کر ہوٹل میں آنے جانے والوں کو دیکھتا رہا ۔کچھ دیر بعد اس نے شبانہ اور راجو کو بھی اندر جاتے دیکھا اور سٹوڈنٹس سمجھ کر نظر انداز کر دیا ۔ گلاب خان کی ہدایت پر یہ دونوں بہن بھائی ذرا بھیس بدل کر یہاں آئے تھے ۔ البتہ دونوں بہن بھائیوں نے انسپکٹر جاوید کو ضرور تاڑ لیا تھا ۔’’ کار میں بیٹھے ہوئے اس شخص کو دیکھو ......چٹ کپڑیا ہے !‘‘شبانہ نے سرگوشی کے انداز میں کہا ۔
دستک سن کر گلاب خان نے دروازہ کھولا اور انگوٹھے کے اشارے سے انہیں اندر آنے کو کہا ،شبانہ اور راجو ایک آراستہ کمرے سے گزرتے ہوئے خواب گا ہ میں آن پہنچے ۔ سگار دانتوں میں دبائے کریم بھا جو کھڑکی کے قریب بیٹھا تھا تو گہری نگاہوں سے دونوں کا جائزہ لینے پر دونوں بہن بھائی موزوں ہی لگے ۔راجو اور شبانہ نے کریم بھا کا شہرہ تو بہت سن رکھا تھا مگر اس شخص میں انہیں کو ئی خاص بات نظر نہ آئی ۔ ’’ ہوٹل کے باہر ایک جاسوس نگرانی کررہا ہے ۔‘‘راجو نے گلا ب خان کو مطلع کیا ۔
ایک لمحے کے لئے گلاب خان کا رنگ اڑ گیا مگر کریم بھا نے لاپرواہی ظاہر کی اور کہا ’’ پرواہ نہ کرو، وہ امریکن سنٹر کی حفاظت کے لئے ہے، ان کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں کہ یہاں کچھ ابلیس ا کٹھے ہورہے ہیں ۔‘‘

مزید پڑھنے کیلئیے یہاں کلک کریں"خواب تھا، جو کچھ دیکھا ! (قسط نمبر 2)"
کریم بھا نے سگار کا کش لیا اور راجو کے چہرے پر نگاہ ڈالتے ہوئے کہا ’’ یہ تمہارے چہرے پر نشان کیسا ہے ؟‘‘ایک رنڈی نے دانت گاڑھ دیے تھے ، کہہ رہی تھی تم بہت میٹھے ہو ، کہیں تمہیں شوگر تو نہیں ‘‘ راجو نے بیٹھتے ہوئے لاپرواہی سے جواب دیا ۔
پھران کی گفتگو میں ایک طویل وقفہ حائل ہوا اور اس دوران کریم بھا کا چہرہ سرخ ہو گیا اور چھوٹی چھوٹی آنکھیں تو گویا چنگاریاں چھوڑنے لگیں ’’سن پٹھے ، جب میں کچھ پوچھوں تو نرم لہجے میں جواب دیا کر ، سمجھے ؟
’’ ضرور ‘‘راجو نے بدستور تجاہل عارفانہ سے کہا ’’ لیکن میر ا چہرہ میری ما ں نے پیدا کیا ہے اور تمہارے با پ کا اس میں یقیناکوئی حصہ نہیں ۔‘‘
راجو کے اس رویے کو دیکھتے ہوئے گلاب خان نے پریشان ہو کر کریم بھا کی طرف دیکھا ۔
’’ میں تم دونوں کو ایک کام دے رہا ہوں ، دونوں کو اس کام کا ایک ایک لاکھ روپیہ ملے گا ؟‘‘
’’ہم چلتے ہیں ......یہاں مونگ پھلی بیچنے نہیں آئے ‘‘شبانہ نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
’’ کام کچھ بھی ہو 10لاکھ سے کم نہ لیں گے ’’ راجو نے کہا او ر وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا ۔
’’ ایسا ہے تو کام کی نوعیت جانے بغیر تمہیں اس کا بیڑا اٹھانے کا اقرار کر نا ہو گا ’’ کریم بھا بولا ’’ اور کام جاننے کے بعد اگر انکار کرو گے تو یہ سمجھ لو کہ تمہارے ماں باپ کو بھی کسی خاص گھڑی میں کی ہوئی اپنی ملاقات پہ ہمیشہ افسوس رہے گا ۔‘‘
دونوں بہن بھائیوں نے کچھ سوچتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ، پچھلے دو ہفتے بہت بُرے گزرے تھے ، ان کی آمدنی نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ روزی کمانے کے لیے شبانہ کو یاد آرہا تھا کہ پچھلے دنوں اسے ایسے لوگوں کے ساتھ بھی سونا پڑا تھا جن کا منہ کبھی اُن کی ماں نے بھی نہ چوما ہو گا ۔ ان حالات میں دس لاکھ ان کے لیے بہت بڑی رقم تھی ، اتنی بڑی رقم کا کبھی خواب بھی نہ دیکھا تھا ۔
آمادگی کے طور پر شبانہ کے سر کی جنبش پا کر راجو بولا ،’’ ٹھیک ہے ، کام بتاؤ ‘‘اس کی طرف سے آمادگی کا اشارہ ملتے ہی کریم بھا نے منصوبہ ظاہر کردیا ، لڑکی کے متعلق اس نے بتا یا کہ کہ وہ ایک ارب پتی کی بیٹی ہے اور اس کا باپ پولیس کے پاس جا نے کی بجائے آسانی سے تاوان ادا کر دے گا ۔‘‘
کافی دیر خاموشی چھائی رہی ۔ پھر راجو نے سر ہلا کر کہا ’’ یہ کام پھانسی کے پھندے پر پہنچا سکتا ہے ۔‘‘
’’ہاں ، میں اپنے کارکنوں کو پوری مزدوری دیتا ہوں کیونکہ میرے کام ہی ایسے ہوتے ہیں ......تخت یا تختہ......لیکن یہ بات اچھی طرح جان لو کہ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا ۔‘‘
راجو کی آنکھیں چمک اٹھیں مگر چہرہ بے تاثر ہی رہا ’’ ٹھیک ہے ،خلیفے.....بات میں دم ہے ۔‘‘
’’ او کے اب سنو ‘‘کریم بھا نے نیا سلگا ر سلگانے کے بعد کہا ’’ لڑکی کی نقل و حرکت میں چیک کرتا رہا ہوں ۔ وہ ہر منگل کونسلنگ کے لئے ڈاکٹر مسرت کے پاس جاتی ہے اور واپسی میں ڈیفنس کلب میں لنچ کرتی ہے ۔ اسے بائی پولر کی بیماری ہے ، پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ہو جاتی ہے ۔گویا خوش ہوئی تو منہ موتی سے بھر دیا اور غصے میں آئی تو کھڑے کھڑے دیوار میں چنوا دے گی۔ طبیعت میں رومان کوٹ کوٹ کے بھرا ہے ، شعرو شاعری کا شوق حد سے زیادہ ہے، اپنے آپ کو پروین شاکر سمجھتی ہے ۔لاکھوں خرچ کرتی ہے اور وہ بھی اس قدر تیز کہ بس ۔پچھلے 2برس سے اس کا یہی معمول ہے اس کی رہائش گا ہ کلفٹن میں مرحوم بھٹو کی رہائش سے 7گھر چھوڑ کر ہے ۔ گھر سے مین روڈ ایک فرلانگ دور ہے جبکہ گھر کے گر د قلعہ نما چار دیواری بنی ہوئی ہے اور داخلے کے لیے ایک گیٹ ہے ۔کوئی ملاقاتی آئے تو گیٹ سے کال کرتا ہے اور رہائش گاہ سے گارڈ بٹن دبا کر گیٹ کا قفل کھو ل دیتا ہے۔ بٹن کے دبتے ہی گیٹ میں دوڑنے والی برقی رو بھی کٹ جاتی ہے ۔ لڑکی گھر سے 11بجے کے قریب روانہ ہو جاتی ہے اور11بج کر پا نچ منٹ پر گیٹ پر پہنچ جاتی ہے’’ کریم بھا نے رک کر شبانہ کی طرف دیکھا اور انگلی سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’ یہاں سے تمہارا کا م شروع ہو تا ہے اس لئے غور سے سنو ۔تم وہاں کار لے کر 10:55پر پہنچو گی اور گاڑی روک کر کار کا ہڈ اٹھا دو گی، گلا ب تمہارے ساتھ جائے گا لیکن کچھ دور چہل قدمی کر رہا ہو گا جیسے کسی کا گھر ڈھونڈ رہا ہو ۔گیٹ سے باہر آتے ہی لڑکی گاڑی کو سیدھا کرے گی اور تم آگے بڑھ کر اسے اشارے سے رکنے کیلئے کہو گی ،وہ فوراََ رک جائے گی ، اسے کسی خطرے کی بو سونگھنے کا ادراک نہیں ، بلکہ ہر نئے پنگے میں اسے لطف آتا ہے ۔اب تم اس کے پاس جا کر اپنی کار کی خرابی ظاہر کرکے سروس سٹیشن تک لفٹ مانگو گی ، وہ تمہیں کار میں بیٹھنے کے لیے کہے گی اور کلفٹن تک چل دے گی ، تمہارے روانہ ہونے کے بعد گلاب خان گاڑی میں احتیاط سے تعاقب کر ے گا ‘‘ تھوڑے وقفے بعد کریم بھا نے غور سے شبا نہ کو دیکھا’’ یہ وہ وقت ہو گا ، جب راستے میں ڈرا دھمکا کر تم لڑکی کو قائل کر دو گی کہ اگر اس نے تمہارے کہنے پر عمل نہ کیا تو تم تیزاب سے اس کا چہرہ مسخ کردو گی ‘‘ کریم بھا نے رک کر جیکٹ کی جیب میں سے چھو ٹاسا فلاسک نکالا ‘‘اس میں گندھک کا تیزاب ہے اور فلاسک کے سرے کو دبانے سے تیزاب کسی تیز فوارے کی طرح اچھل کر باہر گرتا ہے ، اسے خوفزدہ کرنے کے لیے تم فلاسک کار کی گدی کی طرف کرکے اس کا سرا دباؤ گی ، گدی کو جلتا دیکھ کر وہ بلا چون چرا تمہارے کہنے پر عمل کرے گی ۔‘‘
شبانہ نے ہاتھ بڑھا کر فلاسک پکڑا اور کمال بے نیازی سے بولی ’’تم فکر نہ کرو ، میں اناڑی نہیں ہوں۔‘‘
’’ بہت خوب آگے سنو ‘‘کریم بھا بولا ، ’’ پھر تم اسے ہدایت کرو گی کہ کار کو ساحل سمندر پر ویلنج ریسٹورنٹ تک لے جائے ، وہاں اس وقت کار پارک کرنے کیلئے کافی جگہ خالی ہو گی ، گلاب خان تمہارے پیچھے وہاں پہنچے گا ، پھر تم اور وہ لڑکی اس کی کار وہیں پارکنگ میں چھوڑ کر گلاب خان کی کا ر میں پچھلی سیٹ میں بیٹھو گی ۔اگر چہ امیدنہیں کہ تیزاب کی نمائش کے بعد لڑکی بغاوت کی جرات کرے تا ہم اس کی کڑی نگرانی کرنا ہو گی ، سمجھ گئیں ؟‘‘
شبانہ نے اثبات میں سر ہلا یا ۔
اب کے کریم بھا نے گلاب خان کی طرف دیکھا اور کہا ’’ دونوں لڑ کیوں کو نشاط کدہ لے کر تم پہنچو گے ۔‘‘
’’ نشاط کدہ کتنے بجے پہنچنا ہے ؟‘‘ گلاب خان بولا ۔
اس کا سوال نظر انداز کر کے کریم بھا نے راجو کی طرف دیکھا اور کہا ’’اب تم کان کھول کر غور سے سنو یہاں سے اب تمہار ا کام شروع ہو جائے گا ۔نشاط کدہ میں وہ شخص پہلے سے تم لوگوں کا منتظر ہو گا جو کہ تاوان کے متعلق لڑکی کے والد سے معاملہ طے کر سکے، ہم میں سے کوئی بھی لڑکی کے والد سے رابطہ قائم نہیں کر ے گا ،تم نے کبھی قمر شریف کے متعلق سنا ہے ؟‘‘
شبانہ بولی ’’ اس نام کا ایک شخص ڈرامے لکھتا ہے تمہارا اشارہ اس کی طر ف تو نہیں ؟‘‘
’’ بالکل‘‘ کریم بھا بولا،’’ ذہین آدمی ہے ، وہ لڑکی کے والد کو اچھی طرح قائل کر سکے گا ۔‘‘
’’لیکن وہ تمہارا آلہ کار کیوں بنے گا ؟‘‘راجو نے سوال کیا ۔
’’ کیونکہ اس کی ایک خوبصورت بیوی ہے اور اس کا بچہ اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہے ‘‘ کریم بھا نے خباثت سے مسکراتے ہوئے کہا ’’ نشاط کدہ آج کل اس کی عارضی رہائش گا ہ ہے ۔یہ انتہائی تنہا اور الگ تھلگ مقام ہے ’’ کریم بھا نے رک کر سگار کی راکھ جھاڑی’’ گلاب خان اور تم دونوں اس لڑکی کے ساتھ نشاط کدہ میں رہو گے ۔‘‘
’’ یہ شخص قمر شریف کہیں ٹیڑھی کھیر ثابت نہ ہو ‘‘ راجو نے شبہ ظاہر کیا ۔
’’ تو تم کس مرض کی دوا ہو ؟ تم اسے ہراساں کروگے اور ہر دم اس پر چھائے رہو گے ‘‘ کریم بھا بولا ’’ اس تنہا مقام پر وہ اپنی بیوی ، بچے ، نو کر بیرو اور ایک بوھلی کتی کے ساتھ مقیم ہے ، تمہارا پہلا کام کتے اور بیرو کا بندو بست کر نا اور پھر قمر شریف کو سنبھالنا ہو گا ، سمجھے ؟‘‘
’’ کتے کو تو خیر میں ختم کرہی دونگا ‘‘ راجو نے ارادہ ظاہر کیا ’’ لیکن نوکر کا کیا انتظام کرنا ہو گا ؟‘‘
’’ نوکر گھر سے کچھ دو رایک کیبن میں رہتا ہے ، اسے وہیں باندھ دینا ، بیرو ان لوگو ں میں سے ہے جو کسی صور ت اخلاق کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،علاوہ ازیں تمہیں ٹیلیفون اور وہاں موجود کاروں کو بھی ناکارہ کرنا ہو گا ، اس بلوچ سردار نے نشاط کدہ میں نمائش کیلئے ہتھیار بھی جمع کر رکھے ہیں ، ان ہتھیاروں پر قبضہ کر کے انہیں چھپا دینا اور پھر گلاب خان کا انتظار کر نا ۔‘‘
راجو اٹھ کر کرسی کے پاس گیا اور پردے کو چھوئے بغیر گردن لمبی کر کے باہر جھانکنے لگا ’’ اس چٹ کپڑےئے کا کیا کرو گے ؟‘‘
’’ کچھ بھی نہیں ‘‘کریم بھا بولا ’’ تم دونوں نیچے جا کر چپکے سے نکل جا نا ،گلاب خان تمہیں موبائل پر باقی ہدایات دیتا رہے گا ۔‘‘
راجونے بالوں میں ہاتھ سے کنگھی کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا اور کہا ’’ کچھ پیسوں کی ضرورت ہو گی ....‘‘
’’ لفافے میں دس ہزار موجود ہیں ‘‘ اس نے لفافہ راجو کی طرف بڑھایا ’’ ضرورت ہو تو گلاب خان سے اور مانگ لینا ، وہ تمہیں کار بھی فراہم کردے گا ۔‘‘
پیر اور منگل کی درمیانی شب 3بجے حسب ہدایت راجوموٹر سائیکل پر سوار ہو کر نشاط کدہ پہنچا ۔آج دن کافی حبس زدہ گزرا تھا البتہ رات ٹھنڈی تھی اور تیز سمندری ہوا چل رہی تھی اس پر کرنوں سے رات خوب منور تھی۔ پہلی مرتبہ کسی بڑے کام میں ہاتھ ڈالتے ہوئے وہ کچھ مضطرب اور بے چین سا تھا ، اس کی نگاہیں بار بار ادھر ادھر جائزہ لے رہی تھیں وہ نہیں چاہتا کہ بوھلی کتے کیلئے جو زہر آلود گوشت وہ ساتھ لیتا آیا تھا کوئی اسے دیکھے اس نے نظر میں آئے بناگوشت کتے کی طرف اچھالا ۔دس ہی منٹ بعد وہ ریت میں کتے کی تدفین کر چکا تھا اس کے بعد وہ گھر کی طرف چل دیا اور وہاں ٹیلیفون کی تاروں کو ڈھونڈ کر انہیں بھی کاٹ دیا ، پھر کوئی شور پیدا کیے بنا ہتھیاروں کو ٹھکانے لگایا ۔ ریت کے وسیع انبار کسی بھی شے کو چھپانے میں بہت مدد گار تھے اور یہ ساری کاروائی پو پھٹنے سے پہلے مکمل ہو چکی تھی
ہر کام تسلی بخش انداز سے ہورہا تھا اور اب اسے بیرو سے نپٹنا تھا ، اس نے پتلون کی تنگ لمبی جیب میں سے سائیکل کی چین نکالی ۔ لڑائی جھگڑے میں یہ اس کا امن پسند ہتھیار تھا ۔ بیرو ایک کمزور اور بے حوصلہ انسان تھا ، راجو چپکے سے وارد ہوا تو کھٹکے سے بیرو کی آنکھ کھل گئی ، وہ اچانک ایک اجنبی کواپنے سامنے دیکھ کر ششدر رہ گیا ،چیخنے کے لیے اس نے منہ کھولا ہی تھا کہ راجو کو دایاں ہاتھ لہرایا اور چین کھل کر پوری قوت سے بیرو کے چہرے پر پڑی ۔ضرب زوردار تھی، اس کے چہرے سے لہوکا فوارہ چھوٹ نکلا ۔ تھوڑی ہی دیر میں بیرو نیم جان پڑا تھا ۔
زوبیہ میمن اگر ارب پتی میمن کی بیٹی نہ ہوتی توبھی اپنی شکل و صورت ، ذہانت اور تعلیم کی بدولت کوئی ماڈل گرل ضرور نظر آتی لیکن باپ کی بے انتہا دولت نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دئیے تھے ۔
بلاشبہ وہ کسی مرد کے دل کی دھڑکنیں تیز کر نے پر قادر تھی لیکن ڈپرشن کے دنوں میں اس کی شخصیت یکسر بدل جاتی ،اسے اپنی ذات سے نفرت سی ہو جاتی ، البتہ جنون کے دنوں میں وہ ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہتی ، اس کی ذات میں ایک کرشمہ تھا جس سے ہر کوئی سحر زدہ ہو جاتا۔بڑی بڑی نیلی آنکھوں سے ہوش ربا رومانیت ٹپکتی رہتی ۔ناک
خوبصور ت اور منہ کی ساخت تو دلکش تھی ہی مگر ٹھوڑی اس قدر حسین تھی کہ دیکھنے والے کی نظر شاید یہیں ٹکی رہتی اگر اسے آگے کے مقامات پر پہنچنے کی جلدی نہ ہوتی ۔لمبا قد اور نسوانی حسن سے مالا مال زوبیہ سینکڑوں دلوں کی دھڑکن تھی لیکن کسی ایک کو چن لینا اس کی سر شت میں نہ تھا ۔ وہ دور رہ کر محبت کو تازہ رکھنے پر یقین رکھتی تھی ۔وہ بچپن سے ہی بگڑی ہوئی تھی اور اب 26سال کی عمر کو پہنچ کر بوریت ،جنسی بھوک اور چڑ چڑے پن کا شکار ہوکر رہ گئی تھی ۔یوں دنیا کی ہر نعمت اور آسائش میسر ہونے کے باوجود گھر بسانے کے بارے میں اس نے سوچنا چھوڑ دیا تھا ، وہ جی بھر کے شراب پیتی ، نت نئے فیشن اپناتی اور ہر روز کسی نہ کسی کا دل جیتتی ۔ وہ اکثر کہا کرتی کہ اگر اس کا باپ اتنا امیر نہ ہوتا تو اب تک اس کی شادی ہو چکی ہو تی اور وہ کم از کم آدھ درجن بچوں کی ماں بن چکی ہو تی ۔
منگل کی صبح 11بج کر 7منٹ پر زوبیہ میمن جونہی گیٹ سے نکلی تو پلان کے مطابق شبانہ نے گاڑی کا ہڈ بند کیا ،آگے بڑھی اور بڑی لجاجت سے لفٹ مانگی ۔زوبیہ نے خوش دلی سے اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔تقریباََ 150گز دور سے گلاب خان نے شبانہ کو زوبیہ کی کار میں بیٹھتے ہوئے دیکھ لیا تھا ، اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔ اس نے شبانہ کی گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسٹیرنگ وہیل کے پیچھے بیٹھ گیا ۔
عقبی آئینے پر نظر پڑتے ہی زوبیہ بڑ بڑائی ’’ او مائی گاڈ!‘‘’’کیوں کیا ہوا ؟‘‘ شبانہ نے چونک کر پوچھا ۔
’’ کم بخت ایک سارجنٹ پیچھے آرہا ہے، شا ید اس نے مجھے اشارہ کاٹتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔ سارجنٹ موٹر سائیکل پر تیزی سے آگے آیا اور زوبیہ کو رُکنا ہی پڑا ، شبانہ کا دل دھڑک اُٹھا اور اس نے منہ دوسر ی طرف پھیر لیا ۔
’’ مجھے افسوس ہے محترمہ !آپ کا چالا ن ہو گا ۔‘‘
’’ تم شاید مجھے جانتے نہیں ، میں مجید میمن کی بیٹی ہوں ......آگے سے ہٹو ، ورنہ پیٹی اتر وادوں گی ۔‘‘
’’ میڈم گاڑی آہستہ چلایا کریں ‘‘ سارجنٹ نے گاڑی اسٹارٹ کی اور گاڑی کے آگے سے گھوم کر مڑا۔ ’’ دونوں سہلیاں موڈ میں لگتی ہیں ‘‘ وہ منہ میں بڑ بڑایا ، اسی اثنا میں اس کی نظر شبانہ پر پڑی ’’ یہ ٹپوری اس کے ساتھ ، دال میں کچھ کالا ہے ‘‘ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔
گلاب خان ان کے قریب سے گذر کر آگے نکل گیا تھا۔زوبیہ نے اچانک کچھ سمجھتے ہوئے تیزی سے کہا ’’ یہ آگے جانے والی کار تمہاری لگتی ہے ؟‘‘
شبانہ نے کہا ’’میری کار؟یہ کیسے ممکن ہے ؟‘‘
شبانہ نے مڑ کر عقبی کھڑکی میں سے دیکھا ۔ ٹریفک کا سپاہی بہت پیچھے رہ گیا تھا ۔ یہ تسلی کرتے ہی شبانہ نے ہینڈ بیگ کھول کر فلاسک نکالی ۔
زوبیہ نے پوچھا ’’ یہ کیا ہے ؟‘‘
تیز کھنکھناتی ہو ئی آواز میں شبانہ نے سو چے سمجھے طریقے سے اسے سب کچھ بتا دیا ۔
نشاط کدہ بہت وحشت زدہ لگ رہا تھا، قمر شریف دبے پاؤں لابی سے ہو تا ہوا کچن کی طرف بڑھا اور اچانک دروازے میں سے راجو کا مسخ شدہ چہرہ دیکھ کر اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا ۔راجو ایک لیگ پیس بھنبھوڑ رہا تھا ، ایسی صورت حال دیکھ کر قمر تو کیا اچھے اچھوں کا پتا پانی ہو جاتا ۔
’’ کون ہو تم اور کیا کررہے ہو؟ قمر کی آواز پھنس کر رہ گئی ۔
جیب سے چین نکالتے ہوئے راجو بولا ’’سن ہیرو! میں جو کوئی بھی ہوں، کچھ عرصہ یہیں رہوں گا اور اگر تم نے زیادہ چیں چاں کی تو تمہاری گڈو بیگم اور بچے کی خیر نہیں ‘‘اس نے آہستہ آہستہ کلائی پر زنجیر لپیٹنا شروع کر دی ۔
اتنے میں صبیحہ وہاں آگئی اور راجو کو دیکھ کر دم بخو درہ گئی ۔راجو نے دانت نکالتے ہوئے اسے غور سے دیکھا ’’ ہیلو گڑیا ! جلدی سے میرے لئے کافی بنا دو ورنہ تمہارے خصم کی پسلیاں توڑ دوں گا ۔‘‘
قمر نے قدم بڑھانا چاہا مگر خوفزدہ صبیحہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک دیا ’’ نہیں قمر، میں کافی بنا تی ہوں ۔‘‘
قمراپنے تعلیمی زمانے میں اچھا مکے باز رہا تھا لیکن وہ راجو کا مد مقابل پھر بھی نہ تھا ، اس نے جان لیا کہ دھکم پیل کا کوئی فائدہ نہیں ، اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔
صبیحہ اٹھی اور جا کر کافی میکر پلگ لگا دیا ۔یکا یک اُسے کسی کے گرنے کی آواز آئی ، اُ س نے مڑ کر دیکھا تو یہ قمر کے دھڑام سے زمین پر گرنے کی آواز تھی ۔صبیحہ ایک چیخ مار کر اس کی طرگ بڑھی ۔قمر کا سار ا جسم پسینے سے نہایا ہوا تھا ۔
موٹے اور بھدے لبوں میں سگریٹ لٹکائے راجو نشاط کدہ کے برآمدے میں کھڑا کافی کے گھونٹ لے رہا تھا ۔ ’’ تمہار ا خصم بے ہوش ہوا تھا یا ڈراما کر رہا تھا ؟‘‘راجو نے صبیحہ سے پوچھا ۔
’’ اسے شوگر ہے اور جب وہ انسولین لگا کر پورا ناشتہ نہیں کرتا تو اس طرح بے ہوش جاتا ہے ۔ پھر اُ سے ہوش میں لانے کیلئے منہ میں چینی رکھنی پڑتی ہے ‘‘ صبیحہ نے بتا یا
’’ تو تم اس کا علاج کیوں نہیں کراتی ، اپن کے پاس ایک نسخہ ہے شوگر کا ، ماں قسم ایک دفعہ ، سب صاف ہو جائے گا ‘‘ راجو بولا۔
’’لیکن راجو بھائی پہلے ہمیں اس مصیبت سے تو نکلنے دو ‘‘صبیحہ نے لجاجت سے کہا ۔
ایک کار چند گزر دور آکر رک گئی جسے گلاب خان ڈرائیو کر رہا تھا ۔
’’ سب ٹھیک ہے ؟ ‘‘گلاب خان نے گاڑی سے اُترتے ہی پوچھا ۔
’’ہاں ‘‘ راجو نے جواب دیا ۔
زوبیہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی اپنے خوف پر قابو پاچکی تھی اور اپنی ہمیشہ کی تجسس نگا ہوں سے راجو کا جائزہ لے رہی تھی ، گلاب خان نے اسے یہ بتا یا تھا کہ فکر کی کوئی بات نہیں اور اسے یہ یقین بھی ہو چلا تھا کہ زر فدیہ لیتے ہی یہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے ۔نیلی جین میں ملبوس یہ گندا سا لڑکا اپنے داغ دار چہرے کے باوجود زوبیہ کو دلکش لگا ۔ یہ بالکل ان بد معاشوں جیسا تھا ،جنہیں فلموں میں دیکھ کر زوبیہ کی رگوں میں موجو د نام کا لہو تیزی سے دوڑنے لگتا تھا ۔راجو ہنسکر بولا ’’ میں راجو ہوں ،تمہارا کیانام ہے بے بی ؟‘‘
’’ زبیہ میمن ‘‘ راجو کے چوڑے کندھوں اور مضبوط ہاتھوں پر نظر ڈالتے ہوئے وہ بولی’’ تم بھی ان لوگوں کے ساتھی ہو؟’’ ہاں بے بی، چلو اندر‘‘اس نے آگے بڑھ کر اپنائیت سے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ دیا ۔راجو کے جسم کی بدبو اور گردن پر جمی میل سے زوبیہ کو ذرا کر اہت محسوس نہ ہوئی ۔
’’کوئی بات نہیں بے بی ، بڑا وقت پڑا ہے، نپٹ لوں گا ۔‘‘ راجو بھی آپے سے باہر ہو رہا تھا ۔
شبانہ کے اشارے پر زوبیہ اندر کی طرف چل دی ۔ ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہی گلاب خان نے پوچھا ’’ قمر شریف کا کیا کیا ہے ؟‘‘
’’فرنٹ روم میں ہے ۔‘‘
’’اور کتا ؟‘‘
’’ اسے دفنا دیا ہے ۔‘‘
’’اور نوکر کا کیا بنا ؟‘‘
’’ وہ کیبن میں بند ہے ‘‘
’’ بھاگ نہ جائے کہیں !‘‘
’’نہیں بھاگے گا ‘‘
اسی اثنا میں گلاب خان کی نظر ٹیلی ویژن سکرین پر پڑی ۔ ایک ہوائی جہاز دنیا کی بلند ترین عمارت کی طرف اڑا چلا جا رہا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے جہاز بلڈنگ میں گھس گیا اور بلڈنگ اپنے قدموں پر ہی نیچے کی طرف گرنے لگی ۔
’’او!یاخدایا !یہ کیا ہوا؟‘‘ گلاب خان بولا ۔

(باقی آئندہ ) شائع کردہ 26 نومبر 2004

مزید پڑھنے کیلئیے یہاں کلک کریں"خواب تھا، جو کچھ دیکھا ! (قسط نمبر 1)"

مزید پڑھنے کیلئیے یہاں کلک کریں"خواب تھا، جو کچھ دیکھا ! (قسط نمبر 2)"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *