پاک زمبابوے ون ڈے سیریز سے قبل نیا تنازع سامنے آگیا

پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز سے قبل ایک نئے تنازع کی وجہ سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی بولاوئیو شہر روانگی میں تاخیر ہوگئی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی زمبابوے کے شہر بولاوائیو روانگی روک دی گئی، زمبابوین کرکٹ بورڈ کی بد انتظامی اور مالی بحران کے اثرات دونوں ٹیموں کے درمیان ہونے والی ون ڈے سیریز پر پڑتے نظر آرہے ہیں۔

ماضی میں بھی زمبابوے میں میچز بد انتظامی کی نذر ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان پانچ ون ڈے میچز 13، 16، 18، 20 اور 22 جولائی کو کھیلے جانے ہیں۔

زمبابوے کرکٹ بورڈ کے مالی بحران کے اثرات پاکستان اور زمبابوے کی ون ڈے سیریز پر بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ بولاوائیو میں جس ہوٹل میں ٹیم کو ٹھہرنا ہے اس ہوٹل کو ایڈوانس میں ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان ٹیم کی روانگی میں مزید 3 دن کی تاخیر ہوگئی ہے۔

تین دن بعد پاکستان ٹیم ممکنہ طور پر بولاوائیو روانہ ہوگی۔ پاکستان ٹیم ہوٹل سے ایئرپورٹ روانگی کے لیے تیار تھی تاہم انہیں روانگی سے روک دیا گیا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم انتظامیہ نے ون ڈے سیریز بولاوائیو سے ہرارے منتقل کرنے کی تجویز دی تھی لیکن زمبابوین کرکٹ بورڈ نے یہ تجویز ماننے سے انکارکردیا۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی پیر کی شام ہرارے کے جس ہوٹل سے ایئرپورٹ جانے کے لیے چیک آؤٹ ہوئے تھے انہیں لابی ہی سے واپس کمروں میں شفٹ کردیا گیا۔

پاکستانی کھلاڑی کئی گھنٹے ہوٹل لابی میں انتظار کے بعد کمروں میں سامان رکھ کر کھانا کھانے مختلف ریسٹورنٹس کی جانب روانہ ہوگئے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کی اب ممکنہ روانگی جمعرات کو ہوگی۔ جمعے کو پہلا ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عین موقع پر بولاوائیو سے اطلاع آئی کہ ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹل نے بکنگ منسوخ کردی ہے۔

پاکستان ٹیم اب ہرارے میں مزید تین دن قیام کرے گی۔ منگل اور بدھ کو پاکستانی کھلاڑی ہرارے ہی میں پریکٹس کریں گے۔

پاکستان ٹیم کو جوائن کرنے کے لیے بابر اعظم، امام الحق، یاسر شاہ اور جنید خان ہرارے پہنچ گئے ہیں جبکہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد شاہین شاہ آفریدی، حسین طلعت اور صاحبزادہ فرحان وطن واپس آگئے ہیں۔

زمبابوے کرکٹ بورڈ کئی برسوں سے مالی بحران کا شکار ہے۔ سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ سے قبل بھی زمبابوے کے کھلاڑیوں نے سیریز نہ کھیلنے کی دھمکی دی تھی لیکن کرکٹرز کو معاوضوں کی ادائیگی کے بعد سیریز کھیلنے کے لیے رضامند کیا گیا تھا۔

زمبابوے میں گزشتہ روز ختم ہونے والے سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے زیادہ تر اسپانسرز پاکستانی ہی تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *