نواز شریف کا سحرکیوں طاری ہے؟

نواز شریف اور ان کی سیاسی جانشین اور بیٹی مریم نواز کو احتساب عدالت نے کرپشن کے الزامات میں جو سزا دی ہے اس کے بعد آنے والے الیکشنز میں ن لیگ کی قیادت کے لیے بہت بڑے سوالات کھڑے ہو چکے ہیں۔ فیصلہ بلا شبہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور دونوں قائدین جو اس وقت لندن میں مسٹر شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز جو کہ شدید بیمار ہیں کے پاس ہیں، اپنی ضمانت کے حصول کی کوشش کریں گے اور ان کی اپیلوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اگر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان کے گرد گھیراؤ ڈال دیا جائے اور ان کی ضمانت سے انکار کیا گیا تو پارٹی واقعی طور پر انتخابات کے آخری دنوں انتخابی مہم میں مفلوج ہو کر رہ جائے گی کیونکہ اس کی مہم کا زیادہ تر انحصار نواز شریف اور ان کی بیٹی پر تھا۔ عدالت سے وزارت عظمی، پارٹی لیڈر شپ اور الیکشن کے لیے نواز کی نا اہلی کے فیصلے کے بعد ان کے بھائی وزیراعظم کے امیدوار اور پارٹی صدر شہباز شریف ملک کے سب سے مشہور صوبہ کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے کارناموں کی بنیاد پر مہم چلاتے رہے ہیں۔ لیکن سیاسی تبصرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ عوام کی توجہ کا مرکز شریف اور ان کی بیٹی اور ان کا یہ بیانیہ ہے کہ انہیں سویلین بالادستی کے لیے آواز اٹھانے پر طاقت ور اداروں جیسے کہ ملک کی فوج کی طرف سے سزا دی جا رہی ہے۔ اس بیانیہ کو عوام میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ موجودہ عوامی سروے، جنوہں نے مجھے بھی حیران کر دیا ہے کیونکہ ان سرویز کو مغرب میں بہت اہمیت کا حامل اور برابری پر مبنی سمجھا جاتا ہے کہ مطابق پی ٹی آئی کے مقابلے میں اب بھی ن لیگ زیادہ مقبولیت رکھتی ہے۔ اب یہ برتری خطرے میں نظر آ رہی ہے اگر مہم شہباز شریف پر ہی چھوڑ دی جائے جو اگرچہ اچھے ایڈمنسٹریٹر مانے جاتے ہیں لیکن جو بجٹ کے اندر رہتے ہوئے بڑے بڑے پراجیکٹ  مکمل کروا سکتے ہیں لیکن وہ اتنے پر کشش شخصیت نہیں مانے جاتے۔ یہ عنصر کتنا اہم ہو گا، عدالتی فیصلے کے اعلان کے بعد نیوز کانفرنس میں شہباز شریف کے فوری رد عمل سے اس کا  اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے  عدالتی فیصلے کو ایک سایسی مقصد کے تحت کیا گیا فیصلہ قرار دیا  اور فیصلے کو مسترد کر دیا۔ جو لوگ ان سے سخت اور جارحانہ رد عمل کی توقع کر رہے تھے ان کو مایوسی ہوئی اور یہ بات ایک ٹی وی تجزیہ کار نے بھی سر عام تسلیم کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ شہباز شریف نے جارحانہ رد عمل دینے والے رہنماوں کی بات کو نظر انداز کیا اور دھیما انداز اپنانے کی رائے دینے والوں کی بات کو اہمیت دی۔  شاید یہ رویہ طاقت ور اداروں سے چپقلش سے بچنے کے لیے انہیں فائدہ مند نظر آ
رہا تھا۔ لیکن ان کے اس دھیمے انداز کی وجہ سے ووٹر کے جذبے کو ابھارنے کا مقصد حاصل نہیں کیا جا سکا ۔ ووٹر پارٹی قیادت سے ہی کسی بھی معاملے میں تاثر لیتے ہیں جو کہ اس معاملہ میں شہباز کے دھیمے پن کی وجہ سے زائل ہو گیا۔ تب نواز شریف نے بھی اعلان کیا کہ وہ تبھی واپس آئیں گے جب ان کی اہلیہ ہوش میں آئیں گی  اور عدالتوں کا سامنا کریں گے۔ مریم نواز نے بھی مزاحمتی رویہ اپنایا۔ یہ بحران ایک سیاسی پارٹی جسے مسلم لیگ ن کہا جاتا ہے کے لیے ایک امتحان ہو گا، جو کہ 1999 کے مارشل لا اور زیادہ تر کارکنان کی پاکستان مسلم لیگ ق میں
شمولیت سے ختم ہوتی نظر آ رہی تھی اور صرف تب بحال ہوئی تھی جب پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بینظیر بھٹو نے ملٹری ڈکٹیٹر مشرف کو این آر او پر مجبور کیا۔ یہ مسز بھٹو ہی تھیں جنہوں نے مسٹر شریف کو سعودی عرب اور یو کے میں جلاوطنی کو ختم کرکے 2008 کے انتخابات میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ اس سے بھی بڑھ کر تب کے چیف جسٹس، جن کی کوششوں کے نتیجے میں مشرف کو باہر ہونا پڑا، شریف کے حق میں کھڑے ہوئے اور پنجاب میں اس سال قدم جمائے اور 2013 میں ملک میں حکومت حاصل کی۔ باپ اور بیٹی کی مزاحمتی سیاست  اور فوج کو اپنے مسائل کا ذمہ دار قرار دینا ہی ایسا معاملہ تھا جس سے بے نظیر بھٹو نے سیاست میں ایک اچھی مقبولیت حاصل کی تھی۔ اگلے چند ہفتے یہ واضح کر دیں گے کہ آیا  مسلم لیگ پنجاب میں اپنی سیاست ایسے ہی زور و شور سے جاری رکھ سکتی ہے یا نہیں۔ موجودہ حالات میں پاکستان مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے بارے میں کوئی بھی تجزیہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا جن کو اس بڑی لڑائی کا کریڈٹ جاتا ہے جس کے بعد ن لیگ کو اس قدر کمزور کر دیا گیا۔ پانامہ دستاویزات کے لیک ہونے کے بعد اور شریف برادران (گو کہ نواز شریف کا نام ان دستاویزات میں موجود نہیں تھا) پر لندن پراپرٹیز کی ملکیت کا الزام لگایا گیا، عمران خان نے تن تنہا لڑائی جاری رکھی کہ یہ معاملہ کسی بھی طرح سے زیر بحث رہے۔ نواز شریف جو اپنی پارلیمانی اکثریت کی وجہ سے حد سے زیادہ پر اعتماد تھے  نے حریف پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی کی وہ رائے نہ ماننے کی ٹھانی جو خور شید شاہ نے ایک پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے پیش کی تھی۔
یہ ایک اچھا اقدام ہوتا اور اس سے معاملہ دور تک جانے سے بچ سکتا تھا لیکن ایسا نہ ہوا۔ جب شریف برادران نے پی پی پی کی تجویز مسترد کی اور کچھ حد تک عدم دلچسپی کے اظہار کے بعد جب سپریم کورٹ نے معاملہ ہاتھ میں لیا  تو پھر کچھ کہا نہیں جا سکتا تھا کہ معاملہ کس طرف بڑھ رہا ہے۔ سپریم کورٹ سےان کی نااہلی اور اب احتساب عدالت کا یہ فیصلہ  سامنے آ چکا ہے۔ اس سطح پر، بہت سے لوگ پوچھ رہے ہوں گے کہ کیا نواز شریف کی گیم ختم ہو چکی ہے۔ ان کے مستقبل کی کنجی ان کے ہاتھ میں ہے، کہ آیا  اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر میڈیا کی وہ ہمدردی لے پاتے ہیں یا نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ جلد واپس آئیں گے۔ اگر وہ واپس آتے ہیں، وہ سیاست سے متعلقہ رہیں گے، چاہے وہ جیل میں ہوں، اور ممکنہ طور پر انتخابات کے صرف دو ہفتوں کے اندر عوام کی توجہ اور ہمایت حاصل کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر لیں۔ ان کی واپسی کی ٹائمنگ بہت اہمیت کی حامل ہے اور یہ فیصلہ بھی بہت مشکل ہے  کیونکہ ان کی اہلیہ کی صحت بہت خطرناک حالات سے دوچار ہے:۔

source : https://www.dawn.com/news/1418509/no-easy-choices-for-sharif

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *