یہ جنگ کرپشن کے خلاف نہیں

پاکستان سپریم کورٹ نے نواز کو  پانامہ پیپرز کیس میں کرپشن کے الزام میں دس سال اور مریم نواز کو سات سال قید کی جو سزا سنائی ہے اس سے دنیا بھر اور خاص طور پر  پاکستان کے عوام کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور لوگ حیران ہیں کہ اس فیصلہ کا احتساب سے کوئی تعلق بھی ہے یا نہیں۔ پاکستان میں اینٹی کرپشن اور احتساب کا مڈل کلاس اور پڑھے لکھے نوجوانوں کے ہاں تذکرہ اکثر سننےکو ملتا ہے۔ لیکن یہ فیصلہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ احتساب کا مطالبہ سول اور ملٹری دونوں کلاسز میں اکثر دہرایا جاتا ہے مشرف اور ضیا کے علاوہ نواز  شریف اور بے نظیر بھی اینٹی کرپشن مہمات کے ذریعے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے آئے ہیں1990 کی دہائی میں ان دونوں سیاسی رہنماوں نے ایک دوسرے کے خلاف بہت سے کیسز بنائے جو عدالتوں نے ختم کیے۔ ملک میں کبھی حقیقی احتساب ممکن نہیں ہوا کیونکہ قومی احتساب بیورو اور قومی احتساب آرڈی نینس کو سیاستدان اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔ دسمبر 2000 میں شریف خاندان کو جلا وطن کر کے سعودیہ بھیج دیا گیا ، اور بہت سے دوسرے سیاست دانوں کے ساتھ بھی احتساب کے نام سے معاہدے کیے گئے۔ قومی احتساب کے قانون کے مطابق کسی بھی کرپشن کے مجرم کو 10 سال قید کی سزا دی جا سکتی تھی۔ لیکن 5 جولائی کو جو فیصلہ سنایا گیا وہ کرپشن سے بلکل بھی متعلق نہیں تھا۔ 2016 میں پانامہ پیپرز کی رپورٹ سے قبل نواز شریف پر کرپشن کے کوئی الزامات نہیں تھے ۔ پانامہ پیپرز میں ایک بڑی لاء فرم جس کا نام موسیک فونسیکا ہے نے بہت سے ایسے رہنماوں کے نام ظاہر کیے جنہوں نے اپنی دولت غیر ممالک میں آف شور کمپنیوں کے ذریعے چھپا رکھی تھی۔ 29 اگست 2016 کو تحریک انصاف کے چئیر
مین عمران خان نے نواز شریف کو پانامہ پیپرز کی بنیاد پر حکومت سے سپریم کورٹ کے ذریعے بر طرف کر وانے کے لیے اپیل کی۔ سپریم کورٹ نے یہ درخواست رد کر دی۔  لیکن جب خان نے دھرنے اور سخت احتجاج کی دھمکی دی تو سپریم کورٹ نے یہ کیس سننے کا فیصلہ کر لیا۔ ممتاز صحافی ضیا ء الدین کا ماننا ہے کہ زیادہ محرک عدالت اس وقت ہوئی جب ڈان لیکس منظر عام پر آئی جس میں سرل المیڈا نے سویلین لیڈر شپ کی طرف سے ملٹری قیادت پر برہمی کے بارے میں ایک سٹوری شائع کی۔ اس اہم موقع سے اونٹ کی رہی سہی گردن بھی ٹوٹ گئی  اور نواز کی معافی کے چانسز ختم ہو گئے۔ اس فیصلے کو جس طرح مرضی پیش کیا جائے،  لیکن یہ بات صاف واضح ہے کہ ہماری عدلیہ نے منافقانہ حد تک نواز شریف کو سیاست سے دور کرنے کی کوشش کی۔ ایک اور اہم فیصلے میں اپریل 2018 میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت صادق اور امین نہ قرار دیتے ہوئے تا حیات  سیاست سے نا اہل قرار دے دیا۔ یہ
ترامیم آئین کے اندر ضیا نے ڈالی تھیں۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اپریل میں کرپشن کیس ابھی جاری تھا  پھر بھی عدالت نے اپنے اندازوں کے مطابق خیالی تنخواہ وصول نہ کرنے پر نواز کو نا اہل قرار دیا تھا۔ ججز کا کہنا تھا کہ اگر نواز نے تنخواہ نہیں لی  تو بھی وہ بعد میں کسی بھی وقت لے سکتے تھے۔ دوسری طرف ایون فیلڈ فلیٹس کے معاملہ میں بھی نواز کی ملکیت ثابت نہیں کی جا سکی تھی۔ لیکن عدالت نے اندازے کے مطابق یہ فیصلہ سنا دیا کہ فلیٹس نواز شریف کے تھے۔ 2016 میں نواز کے خلاف شروع ہونے والی مہم کے لیے یہ فیصلہ من و سلوی کا کام کر گیا۔ پچھلے 6 ماہ سے اینٹی نواز  جنگ پورے زوروں پر تھی  اور ملک کے سب سے بڑے جج یعنی چیف جسٹس اس کی نگرانی کر رہے تھے۔ میڈیا کو زبردستی اپنے  طاقت کے نیچے رکھ کر کچھ صحافیوں کو ساتھ لیے چیف جسٹس پنجاب بھر میں حکومتی کاموں پر سوال پوچھنے پہنچ جاتے تھے۔ ان کی ٹیم میں سابقہ جج جسٹس جاوید اقبال بھی شامل ہوتے جو اس وقت نیب کے چئیر میں ہیں۔ اس میں کوئی  شک نہیں کہ اس سب کا کرپشن کے خلاف لڑائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اصلیت یہ ہے کہ طاقتور فوج اپنے سابقہ کلائنٹ کو سزا دیتے ہوئے ملک کے سیاسی میدان کو نئی شکل دے رہی ہے۔ جس طرح ذوالفقار علی بٹھو کو 71ء میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی لیکن بعد میں انہیں اکیلا چھوڑا گیا اور پھر عدالت کے ذریعے دنیا سے ہی ٹھکانے لگا دیا گیا اسی طرح نواز شریف کو بھی ٹھکانے لگایا جا رہا ہے قبل اس کے کہ ان کی پارٹی زیادہ مضبوط ہو جائے۔ سی پیک، افغانستان سے تعلقات، ٹرمپ اور مودی کو ڈیل کرنا، مسئلہ کشمیر، جیسے معاملات اسٹیبلمشنٹ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے۔ 80 کی دھائی میں بے نظیر کے خلاف کھڑے کیے جانے والے نوا ز شریف ملک میں سیاسی طور پر مضبوط ہو چکے تھے اور اب خود مختاری حاصل کرنے کے لیے مطمئن نظر آتے تھے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ اور آئی ایس آئی کو جو خلائی مخلوق کا نام دیا اس پر ان کی سزا تو ان کو ملنی تھی۔ ملٹری کے کٹھ پتلی زید حامد نے ٹویٹ کیا: اب ان کو مزید سزا ملے گی۔ ان کی ساری دولت ضبط کر لی جائے گی یہاں تک کہ رائیونڈ محل بھی ان سے چھین لیا جائے گا۔ نوازاور ان کی پارٹی کو سزا دے کر کمزور کرنا اسٹیبلمشنٹ کی پالیسی تھی اور اس مقصد کے لیے لیڈر شپ نواز کے بھائی شہباز، مشاہد حسین یا چوہدری نثار جیسے کسی سیاست دان کے سپرد کرنے کا پلان تھا۔ اس سب کے بعد ہماری اعلی عدلیہ معاشرے اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر ایک مذاق کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ سول ملٹری تنازعات کے بیچ میں پس رہی ہے جس کی وجہ اس کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پارٹنرشپ ہے۔ نواز شریف کا حساب کرتے ہوئے اس  نے پرویز مشرف کو ملک سے بھاگنے میں مدد فراہم کی۔ اس نے حکومت پر دباو ڈال کر مشرف کو نیا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی جاری کروایا۔  سپرئیر کورٹ میں ہزاروں کیسز زیر التوا ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایک
پاپولسٹ بن کر تماش بینوں کو خوش کرنے کےلیے قوانین اور عدالتی فیصلوں ک بجائے شاعری کے حوالے دیتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں اداروں کا ٹوٹنا اور بڑھتی ہوئی اتھاریٹیرین ازم ایک بڑا ٹرینڈ بن چکی ہے۔ لیکن جہاں تک پاکستان کے سویلین آئینی تباہی کا تعلق ہے تو یہ بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔

source : https://indianexpress.com/article/opinion/columns/patronage-and-punishment-paksistan-elections-supreme-court-nawaz-sharif-panama-papers-5252549/

یہ جنگ کرپشن کے خلاف نہیں” پر بصرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *