جوڈیشل ایکٹوزم مزید کتنا؟

جوڈیشل ایکٹوازم تبھی مفید ہوتی ہے  جب اس کا احتیاط سے استعمال کیا جائے۔ ۔ بھارت میں،  اور امریکہ میں بھی سپریم کورٹ نے اکثر کنٹرول کی بجائے زیادتی کا طریقہ اپنایا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی حالت قابل رحم ہے۔ ایک وقت تھا جب اس کے فیصلوں کواعلی درجہ کی حیثیت دیتے ہوئے انہیں مثالی قرار دیا جاتا تھا  لیکن اس کے بعد جوڈیشل ایکٹوازم اور ریسٹرینٹ کا مباحثہ شروع ہوا اور کافی عرصہ تک جاری رہا۔ کافی عرصہ پیچھے جیسے کہ 1921 میں جسٹس بنیامین این کارڈوزو نے عدالتی کاروائی کی نوعیت پر لیکچر دیا جس میں انہوں نے ایک اہم انتباہ پیش کیا،''یقینا ججز کے پاس اداروں کے مینڈیٹ کو نظر انداز کرتےہوئے  کوئی فیصلہ جاری کرنے کا اختیارتو ہے، لیکن  حق نہیں ہے۔   ان کے پاس  اداروں کی حدود کو  پھلانگنے کی بھی  طاقت ہے مگر ان کا یہ حق نہیں ہے اور اگر وہ ایسا کرتےہیں تو وہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ آئین کے فنکشن اور اس کی عدیہ کی طرف سے وضاحت کرنے کی آزادی کو غلط سمجھنا در اصل اس مسئلہ کی جڑ ہے۔ جسٹس جاہن مارشل ہارلین نے اپنا نقطہ  ان الفاظ میں پیش کیا ہے، ''آئین ہر عوامی فلاح کے بگاڑ کا علاج نہیں ہے نہ ہی عدالت  کو  جو کہ انصاف کا مجسمہ ہے کو اصلاحی تحریکوں کی جنت سمجھا جاسکتا ہے۔  یہ آئین گورنمنٹ کا ایک   آلہ  ہے، جس کی بنیاد یہ ہے کہ حکومتی اختیار ختم ہونے کی صورت میں  یہ قوم اس پر عمل پیرا ہو کو اپنے فرائض پہچانے۔  یہ عدالت اگر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتی ہے تو  اور سیاسی عوامل کی سستی کی وضاحت کرنے کے لیے بھی ایسا کرتی ہے تویہ اپنے اقبال کی پستی کا باعث بنتی ہے۔ چیف جسٹس ہارلین ایف سٹون  نے کہا: عدالت جمہوری سیاسی کاروائیوں  کا نعم البدل نہیں ہے بلکہ جمہوری عمل کا ایک چھوٹا سا سپلیمنٹ ہے۔ ۔  ایگزیکٹو اور آئینی زیادتیوں کا علاج عدالتوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن عدالتی زیادتیوں کا علاج کون کرے گا؟    "اپنی زیادتی کو روکنے کے لیے ہمیں اپنے اختیارات کےا ستعمال پر کنٹرول کی ضرورت ہے۔ یہ مباحثہ برطانیہ تک پہنچا تو   جوڈیشن ایکٹوازم کے شوقین  لارڈ ڈیننگ کو لارڈ ڈکپلاک نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ 1980 میں اس اہم موقع پر انہوں نے کہا: '' یہ چیز عوام کے عدالت کے غیر جانبدارانہ رویہ پر بھروسے کے لیےخطرناک ہے، جو کہ قانون کے اصولوں کے تسلسل کے لیے ضروری ہے، اگر ججز  اپنی تشریحات کے بہانے اپنی ترجیحات نافذ کرنے لگیں گے  تو اس سے عوامی مفاد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہے گا۔ ''۔ ان میں سے ہر تنقید پچھلے 30 سال میں  بھارتی سپریم کورٹ کی  طرف سے کی جانے والی زیادتیوں  پر صادق آتی ہے۔  اس سپریم کورٹ نے جیل کے نظام، دماغی امراض کے ہسپتال، خواتین کے شیلٹرز جیسے اہم معاملات میں خود ساختہ تشریحات کی ہیں، حکومت کو کنسٹرکشن سائٹ پر لیبر قوانین کے نفاذ کر سختی سے حکم دیا ہے انڈسٹریوں کو سٹیٹ گورنمنٹ کی مدد سے دوبارہ شروع کرنے کیے احکامات جاری کیے ہیں، میڈیکل کالجز میں داخلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے ،  اور یہاں تک کہ امتحانات کے شیڈول تک خود تیار کیے ہیں۔  بڑے شہروں میں ہاکنگ زونز کا بھی تعین کرنے میں اس نے احکامات سامنے آئے ہیں۔ اس نے  بھارتی آئین کے سب سے بڑے معمار ڈاکٹر بی آر ایمبڈکر کی  رائے کے تقدس کو بھی نظرر انداز کیا ہے۔ عدالت نے 1993 کے ایک فیصلے میں خود کو اور ہائی کورٹس کو ججز کی تعیناتی کا اختیار دیا۔  جب کہ رابرٹ سٹیونز کے مطابق جج اگر جج کی تقرری کریں گے تو یہ جمہوریت کی نفی ہو گی۔ 1991میں عدالت  نے یہ تک کہہ دیا کہ کسی بھی جج کے خلاف اس وقت تک کوئی کریمنل کیس درج نہیں کیا جا سکتا جب تک متعلقہ حکام چیف جسٹس سے مشورہ نہ کر لیں۔  چیف جسٹس کی دی گئی رائے کو گورنمنٹ کی طرف سے باقاعدہ احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اہمیت دی جائے۔  اگر چیف جسٹس کی یہ رائے ہو گی کہ یہ کیس قانون کے تحت کاروائی کے لیے نا موزوں ہے تو کیس کو رجسٹر نہیں کیا جائے گا''۔ یہ حکم عدلیہ کے ایک نئے نظریہ کے تحت آیا جو کہ ایک جمہوری ملک میں عدلیہ کے کردار کے منافی ہے۔ "یہ عدالت جو عوام کے حقوق کی اور عدلیہ کی خود مختاری کی محافظ ہے کسی صورت اس طرح کے اہم بیانات کی اہمیت کو کم کرنے کا چانس ضائع ہونے نہیں دیتی۔ شروع سے ہی یہ ایک آئین ساز ادارے کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت عدلیہ کو اس سے کہیں بہتر کردار کی حامل ہے۔ یہ تو جھگڑے ختم اورقانون سازی کرنے سے بھی آگے چلی گئی ہے۔  یہ  غیر محفوظ علاقوں کے مسائل حل کرنے تک اپنے کردار کو طول دے چکی ہے۔ ایسا کوئی مسئلہ نہیں تھا جو کورٹ حل کرنے کے لیے آئے۔  جج  بھی عام عوام کی طرح آئین و قانون کے پابند ہوتے ہیں۔  عدالت کا فیصلہ جوڈیشل ایکٹوازم کی حد سے بھی آگے ہے۔ اس طرح کی حدود کی خلاف ورزی تب دیکھنے کو ملتی ہے جب انتطامیہ کمزور ہو۔ اسی صورت میں ججز طاقت پر قبضہ کر لیتے ہیں

source : https://www.dawn.com/news/1418510/judicial-activism

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *