’امریکا ایرانی تیل خریدنے والے ممالک کو رعایت دے سکتا ہے‘

واشنگٹن: امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکا ان ممالک کو رعایت فراہم کرسکتا ہے جو تیل پر لگائی گئی سخت پابندیوں سے استثنٰی حاصل کرنے کی درخواست کریں گے۔

خیال رہے کہ جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد امریکا کی جانب سے ایران پر عائد کردہ اقتصادی پابندیاں رواں برس 4 نومبر سے نافذالعمل ہوں گی۔

ایرانی سے بڑی مقدار میں تیل برآمد کرنے والے ممالک میں چین اور بھارت شامل ہیں، جبکہ ایک اور درآمدی ملک ترکی نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پابندی کے نفاذ کے بعد بھی ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا۔

اسکائی نیوز عربیہ کے ایک انٹرویو کے دوران جب مائیک پومپیو سے پوچھا گیا کہ امریکا ان ممالک کے ساتھ کس طرح پیش آئے گا جو 4 نومبر کے بعد بھی ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھیں گے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ قابل گرفت حرکت ہوگی، ہم پابندیاں نافذ کر کے رہیں گے‘۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پابندی نافذ ہونے کی صورت میں کچھ ممالک کی جانب سے رعایت طلب کرنے کی توقع ہے، امریکا ان درخواستوں پر غور کرے گا۔

مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ کوئی دھوکے میں نہ رہے ہم ایرانی قیادت کو یہ باآورکرانے کے لیے پر عزم ہیں کہ ان کا خراب رویہ کسی کام نہیں آئے گا اور ملک کی اقتصادی صورتحال اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتی جب تک وہ ایک بہتر قوم نہیں بن جاتے۔

دوسری جانب معتبر اخبار فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس تنبیہہ کے باوجود کچھ ممالک ایرانی تیل پر انحصار کرنے کے سبب امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اخبار میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی طور پر تیل کی کھپت کا دارومدار ایران پر ہے جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر 2.4 ارب بیرل تیل نکالا جاتا ہے، اسلیے ممکن ہے کہ دنیا امریکا کی طرف سے ایرانی تیل پر لگائی گئی مکمل پابندی کی متحمل نہ ہوسکے۔

واضح رہے کہ ایران، سعودی عرب اور روس کے بعد دنیا میں خام تیل برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے، ایرانی سرکاری ادارے کے مطابق رواں برس مئی میں ایرانی تیل کی برآمدات نے 2.617 بیرل فی دن کی ریکارڈ سطح کو چھو لیا تھا۔

تاہم اب نیشنل ایرانین آئل کمپنی کا کہنا ہے امریکا کی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد کہ ایرانی تیل کی برآمدات 5 لاکھ بیرل فی دن کی شرح تک کم ہوسکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *