قوم لوط سے قوم اوت تک

انتخابات کا بخار بھی بہت اخلاق لیوا ہوتا ہے۔ بڑے بڑے معاشرے اس کی تاب نہیں لا پاتے ۔ امریکہ ہی کو لے لیں ۔قوم جانتے بوجھتے مذاق مذاق میں ٹرمپ جیسے جوکر کو صدر بنا بیٹھی۔ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ٹرمپ کی جگت بازی سے متاثر ہو کر ووٹ ڈال دیا۔ متعدد نے سوچا کہ اس نے میرے وجہ سے کہاں صدر بن جانا ہے۔ اور اب وہ صدر ہے۔ برادرم جاوید چودھری نے ایک مرتبہ درست لکھا (’ایک مرتبہ‘ سے مزاح پیدا کرنا منع ہے، آج انھوں نے کمال کا کالم لکھا ہے جس نے نہیں پڑھا ،ضرور پڑھے۔ ) کہ صبح اٹھ کر ایک ٹویٹ کرتا ہے اور ساری دنیا کو پاگل کر دیتا ہے ۔لیکن وہ تو اس کا کمال ہے، ہمارے بہت سوں کے مستقبل کے وزیراعظم عمران خاں ایک بیان داغتا ہے اور سارے انصافیے قوم اوت میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً کل انھوں نے جلسے کی گرمی کے باوجود تقریر کرنے پر اپنی تعریف میں فرمایا کہ اگر میں جہنم میں گیا تو اتنی گرمی برداشت کرنے کے بعد مجھے وہاں گرمی ہی نہیں لگے گی ۔ اب اس نادر جملے کی کیا تعریف کیجیے۔ایک دل جلے نے کہا کہ مجھے اس میں صرف لفظ ’اگر ‘ پر اعتراض ہے ۔ سننے والے کو بات سمجھ ہی میں نہ آئی اور بولا ، بھئی ایک لفظ سے کیا فرق پڑتا ہے ؛ خان کا مطلب اصل میں یہ ہے کہ اللہ مجھ پر اتنا مہربان ہے کہ وہ میری خاطر جہنم کی آگ بھی ٹھنڈی کر دے گا۔ ایک دوسرا بولا : نہیں خان صاحب کا یہ بھی مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ میں پاکستانیوں کی خاطر جہنم میں جانے کو بھی تیار ہوں ۔ کیا ان کا نواز شریف ایسی محبت کی بات کر سکتا ہے ؟ مزید بولے : خدا کی قسم اگر عمران خان جہنم میں گیا تو وہاں دھرنے دے دے کر فرشتوں کی مت مار دے گا ۔ اس نے ثابت کر دینا ہے فرشتوں نے دھاندلی کی ہے اور وہ اپنے ساتھ بڑے بڑے جہنمیوں کو بھی نکال لائے گا ۔ میں نے کہا مثلاً ؟ وہ بے دھڑک بولا : یہ سارے الیکٹیبلز ، بھلا ان کے جہنمی ہونے میں کس کو شک ہے ! واضح رہے موصوف ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو پی ٹی آئی نے طویل خدمت اوروفاداری کے باوجود ٹکٹ نہیں دیا۔قوم اوت کا ایک جری نوجوان مجھ سے پوچھنے لگا کہ سر ، سنا ہے جنرل غفور کی پریس کانفرنس میں سوال کرنے والے ایکسپریس اخبار کے صحافی کو معطل کر دیا ہے ، حالانکہ اس بے چارے نے تو عمران خان کو’ سور‘ کے بجائے ’ ناسور ‘ کہا تھا۔قریب بیٹھے ان کے دوست نے میری بے بسی دیکھتے ہوئے اسے سمجھایا : ’’اصل میں گفورا اس وقت کان میں پینسل پھیر رہا تھا ، اس لیے اسے ’سور‘ ہی سنائی دیا تھا۔‘‘میں نے اس طالب علم کو مطمئن دیکھ کر خاموشی ہی میں بہتری جانی۔
جب سے علامہ اقبال نے سیاست کو مذہب سے دور کرنے سے چنگیز خان کی پیدایش کا اندیشہ ظاہر کیا ہے، اہل مذہب نے اس کو بڑی سنجیدگی سے لیا ہے ۔ چنانچہ ہر فرقے نے حسب توفیق اپنی اپنی سیاسی جماعت بنا ڈالی ہے ۔ کل میں نماز کے لیے مسجد گیا تو مولوی صاحب کو ایک لڑکے کی دھنائی کرتے دیکھا۔ وہ ساتھ ساتھ اپنے اس نیک عمل کی وضاحت بھی فرما رہے تھے کہ ابھی چند روز پہلے مٹی کے چار عدد الیکٹیبلز خریدے تھے ۔ اس ناہنجار نے اس کی ٹوٹی کے ساتھ بد فعلی کر ڈالی ، اور انھیں پھینکنا پڑا۔اصل میں یہ مولوی صاحب مولانا فضل الرحمان کے جان لیوا حد تک نام لیوا ہیں ۔ جمعے کی نماز میں جوش خطابت میں عمران خان سے سوال پو چھ ڈالا کہ اے یہودیوں کے ایجنٹ! تم ہمارے مولانا سے ڈیزل کا حساب مانگتا پھرتا ہے ، پہلے اپنے دو قطروں کا حساب تو دو !
ایک مسلم لیگی سپورٹر نے قوم اوت کے ایک شخص سے پوچھا : ’’آپ نے تو 126دن احتجاج کیا ،ہمیں ایک دن کی بھی اجازت نہیں دیتے ، کیا یہ انصاف ہے ؟ وہ بے دھڑک بولا : ’’ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے ، دشمن سے انصاف کرنے کا کیا تعلق؟ ہماری حکومت آئی تو بچو یاد ہی کروگے، تمہاری جمہوریت کی ایسی کی تیسی ! ‘‘
ایک لحیم شحیم دانشور قسم کے صحافی ہیں جو تصوف کے ساتھ ایسا ہی تعلق رکھتے ہیں جیسا عمران خان اپنی بیٹی ٹیرن کے ساتھ یا نواز شریف لندن فلیٹس کے ساتھ ۔ بیگم کلثوم نواز کے ہوش میںآنے پر ٹی وی چینلز پر مریم اور حسن نواز کے مبینہ متضاد بیانات کو بنیاد بنا کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ ساری قوم اوت اس میں اپنا اپنا حصہ بھی ڈال رہی ہے ۔ انھی کے ایک فین نے انھیں شرم دلائی کہ یہ کیا بات ہوئی ؟ یہ متذکرہ ٹی وی کا بیان ہے جو کہ ان کے مخالفین ہیں ، مریم یا حسن کی ٹویٹ میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔ اتنے بے حس ہو گئے کہ بیمار کو بھی نہ چھوڑا !اس پر قوم اوت کے ایک تبصرہ نگار نے کہا کہ بیگم نے گا کرنواز شریف کو یہ بھی کہا ہو گا کہ..... اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر !
مجھے یادآرہا ہے کہ جب عمران خان لاہور میں پچھلے انتخابات میں لاہور میں سیڑھی سے گر کر زخمی ہو گئے تھے تو نواز شریف اور شہباز شریف دونوں ان کی تیمار داری کے لیے اسپتال پہنچے تھے ۔ واقعی پچھلے الیکشن کے بعد اخلاقیات میں کتنی تبدیلی آ چکی ہے !
باعث عنوانِ تحریر : دروغ بہ گردن راوی کہ برادرم مبین رشید کو کسی نے ریحام خان کی کتاب کا نام یہ تجویز کیا تھا: قوم لوط سے قوم اوت تک ۔مگر انھوں نے کہا:یار اب تو کتاب چھپ گئی ورنہ مراد سعید والے باب کا نام یہ ضرور ہو سکتا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *