امریکی صدر کا 2 طیاروں اور 6 ہیلی کاپٹرز کے ساتھ دورہ برطانیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 12 جولائی (جمعرات) کو 4 روزہ غیر رسمی دورے پر برطانیہ پہنچے اور اپنے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا وفد لاکر ایک نیا 'ریکارڈ' بنادیا۔

امریکی صدر کے وفد میں شامل افراد کی تعداد تو معلوم نہیں مگر وہ 'لاتعداد' سیکرٹ سروس اہلکار، فوجی کمیونیکشن اسٹاف، میڈیا اراکین، ڈاکٹر اور ذاتی باورچی وغیرہ کو لے کر برطانیہ پہنچے۔

امریکی صدر کا طیارہ ائیرفورس ون برطانوی سرزمین پر لینڈ کرتے ہوئے—اے ایف پی فوٹو

امریکی صدر کا طیارہ ائیرفورس ون برطانوی سرزمین پر لینڈ کرتے ہوئے—اے ایف پی فوٹو

ان کا وفد اتنا بڑا تھا کہ تمام افراد کی رہائش کے لیے ہوٹل کے 750 کمروں کو بک کرایا گیا۔

امریکی صدر کے ساتھ 5 فوجی معاون بھی تھے جو اپنے ساتھ ایک سیاہ لیدر بریف کیس لے کر گھومتے ہیں، جس میں وہ انتہائی خفیہ معلومات ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کو جوہری حملے کا اختیار دیتے ہیں۔

نیوکلیئر فٹبال نامی یہ بریف کیس ہمیشہ بیرون ملک سفر کے دوران امریکی صدر کے ساتھ ہوتا ہے۔

نیوکلیئر فٹبال نامی بریف کیس— اے پی فائل فوٹو

نیوکلیئر فٹبال نامی بریف کیس— اے پی فائل فوٹو

امریکی وفد کو برطانیہ پہنچانے کے لیے 2 طیارے اور 6 ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے سرکاری جیٹ ائیرفورس ون میں وہاں پہنچے۔

اور ہاں وہ اپنے ساتھ آفیشل لیموزین 'دی بیسٹ' بھی برطانیہ لے کر گئے ہیں جس کی مالیت 15 لاکھ ڈالرز ہے۔

امریکی وفد کی گاڑیوں کا قافلہ— اے ایف پی فوٹو

امریکی وفد کی گاڑیوں کا قافلہ— اے ایف پی فوٹو

برطانوی حکومت کے ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے طیارے 'اتنے بڑے' تھے کہ برطانوی طیارے اس کے سامنے بہت چھوٹے محسوس ہوتے ہیں۔

صدر بننے کے بعد یہ ڈونلڈ ٹرمپ کا برطانیہ کا پہلا دورہ ہے اور انہوں نے اس غیر رسمی 'ورکنگ' دورہ قرار دے کر اہمیت کو کم کیا ہے، جس کی وجہ لاکھوں افراد کی جانب سے امریکی صدر کے خلاف احتجاج کی دھمکی ہے جبکہ برطانوی پارلیمنٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ پر'نسل پرستانہ' خیالات کی وجہ سے پارلیمنٹ میں آنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *