ریحام خان کی متنازع کتاب میں کیے جانے والے 12 'انکشافات'

گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے اپنی سوانح حیات کی دستیابی کا اعلان کیا تھا۔

اور ریحام خان کے اعلان کے ساتھ ہی ان کی کتاب کی کاپیاں آن لائن پھیلنا شروع ہوگئیں اور متعدد افراد نے سوشل میڈیا کے ذریعے کتاب میں کیے جانے والے دعوے شیئر کیے تھے۔

تحریک انصاف کے اندر سیاست

کتاب کے مطابق 'شاہ محمود قریشی کو ان کے آبائی شہر ملتان کے اکثر پی ٹی آئی کارکن اور مقامی رہائشی بے کار سمجھتے تھے، مگر خواتین میں وہ بہت زیادہ مقبول تھے۔ انہیں ایسے فرد کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو بہت زیادہ بااثر تھا، جو کہ درست بھی تھا، مگر عمران خان ان سے نفرت کرتے اور نجی محفلوں میں ان کا مذاق اڑاتے۔ دوسری جانب جہانگیر ترین زیادہ اثر رکھتے تھے، ہر ایک جانتا تھا کہ عمران خان ان کے لیے ہر اصول توڑ سکتے ہیں۔

'گھر کی ہر چیز جیسے کھجوریں، گائیں، بکریاں، گاڑیاں، پٹرول، تنخواہیں، سیکڑوں درخت اور یہاں تک کہ تعمیراتی کام وغیرہ سب کی ادائیگی دیگر افراد کرتے تھے۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ آخر وہ (عمران خان) اس بات پر توجہ کیوں نہیں دیتے کہ روالپنڈی مقامی باڈیز مٰں غائب ہوچکا ہے، پھر میں نے دریافت کیا کہ بنی گالہ کو سرسبز بنانے کا کام عامر کیانی کے، جو 500 سے زائد درخت لگاتار پی ٹی آئی کے سنیئر نائب صدر (جو کہ ٹکٹ جاری کرنے کا انچارج تھا)کی جائیداد میں پہنچا رہے ہیں، عمران خان کی جنت راولپنڈی کے لوگوں سے زیادہ اہم تھی۔

'ایک اور لابی ایسی تھی جس کے بارے میں لگتا تھا کہ عمران زیادہ شعور نہیں رکھتے، یہ خفیہ طور پر اسد عمر کی سربراہی میں کام کرتی تھی اور اس میں شیریں مزاری اور نعیم الحق موجود تھے۔ میں یہ جان کر دنگ رہ گئی کہ میرے شوہر اس خاتون کے بارے میں کتنی بری زبان استعمال کرتے ہیں۔ میں نے شیریں مزاری کے حوالے سے ان کے رویے کو ہر ممکن حد تک بہتر بنانے کی کوشش کی، مگر عمران خان کا ذہن اس حوالے سے کچھ زیادہ سیٹ ہوچکا تھا'۔

عمران خان کے روحانی مشیران

' ایک نئی خاتون پیر کو 2014 میں عون چوہدری نے عمران خان سے ملایا، یہ اطاعت عمران خان کو مضحکہ خیزی کی ایک نئی بلندی کی جانب لے گئی۔ یہ صرف کالے جادو اور تعویز پر نہیں رکی، میں نے دریافت کیا کہ میرے شوہر ایسی متعدد حیران کن چیزوں پر یقین رکھتے ہیں جو کسی منطق یا انسانی سوچ سے بالاتر ہیں'۔

'اگست میں ووڈو کے آثار ہر جگہ موجود تھے، مجھے بنی گالہ کے محافظوں نے بتایا کہ عالمہ کے شوہر یہاں آئے اور انہوں نے فرنٹ ڈور کے قریب موجود پھولوں کے گملوں میں تعویز دبائے، اسی طرح بھینسوں کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کے کمرے میں موجود گملوں میں عجیب چیزیں پکائی گئیں۔ میرے ذہن نے تو کام کرنا بند کردیا، کالی دال، روحانی مشیران، جادوئی تعویز؟ آخر کس جہنم میں، میں خود کو لے آئی ہوں'۔

عمران خان سے تعلق

' کیا مجھے ان سے محبت تھی؟ اس کا مختصر جواب ہے نہیں۔ مجھے عمران سے محبت نہیں ہوئی تھی، کم از کم اس موقع پر تو نہیں۔ مگر میں یقیناً ان سے جڑ چکی تھی اور اگر میں کہوں تو جھوٹ ہوگا کہ میں ان سے متاثر نہیں تھی'۔

'ابتدائی چند روز کے دوران وہ مجھ سے پوچھتے تھے : ' کیا تم مجھ سے اتنی ہی محبت کرتی ہو جتنی میں تم سے کرتا ہوں، ریحام؟'۔ میں دیانتدارانہ جواب دیتی: 'عمران میں آپ کو ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ چاہنے لگی ہوں'۔

'عمران کا طرز زندگی میرے سماجی دائرے سے بہت زیادہ مختلف تھا، یہ ایک عجیب زندگی تھی، جو کہ جنس، منشیات اور راک اینڈ رول کے گرد گھومتی تھی'۔

عمران خان سے طلاق

'شادی کے دوران اینکرز ہر اس فرد سے رابطہ کرتے جس کا یہ دعویٰ ہوتا کہ وہ مجھے انگلینڈ کے دور سے جانتا ہے اور مجھ پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتے۔ جیسے ہی طلاق کا اعلان ہوا، اینکرز میرے خلاف مہم کی قیادت کرنے لگے'۔

'میں ان ای میلز کو تکتی رہتی جنھوں نے مجھے اس شخص کو چھوڑنے کے لیے کوئی جواز باقی نہیں چھوڑا جس کے بارے میں میرا خیال تھا کہ میں نے اس سے شادی کی ہے، طلاق کے فوری بعد مجھے پر حملے ہوگئے اور ایک وکیل کے مشورے کو مجھے خاموش رکھنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ میرے شوہر نے میرے زندگی بھر کی اذیت کے ساتھ سازش کی'۔

عمران خان کے سابقہ تعلقات

'وہ جمائما خان کے لیے دل میں غصہ رکھتے تھے کیونکہ طلاق کے فوری بعد وکلاءکو ان کی جانب بھیجا گیا، تاکہ مالی معاملات کو حتمی شکل دی جاسکے تاکہ عمران خان بعد میں کوئی دعویٰ نہ کرسکے۔ میرے خیال میں یہ معمول کا عمل تھا، کیونکہ عمران خان کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں تھا اور جمائما دولت مند تھیں، تو ان کی جانب سے یہ عمل متوقع تھا، مگر عمران جمائما کے اس رویے پر شاک رہ گئے اور ان کا اصرار تھا کہ یہ سابقہ اہلیہ کی کمینگی ہے'۔

عائشہ گلالئی

'وہ ایسی خاتون کی طرح نظر آتی تھی جو جذباتی طور پر بہت زیادہ ڈسٹرب ہو، مجھے ان دونوں کی 2016 وہ تصویر یاد ہے جس میں وہ ایک جیسی لیدر جیکٹ پہنے ہوئے تھے اور بنوں سے تعلق رکھنے والی ایک پشتون دلہن کی افواہیں پھیل رہی تھیں۔ مگر یہ ایک اور ایسی کہانی ثابت ہوئی جس میں خاتون کو ظلم اور بے وفائی کا سامنا ہوا'۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *