لڑائی کے بعد پشیمانی میں عمران نے فون خود حوالے کیا

ریحام خان نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے ایک بار لڑائی ہو نے پر نہ صرف معافی مانگی بلکہ پشیمانی میں اپنا موبائل فون بھی اسے دے دیا تھا تاکہ اس میں موجود نازیبا اور قابل اعتراض پیغامات خود ہی ڈیلیٹ کردو۔برطانیہ جانے سے قبل الوادع کہنے کیلئے عمران کو ملنے گئی تو وہ کافی بوجھل لگ رہا تھا اور کافی افسردہ لہجے میں اس نے کہا میں کیوں جارہی ہوں۔باہر جانے کے فوری بعد میں کمرے میں اندر گئی اور عمران کو بتایا کہ میرے پاس برطانوی سم کارڈ نہیں ۔ مجھے کچھ پاؤنڈز درکار ہوں گے تا کہ میں نئی سم لے سکوں ۔اس پر عمران خان باتھ روم میں گیا اور اس نے اپنے بیگ میں موجود تمام 40پاؤنڈ مجھے دے دیے ۔ان میں سے بعض نوٹ انتہائی سخت سے رول کئے گئے تھے ۔لندن واپسی پر میں سوچ رہی تھی کہ بچوں کو اپنی سہیلی سارہ کے پاس چھوڑ کر میں ایک ہفتے میں لوٹ آؤں گی ۔ بے نظیر بھٹو ائیر پورٹ ہی کے وی آئی پی لاؤنچ میں میں نے عمران کے فون پر موجود ای میلز کو بار بار پڑھا اور پھر ان ای میلز کو اسٹار لگانا شروع کر دیے جس کے بعد میر ے پاس اس شخص کے ساتھ رہنے کا کوئی جواز نہیں بچا تھا ۔ محبت کا فریب اور شادی کا تقدس پارہ پارہ ہو چکا تھا ۔ اپنی تکلیف بیان کر نے کیلئے میرے پاس کوئی الفاظ نہیں ۔ میں ان ای میلز کو جیسے جیسے پڑھتی گئی تکلیف کا احساس ہوتا رہا ۔ان ای میلز کے عنوانات ، لوگوں کے نام اور ای میلز کے تبادلے کی تاریخیں پڑھ کر تکلیف سوا ہو گئی ۔ ایسا لگا کہ دنیا مجھ پر ہی گررہی ہو ۔ان میں سے ایک ای میلز تھریڈ بھی پائی گئی جو 24گھنٹے کے دوران عمران اور لاہور کے ایک ہےئر ڈریسر کے درمیان ہوئی ۔ اس میں ایک عورت کو بتایا گیاکہ اس کی جگہ مجھ سے عمران نے شادی کیوں کی ۔عمران نے ایک عورت سے کہا کہ وہ میرے ماضی کے بارے میں اطلاعات اکٹھی کرے ۔ اپنی سابق گرل فرینڈ کرسٹیان بیکریک شخص سے ای میلز کا تبادلہ کئی ہفتوں تک جاری رہا ۔جس میں طلاق کے اعلان کے بعد میرے شوہر کے ممکنہ اقدامات کی اطلاعات دی گئی تھی ۔ میرے ہی شوہر نے میرے سابق ظالم شوہر سے گٹھ جوڑ کر لیا تھا ۔میں ان ای میلز کو اپنے ای میل اکاؤنٹ پر فارورڈ کر نا شروع کردیا ۔ اس سب کے بعد میں نے عمران کو ٹیکسٹ دیا جس کے جواب نے مجھے حیران کردیا ۔ ہمارے درمیان یہ گفتگو ہوئی
عمران : جب چیزیں اچھی ہوتی ہیں تو وہ اپنے ساتھ کچھ لاتی ہیں ۔ہم دونوں منحوس ہیں ۔ اڑان محفوظ ہو ۔
ریحام : تم اللہ سے معافی طلب کرو ۔ میں تمہیں یہ سب کچھ دکھانے کیلئے بنگلے پر واپس آرہی ہوں ۔
عمران : ایک دن میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں تمہارے اور تمہارے ماضی کے بارے میں کیا کچھ پڑھتا رہا ہوں ۔میں بہت کنفیوز اور دل گرفتہ ہوں ۔تم اپنے ماضی کے بارے میں سب کچھ بتا چکی ہو لیکن میں ہی شک کرتا رہا ۔میں نے روحانی شخصیات سے رجوع کیا لیکن مزید ابہام کا شکار ہو گیا ۔میں تو پاگل ہو جاؤں گا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *