جیل کا کھیل

اگلے 10 دن 3 مختلف پارٹیوں کے لیے مندرجہ ذیل  10 نکات  کی روشنی میں واضح کیے جا سکتے ہیں اور معلوم ہو سکتا ہے کہ بے چینی اور پریشانی کے ماحول  میں ان دنوں میں کیا خاص تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔  وہ یہ ہیں:1۔ نواز شریف جیل تو چلے گئے لیکن ہار ماننے سے انکار کر دیا۔  یہ بہت   عجیب
اور نا متوقع  واقعہ  ہے۔ یہ معاملات کے سلسلے کو مکمل طور پر بدلنے والا واقعہ ثابت ہوا ہے۔ لیکن یہ دلچسپ ممکنات کا راستہ  بھی کھولتا ہے  جو 25
جولائی کے انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جمعہ (13 جولائی) کے واقعات  نے  اس معمہ  کے اہم پہلوں کو اہم بنا دیا ہے۔ نواز شریف کی دلچسپ اور بے ڈھنگی کہانی  کا  آخری  موڑ شروع ہو چکا ہے۔  اگلے دس دن فیصلہ کرنے میں مددگار ہوں گے کہ کہانی  فتح کی شان کے ساتھ ختم ہوتی ہے یا شکست کے ساتھ ۔  2۔ اگر پنجاب کی نگران حکومت شریف برادران  کی عزت چاہتی تو اس نے جمعے والے دن بہت خوب کام کیا۔پنجاب میں  یہ حکومت ن لیگ کے لیے کئیر ٹیکر کے بجائے کئیر گور ثابت ہوئی۔ انہوں نے غلط اور بے ڈھنگ پلاننگ سے ن لیگ کو وہ موقع فراہم کیا جس کی انہیں امید تک نہ تھی۔  اگر ان آئن سٹائنوں میں سے کوئی ایک صورتحال پر گہری نظر ڈالتا  تو وہ مندرجہ ذیل نتائج میں سے کسی ایک  پر پہنچتا:  نواز شریف اور مریم نواز گرفتاری دے رہے تھے نہ کہ گرفتاری سے بچ رہے تھے۔ یہ حوالے کرنے کا ایک رضاکارانہ عمل تھا جو کہ پورا ہوا، وہاں مزاحمت اور ضد بازی کا کوئی عنصر موجود نہ تھا۔ اگر یہ کافی نہیں تھا، وہ کسٹوڈی میں اس مقام پر چل رہے تھے جو میڈیا کے لیے ممنوعہ علاقہ تھا۔ ان کی  طرف سے فتنہ انگیز پریس
کانفرنس کرنے یا  وہاں جمع ہجوم کے سامنے تقریر کے جو امکانات تھے ان کا کوئی وقوعہ نہیں ہوا۔ اس انتہائی اہم واقعے  کا کوئی تجزیہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔  اکٹھا ہونے والا ہجوم احتجاج کرنے یا دھرنا دینے نہیں آیا تھا بلکہ اپنے قائد جنہیں ہر کوئی جانتا تھا کااستقبال  کرنے کے لیے  آیا تھا۔ سب کو معلوم تھا کہ
لیڈر کو باہر عوام میں نہیں آنے دیا جائے گا۔   اگر ن لیگی قیادت کو آگے جانے دیا جاتا تو اور ائیر پورٹ کے پاس تک جاتے تو وہاں مسائل پیدا ہو جاتے اور لوگ خود ہی کچھ تقاریر کر کے تتر بتر ہو جاتے۔ 3۔ اس کی بجائے نگران حکومت نے شریف برادران اور ان کی پارٹی کو تحفے میں ایک ایسا واقعہ دیا جو کہ کیمروں کے لیے بنا ہوا تھا۔ صبح سے آدھی رات تک پی ایم ایل ۔ این نے ہوائی جھولوں پر حکومت کی۔ دن کے اس مختصر حصے میں انتخاب نواز
کی طرف مڑ گیا، اس قسم میں جس میں ہر پاکستانی کے پاس دو انتخاب ہوتے ہیں: 1۔ کیا آپ نواز کو پسند کرتے ہیں؟ 2۔ کیا آپ نواز کو پسند نہیں کرتے؟ 4۔ اور اب نظر آ رہا ہے  یہ الیکشن اب ایک میچ کی طرح ہے: نواز الیون ورسز ورلڈ الیون۔ نواز الیون شہباز شریف کے زیر کپتانی ہیں اور ورلڈ الیون کے کپتان
عمران خان۔ ایک بنیادی نوعیت کے واقعہ نے کردار بدل دیے ہیں  جو کہ اصل میں عمران کی تبدیلی کے سامنے نواز  کے چیلنجز تھے ۔ جمعے کے واقعات نے اس تبدیلی کو بہت حد تک مرکوز کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی اس کو پہچاننے میں تیز نکلی اور اپنے ترجمان فواد چوہدی کو اس صورت کا حل نکالنے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے کوشش کی۔ انہوں نے کہا،نگران وزراء ناتجربہ کار ہیں، اور انہیں  پی ایم ایل۔این کو ایئرپورٹ جانے سے نہیں روکنا چاہیے۔ فواد نے ایک بہادر شکل دکھائی۔ تاہم یہ دیر ہو جانے کے بعد اٹھا یا  اقدام تھا۔ نقصان تو ہو چکا تھا۔ 5۔ نواز کی پارٹی انتخابات میں ہار سکتی ہے۔ لیکن پی ٹی آئی اور کمزور قانونی فیصلے  دونوں شریف برادران اور انتخابی  راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ شریف برادران کو گرانے پر زیادہ غور اور خود کو عظیم کرنے پر کم  فوکس رکھ کر  پی ٹی آئی ان انتخابات کو نواز کے لیے مددگار بنا رہی ہے۔ یہ پی ٹی آئی کے نظریاتی  ووٹرز پر منفی اثر مرتب نہیں کرے گا لیکن جو غیر جانبدار ووٹر ہیں ان کو دوسری طرف دھکیل سکتا ہے۔  اگر  اس بنیاد پر عمران الیکشن لڑنا چاہتے ہیں کہ وہ نواز نہیں ہیں تو غالبا وہ نروس نائنٹیز میں سپننگ وکٹ پر بیٹنگ کر رہے ہیں۔ 6۔  جج بشیر کا فیصلہ نواز اور ان کی بیٹی کے لیے خوش آئند بھی ہے جس کی وجہ اس کی کمزور لاجک ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی دلیل کی بجائے مفروضے پر مبنی ہے۔ مشہور وکیل بابر ستار نے اس ہفتے اپنے کالم میں اس فیصلے کی کھل کر توضیح کی ہے اور وہ ایک مہلک غلطی کو سامنے لاتے ہیں  جو نواز کے وکیل  ہائی کورٹ میں اپیل کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ فیصلے میں لکھا ہے کہ نواز کے بچے تب سے لندن فلیٹس میں ہیں جب وہ بہت نو عمر  تھے تو وہ ان کی ادائیگی نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے ان کے والد لازما ان فلیٹس کے مالک ہوں گے۔ اور اس  طرح نواز شریف  یہ ثابت نہیں کر سکے کہ وہ ان فلیٹس کی ملکیت کے لیے رقم کہاں سے لائے۔ یہ عجیب منطق ہے اور اگر عدالت نے اس فیصلے کو ختم کرنے کا فیصلہ کی تو یہ
نکتہ ان وجوہات میں سے ایک ہو گا۔  7۔ اس قانونی جنگ سے ہٹ کر  سیاسی صورتحال نےنواز اور مریم کے جیل جانے کے بعد ایک  موڑ لیا ہے۔اگر کوئی غیر متوقع واقعہ پیش نہ آیا تو یہ کہنا آسان ہوگا کہ جب قوم 25 جولائی کو ووٹ دینے جائے گی تب مریم اور نواز جیل میں ہوں گے۔ جیل کی داستان دونوں سمت اثر دکھا سکتی ہے۔ لوگ یا تو باپ بیٹی کے ساتھ ہمدردی دکھا سکتے ہیں یا پھر ان کے ساتھ نفرت کا اظہار کر سکتے ہیں۔  8۔  اس ہمدردی اور نفرت کے مابین  ایک پیچیدگی کا سمندر چھپا ہوا ہے،  یہ ایک ایسی قسم  ہے جس میں  ایک طاقتور ادارہ  ایک پر کشش خاندان کا سامنا کر رہا ہے جس کا ماضی بے ایمانی سے رقم ہڑپنے کے لیے گندا ہوا پڑا ہے۔ یہ ایک نئی بات ہے جو پاکستانی سیاست کی ابدی پہیلی کو خفیہ رکھتی ہے: سوال یہ ہے کہ ملٹری کے ایک اداررہ کے طور پر تقدس  اورا سیاسی پارٹیوں کی قابل  پسندیدہ  پالیسیوں کے بیچ توازن کیسے پیدا کیا جائے۔ سیاسی انجئینرنگ کی کوششیں اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ پاکستانی سیاسی نظام میں  اس تضاد میں ایک متوازن راستہ نہیں بنایا جا سکتا۔  9۔  اگر نواز اور ان کی پارٹی آنے والے انتخابات میں شکست سے دو چار ہوئے  تو  وقتی طور پر یہ پہیلی خود بخود سلجھ جائے گی۔ 10۔ اگر نواز اور ان کی پارٹی  کو شکست نہ ہوئی تو یہ پہیلی ایک نہ سلجھنے والی گتھی میں ایک راز بن کر داخل ہو جائے گی۔  واقعات کی یہ جذباتی ریل کئی تھکے ہوئے لوگوں کو سوار کر کے ان دس دنوں کو چیرتی ہوئی جا رہی ہے۔

source : https://tribune.com.pk/story/1758277/6-journey-to-jail/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *