مسافر انتظار کرتے رہے، ڈائریکٹر سول ایوی ایشن سرکاری طیارہ لیکر تفریح دورے پر نکل پڑے

کراچی۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اربوں روپے کے مالی خسارے میں چلنے کے باوجود بیورو کریسی کے سیر سپاٹے عروج پر ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن غلام حسن بیگ اپنے دوستوں کے ہمراہ سرکاری طیارہ لے کر نانگا پربت کی فضائی سیر کراتے رہے جبکہ اسکردو ایئر پورٹ پر مسافر پرواز کا انتظار کرتے رہے۔

سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل کو سیر سپاٹے کے لیے طیارہ پی آئی اے کے سینیئر ڈائریکٹر نے فراہم کیا جبکہ وی آئی پی مہمانوں میں گلگت بلتستان کے سینیئر وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما اکبر تابان بھی شامل تھے۔

اسکردو ائیرپورٹ کے بیت الخلا بھی وی آئی پی مہمانوں کے لیے مختص کیے گئے اور ہزاروں روپے کے ٹکٹ خریدنے والے مسافروں کو اسکردو ایئر پورٹ کے باتھ روم تک استعمال کرنے سے روک دیا گیا۔سیر سپاٹے کے بعد طیارہ اسکردو ائیر پورٹ پر اترا تو مسافروں نے شدید احتجاج کیا اور ڈی جی سول ایوی ایشن کو آڑے ہاتھوں لیا۔

نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ڈی جی سول ایوی ایشن غلام حسن بیگ کا کہنا تھا کہ نانگا پربت کی ایئر سفاری پر طیارہ لے جانے سے میرا کوئی تعلق نہیں، پی آئی اے کے سی ای او کی دعوت پر ایئرسفاری گیا تھا۔ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ پی آئی اے نے کہا تھا کہ وہ ایئرسفاری شروع کر رہی ہے تاہم ایئر سفاری جانے والی پرواز پر میرے کوئی دوست نہیں تھے۔

غلام حسن بیگ نے کہا کہ اسکردو ایئرپورٹ پر بدنظمی کی ذمہ دار پی آئی اے انتظامیہ ہے۔ مسافروں کی پریشانی کا نوٹس لیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ڈی جی سول ایویشن کا مزید کہنا تھا کہ خط لکھ کر پی آئی اے انتظامیہ سے وضاحت مانگی ہے۔ ایئر لائنز کو ریگولیٹ اور مسافروں کے حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔

یاد رہے کہ قومی ایئر لائن انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ ماہ 29 جون کو پی آئی اے نجکاری کیس میں تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی جس کے مطابق ایئر لائن کا خسارہ 406 ارب تک پہنچ چکا ہے۔رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ قومی ایئر لائن میں فوری طور پر کوئی بہتری نہیں آسکتی اور خسارے کی وجہ سے پی آئی اے اثاثے کی بجائے بوجھ بن چکی ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *