ووٹ پر ڈاکا، نامنظور

دیکھیے یہ جو آنے والے الیکشنز ہیں یہ اس بات کا مژدہ و نوید ہیں کہ چناؤ کا حق آپکا ہے ۔۔۔گو کہ اس معاملے میی ہوائی ،خلائی مخلوقات جسقدر دخیل ہو چکی یہ بیانیہ بھی کافی مشکوک ہوچکا ۔۔مگر پھر بھی الیکشنز اس بات کی جانب نشاندہی تو ضرور کرتے ہیں کہ اپکے چناؤ کی اپکے اس حق کی کس قدر اہمیت ہے ، یہ مہر کتنی اہم ہے کہ اس یا آس حکومت کو آپ نے چننا ہے

چلیے اس سے پہلے کہ میں اپنی بات کی مزید وضاحت کروں آپ ایک ہڈ بیتی یا اک چھوٹی سی روداد سن لیجیے

میرے بڑے بچے شہر کے جس مقامی نجی سکول میی پڑھتے تھے وہ ایک بڑا نامور ادارہ تھا کچھ برس پیشتر ، مگر میرا برس ہا برس کا ایک تلخ تجربہ تھا کہ سکول میی اساتذہ کی ایسی   اجارہ داری یا مناپلی     ہے کہ انکے خلاف شکایت کرنا اپنے بچے کی جان عذاب میی ڈالنے کے مترادف ہے سو کئی

 بار کے تلخ تجربے کے بعد کسی بھی قسم کی شکایت و غفلت پہ صبر کا کڑوا گھونٹ پی لیا ۔۔جب تک سکول کی انتظامیہ غیر ملکی تھی چیک اینڈ بیلینس اور نظم وضبط کڑا رہا ، امتحانات کا نظام شفاف؛ تو اساتذہ کی یہ اجارہ داری کی خامی پہ پردہ پڑا رہا مگر جونہی انتظامیہ مقامی ہوئی کچھ نہ پوچھیے کہ کیا ہوا ۔ الاماں کہ اج وہاں جوتیوں میں دال بٹتی ہے ۔

جانے کیوں یہ تجربہ اج کل مجھے بار بار یاد آتا ہے ۔

شاید یہ ہماری تاریخ سے کافی مماثلت رکھتا ہے

پہلے ہم پہ گورے حکمران تھے اور بقول ہمارے بزرگوں کے اچھے حاکم و آقا تھے مگر غاصب چاہے اچھا ہو برا اسکے مقدر میں رسوائی لکھی ہے ، آزادی  ہر حال میں مطلوب و فطرت آدم ہے سو انہیں جانا پڑا ۔

ہم آذاد تو ہوگئے مگر ہمارے حق انتخاب پہ بار بار ڈاکہ پڑا

ہم پہ " آقا" مسلط کئے

 گئے اور نظریہ ضرورت قانون کے کورٹ میی ہمارے سر پہ ہتھوڑا برساتا رہا۔

اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ ، نادیدہ مخفی قوتیں عرف عام میں خلائی مخلوق کے پنجے بہت نیچے تک رسوخ رکھنے لگے ۔۔۔ سیاسی ڈھانچہ کمزور سے کمزور ہوتا چلا گیا ۔عوام تو کیا لیڈران میی بھی یہ سیاسی شعور نہیں پنپ پایا کہ اس بیساکھی کے بغیر جو حکومت بنے اور چلے گی وہی دراصل جمہور کی حکومت اور جمہوریت کہلانے کے لائق ہوگی ۔

اور ہم عوام جو دکھ کی روٹی کھا کر ان شہزادوں کو برداشت کرکے راہنما اور ایک منجھا ہوا سیاسی لیڈر بناتے ہییں تو ہمیں مزید دکھ و خفت اٹھانا پڑتی ہے کہ جونہی وہ پیڑ پھل دینے کے قابل ہوتا ہے یا تو

اسے سولی لٹکا دیا جاتا ہے

یا حکومت کمزور سیاسی مہروں کو ملا کر گرا دی جاتی ہے  ۔ گھر کے چراغ سے گھر کو آگ لگانا یا لگنا اسے ہی کہتے ہیں

یا پھر اسے گولی مار دی جاتی ہے

یا رسوا کرکے برطرف کر دیا جاتا ہے ۔۔

یہی عوامی دھارے سے کٹاو ملک کے دوسرے چھوٹے صوبوں میی بغاوت و ناراضگی کا سبب بنتا رہا ہے ۔

اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ کوئی نئی بات نہیں ہے دیگر صوبوں سے یہ آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور غداری کا نام دیکر دبا دی جاتی رہی ہیں ۔۔مرے وطن میی یہ چلن عام ہے کہ سویلین و عوام کی وفاداری کو سند ہمیشہ "کہیں اور سے " ملتی ہے گرچہ اس دھرتی کو گرم لہو اسی عوام نے دیا ہے اور ان تمام اداروں کو پالا بھی عوام نے ہی اپنا پیٹ کاٹ کر ۔ تو ایسے میں عوامی بیانیے کی بالا دستی اور عوام کی حکومت اور اداروں کی اجارہ داری کے خاتمے کی بات بہت جائز اور منطقی ہے

اس دفعہ یہ اینٹی اسٹیبشلمنٹ بیانیہ پنجاب سے اٹھا ہے جو بہت اہمیت کا حامل ہے۔۔

کسی بھی شخص کو لیڈر ثابت کرنے کے لیے ان مخفی طاقتوں اور ڈی فیکٹو اداروں  کا یہ خوف کافی ہے جو ایک عوامی اور ڈی جیورو قوت کو  اقتدار سے باہر رکھنے کرنے کے لیے پوری قوت سے ظاہر ہورہا ہے

اور لیڈر کی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ اس مخفی ہاتھ کو ظاہر کردے اس کھیل میں یہی نواز شریف کی بڑی کا میابی ہے

اس الیکشن میی نواز شریف ایک اینٹئ اسٹیبلشمنٹ لیڈر کے طور پہ ابھرا ہے اور عمران ایک ایسی قوت جس کے پیچھے مخفی طاقتوں کا ہاتھ ہے جو اسکو ایوان اقتدار میں دیکھنے کے لیے سر توڑ کوششیں کررہی ہیں۔

باقی کرپشن ، کرداری غلاضت کی کہانیاں یہ وہ کمزوریاں ہیں جو اس بدقسمت عوام کے لیڈر ان مخفی قوتوں کے ہاتھوں میں دیکر پھر ان کے ہاتھوں کٹھ پتلیوں کی طرح استعمال ہوتے ہیں اور جب انکار کردیں تو نشان عبرت بنا دیے جاتے ہیں ۔ کاش وہ وقت بھی ائے جب ان مخفی قوتوں کی کرپشن و غلاضت بھی سر عام دکھائی جا سکے تو عوام جان سکے کہ اس حمام میں سب یکساں ننگے ہیں اور بد عنوانی و کرپشن کا جال لگا کر جو شکار کھیلا گیا ہے

یہ میزان ، یہ ترازو جس میں صرف ایک شخص کے اعمال تل رہے ہیں کیا شخصی ایمانداری اپ سے سوال نہیں کرتی کہ  یہ ترازو جس میں دفعہ 62، 63 کا بھاری پتھر  رکھا گیا ہے اس پہ  کون مائی کا لعل  کون سا سیاستدان جنرل جج پورا اترے گا ؟؟؟

اور کیا آنے والے وقتوں میں یہ سزائیں  یہ جرمانے قائم رہیں  گے ؟؟

گر آپ یہ سوچتے ہیں  تو آپ احمقوں کی جنت میی رہتے ہیں

اس اونٹ کو کسی کروٹ بیٹھنا ہے

مگر وہ کروٹ اپکے حق سیاست حق انتخاب پہ بس کاری ضرب ہوگی

کس شخص کو تخت پہ بٹھانا ہے کس کو اتارنا ہے یہ حق آپکا ہے میرا ہے ہمارا ہے ۔اس میں  مداخلت بھی ایک خیانت ہے  یہی وہ باریک نکتہ ہے جو ہمییں سمجھنا ہے

چلیے ایک پل کو مان لیتے ہیں کہ نواز شریف اپنی کرنی کا پھل بھوگ گئے ، آپ ایک ایسی سیاسی جماعت و لیڈر کو تخت پہ بٹھا دیتے ہیی جس کے  پاس سارے مہرے بچھی بساطوں کے مار کھائے ہیں ۔ ۔سارے لوٹے جانے کس عمل سے تطہیر پاگئے ۔۔اب یہ مہرے جو بھاری فنڈز دیکر ٹکٹ حاصل کر کے آئے ہیں ، اور لیڈر ایمپائر کی انگلی کے ناٹ آوٹ کر دیئے جانے کی وجہ سے آگے چلا آیا ہے تو آپکا کیا خیال ہے کہ وہ کوئی تیر مار لے گا ؟؟؟ یا اسے وہ کرنے دیا جاے گا جو عوام کی آرزو ہے

کیا آپ سوچتے ہیں کہ اسے مضبوط سیاسی ڈھانچہ قائم کر لینے دیا جائے  گا ؟؟ ایک مضبوط لیڈر بننے کی اجازت ملے گی ؟؟

ڈالر کی قیمت نہیں بڑھے گی ؟؟؟

 پٹرول مزید مہنگا نہیں ہوگا ؟؟؟ گرتی معیشت کا یہ ملبہ ایسی  کمزور "جمہوری حکومت " اٹھا پائے گی تو آپ یقینا احمقوں کی جنت میی رہتے ہیں ۔۔

مگر ٹھہرئیے اس احمقوں کی جنت میی رہنا نہ رہنا آپ کا جمہوری حق ہے میری کیا مجال کہ اس حق پہ قدغن لگاؤں۔

اپنے لیے شیر ، بلا, تیر ، کرسی , قلم, کتاب دوات ۔۔۔۔کچھ بھی چننے کا حق آپکا ہے اسےچھیننے کا حق کسی کے پاس نہیی ہونا چاہیے ۔۔

لیکن سر کار میرا ماننا یہ ہے کہ آپکے اسی حق انتخاب و حکومت کی سزا نواز شریف اٹھا رہا ہے ورنہ کرپشن کب اس ملک کے آقاؤں کا مسئلہ رہی ہے ۔۔

اب آخری بات اپنی یہ رائے قائم کرنے کا چناو کا یہ حق میرا بھی اتنا ہی ہے جتنا کہ آپکا

سو عمران خان کو چننے ماننے والے اس جماعت کو ایک فسطائی جماعت نہ بنایں اور نفرت کی وہ لکیریں نہ کھینچیں جو ہم عوام کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دیں ۔یقین کیجیے یہ سب خواص ہم سے بہت بڑے کمینے اور ہم سے بہت چھوٹے ہیں یہ اپنے مفاد کے لیے کبھی بھی شیر و شکر ہو جائیں گے ۔

سو عمران خان کو فی الحال یہ  بھی سمجھنا ہے کہ پارلیمانی جمہوری نظام کو عزت و اساس دیے بغیر اور بیساکھیوں کا استعمال کیئے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا صرف دیوانے کا ایسا خواب ہے جو شیروانی پہننے کے خبط میی مبتلا ہوگیا ہے ۔۔یہ میری رائے ہے میری ایماندارانہ رائے جسے رکھنے کا مجھے پورا حق ہے جو عمران خان کو چننے ماننے والوں کو مجھے دینا ہی ہوگا

جیسے مجھے اپکو عمران خان کے چناؤ پہ غدار ، یوتھیا اور کسی بھی طرح کی بد زبانی کا مجھے حق نہیں

اسی طرح یہ حق آپکو دوسرے افراد کو بھی دینا ہوگا

ملک میں  عدم برداشت و غیر جمہوری روایات کو جس حد تک فروغ  ملک کی تیسری سیاسی جماعت نے دیا ہے یہ انتہائی خوفناک ہے ۔

تشدد و عدم برداشت کی وہ مثالیں دیکھنے کو ملتی ہییں کہ الاماں ۔۔کہیں گدھے پہ نام لکھکر بے زباں کو تشدد کی انتہا کردی جاتی ہے ، کہیی سوشل میڈیا پہ ننگی گالیوں کا رقص ہے ۔۔

یوں لگنے لگا ہے جیسے دو دشمن ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کےسامنے ہیں ۔۔قبلہ ایک ہی ملک کے شہری مہذب طریقے سے حق انتخاب کو استعمال کیوں نہیں کرسکتے ؟؟؟ کہیں اس درجہ حرارت کو بڑھانے میں بھی کوئی خاص حکمت عملی کارفرما تو نہیں ؟؟ چلیے پل بھر کو فرض کر لیتے ہیں ۔۔  بالفرض محال عمران خان اقتدار میں آکر ہم عوام کے یہ سارے خواب پورے کردیتے ہیں

وہ ملک میں عوامی و جمہوری بیانیہ بحال کرنے میی کامیاب ہو جاتے ہیں ۔

ملک میی ہر قسم کے مارشل لا کے سوراخوں کو بند کردیتے ہیں

بلا تخصیص ہر ادارے  میں 62، 63 کا اطلاق ہو جاتا ہے

قرضے، آبی وسائل ، مہنگائی ، کرپشن ، لوڈ شیڈنگ جنگ دہشت گردی ، تعلیم،صحت صوبوں میں وسائل کی مساوات جیسے مسائل پہ قابو پا لیتے ہیں تو آپکا کیا خیال ہے مجھ جیسے وہ بہت سے ووٹرز جن کی محبت صرف پاکستان سے ہے ، پاکستان میی سچی جمہوریت سے ہے ، عوام کا حق جمہوریت ۔۔۔۔ کیا وہ اگلا ووٹ عمران کو نہیں دیں گے ؟؟؟؟

مگر اس سے پہلے آپکو یہ نکتہ تو سمجھنا ہی ہوگا کہ اصل مسئلہ تو اپکا حق انتخاب ہے جس پہ ہر دفعہ ڈاکہ پڑتا ہے اور وہ آواز کیسے اور کس طرح دبا دی جاتی ہے جو عوامی بیانیہ لیکر اٹھتی ہے آپکو خبر بہت بعد میں ہوتی ہے ۔۔۔تب جب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *