کانوں کو ہاتھ

سیلولر ٹیکنالوجی کے اس دور میں جس شخص کو بھی دیکھو وہ یا تو کانوں کو ہاتھ لگائے نظر آئے گا یا پھر سرراہ چلتے ہوئے اپنے کان پکڑے دکھائی دے گا۔ یوں تو اس ٹیکنالوجی میں ایسی ایسی حیرتیں پوشیدہ ہیں جنہیں دیکھ کر بندہ کانوں کو ہاتھ لگائے بناء نہیں رہ سکتا مگر ہم ہاتھوں اور کانوں کے جس ربط کی بات کر رہے ہیں وہ موبائل فون کی برکتوں کے دم قدم سے ہے۔ آج آپ کو قدم قدم پر لوگ موبائل کان سے لگائے یا کان موبائل سے چپکائے نظر آئیں گے۔ آپ کا موبائل آپ کی ذات سے بھی زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ آپ اگر خود بیمار ہو جائیں تو ٹونے ٹوٹکے آزما کر یا دم درود کے ذریعے ٹھیک ہونے کی کوشش کرتے ہیں مگر موبائل میں کوئی خرابی آ جائے تو آپ فوراً کسی مکینک کے پاس لے جانا پسند کرتے ہیں۔ موبائل کو افاقہ ہو جائے تو ٹھیک ورنہ کسی اور مرمتی مرکز کا رخ کرتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ موبائل کے ساتھ ساتھ مکینک حضرات آپ کی بھی خوب مرمت کر رہے ہوتے ہیں۔ موبائل کو مرمت کرانے پر اگرچہ آپ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ افاقہ ہوا ہے حقیقت میں مکینک کے حصے میں افاقہ اور آپ کے کھاتے میں فاقہ بھی آ سکتا ہے۔ موبائل کان تک لانے کے لئے آپ کے ہاتھوں کا اہم کردار ہے حالانکہ ہر موبائل کے ساتھ ہینڈ فری دستیاب ہوتی ہے مگر موبائل کی خوبصورتی اور کشش کا راز ہی یہی ہے کہ یہ آپ کا ہینڈ فری نہیں ہونے دیتا۔ یہ ایک ایسا آلہ ہے جو آلات حاضرہ اور حالات حاضرہ دونوں کے لئے لازم و ملزوم بن چکا ہے۔ علامہ اقبال نے بجا طور پر نشاندہی کی تھی کہ ’’احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات‘‘ لہٰذا یہ انہی آلات کا ہی کرشمہ ہے کہ انہیں اپنانے سے پہلے لوگ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہیں کہ احساس مروت کو آ۔۔۔ لات مار کر آتے ہیں تاکہ مشرقی خاندانی نظام اور کنبے کے یکجا ہونے کی خوبصورتی کا جنازہ اٹھانے میں ہم حسب توفیق اپنا اپنا کردار ادا کر سکیں۔ کچھ لوگ موبائل فون کو بہت احتیاط سے استعمال کرتے ہیں۔ ہر وقت ٹشوپیپر سے اس کی سکرین چمکانے اور اسے پالش کرنے میں مگن نظر آتے ہیں۔ اسے سلیقے سے پکڑتے ہیں، ٹچ سکرین کو اتنی شائستگی سے چھوتے ہیں کہ جیسے چھوئی موئی کے پودے کو چھو رہے ہوں۔ سکرین پر الفاظ ٹائپ کرنے کے لئے کی بورڈ کو یوں دبائیں گے جیسے ہماری نوجوان نسل اپنے جذبات دبائے پھرتی ہے۔ یہ محتاط لوگ اپنے موبائل پر یوں پروٹیکشن اور کور چڑھا کر رکھتے ہیں جیسے کسی قیمتی چیز کو کئی غلافوں میں ڈھانپ کر رکھا جاتا ہے اور ان اشیاء کی غلاف ورزی کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو یہ لوگ والہانہ انداز سے موبائل کو چوم کر اس میں سے ایسی ایسی ونڈوز کھول لیتے ہیں جس کے بارے میں سوچ کر انسان کا منہ کھلے کا کھلا رہ جائے۔ شاید اس طرح غلاف چڑھانے کا مقصد موبائل کے اندر موجود کچھ متبرک چیزوں کی قدر دانی کا پہلو بھی ہو سکتا ہے۔ الغرض یہ محتاط لوگ موبائل استعمال کرنے کے ادب آداب ملحوظ رکھنے میں ہمہ وقت مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارا ایک ایسا ہی احتیاط پسند دوست موبائل کو ہمیشہ دائیں ہاتھ میں رکھتا ہے، وہ اسے متبرک چیزوں کی طرح نیچے گرنے سے بچاتا ہے، زیادہ تر سامنے والی جیب میں ڈالے رکھتا ہے کیونکہ یہ جیب دل کے عین اوپر ہوتی ہے اس لئے اس دوست کا خیال ہے کہ میرے موبائل میں دینی مواد چونکہ زیادہ ہوتا ہے لہٰذا میں احتراماً اسے اپنے دل کے قریب رکھتا ہوں۔ اس دوست کا دعویٰ ہے کہ اسی مقدس جذبے کی وجہ سے وہ ہمیشہ موبائل کو داہنے ہاتھ کے ساتھ ساتھ دائیں کان کے ساتھ لگانا پسند کرتا ہے۔ ایک بار اس کے موبائل میں کوئی مسئلہ آ گیا۔ موبائل پر کال کرتے اور سنتے وقت آواز صاف طرح سے سنائی نہیں دے رہی تھی۔ کمپنی کے رپیئر سنٹر گئے انہوں نے چار ہزار روپے میں مرمت کی نوید سنائی، خوشی خوشی ایڈوانس رقم جمع کروائی اور ایک ہفتے بعد موبائل لے کر گھر پہنچے تو آواز صاف نہ سنائی دینے کا مسئلہ جوں کا توں تھا۔ موصوف غصے کے عالم میں ایک اور جاننے والے مکینک کے پاس گئے، انہوں نے بتایا کہ اس میں دو نئے آئی سی ڈالنا پڑیں گے جس کے بعد آواز بالکل صاف سنائی دینے لگے گی جس پر مبلغ تین ہزار روپے خرچ ہوں گے۔

Image result for cell phone addiction

ہمارے دوست نے اپنی اکھڑتی ہوئی سانسوں کو بحال کرنے کی کوشش میں ’’او آئی سی‘‘ کہا اور چاروناچار دو آئی سی ڈلوانے میں ہی عافیت محسوس کی۔ اگلے روز جب موبائل چیک کیا تو آواز ویسی کی ویسی تھی۔ مکینک کے ساتھ تکرار شروع ہو گئی، وہ بضد تھا کہ موبائل ٹھیک ہو گیا ہے مگر ہمارا دوست چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ یہ ویسے کا ویسا ہی ہے۔ شور سن کر قریبی دکانوں کے لوگ بھی وہاں جمع ہونا شروع ہو گئے دو تین لوگوں نے موبائل کان سے لگا کر چیک کیا آواز صاف آ رہی تھی مگر ہمارے دوست یہ ماننے کے لئے تیار نہ تھے، بالاخر ان کے ایک جاننے والے بھی شور سن کر وہاں پہنچ گئے۔ لہٰذا مکینک نے ان کے جاننے والے کے کان سے موبائل لگا کر کہا کہ آپ فیصلہ کریں کہ آواز صحیح آ رہی ہے یا نہیں۔ انہوں نے تائید میں سر ہلاتے ہوئے موبائل ہمارے دوست کے بائیں کان سے لگا دیا، جس پر ہمارے دوست کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور وہ خوشی خوشی گھر لوٹ گئے۔ انہیں سمجھ آ گئی تھی کہ موبائل میں کوئی مسئلہ نہیں تھا دراصل ان کے دائیں کان میں بہرے پن کی علامات موجود تھیں جس کے لئے انہوں نے کان کے علاج کے لئے کسی ماہر سے رابطے کے لئے بھاگ دوڑ شروع کر دی۔ ماہر معالج نے دو ہزار روپے فیس لینے کے بعد تین ہزار روپے کے ٹیسٹ لکھ کر دے دیئے اور رپورٹ پڑھنے کے بعد کان کی صفائی کا مشورہ دے ڈالا۔ جیب کی صفائی کے جلے ہمارے دوست نے کان کی صفائی کو پھونک پھونک کر یقینی بنانے کے لئے دوسری رائے کے طور پر ایک اور سپیشلسٹ سے رابطہ کیا جنہوں نے ایک مہنگی دوائی کے قطرے روزانہ دن میں تین بار ڈالنے کا مشورہ دیا۔ اب ان کی تشویش میں اور بھی اضافہ ہو چکا تھا لہٰذا تیسرے معالج سے رابطہ کیا گیا انہوں نے پہلے دو معالجین کے نسخوں کو مکس کر کے استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ لہٰذا کان کی صفائی کے ساتھ ساتھ قطرے بھی ڈالنے کو شفایابی کے لئے لازم قرار دے دیا گیا۔ ہمارا دوست اب تک موبائل کی مرمت کے ساتھ ساتھ اپنے کان کے علاج پر ہزاروں روپے خرچ کر چکا ہے جس کی وجہ سے ان کے کان کے ساتھ ساتھ نہ صرف ان کی جیب بلکہ طبیعت بھی صاف ہو چکی ہے۔ رہے نام اللہ کا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *