عابد باکسر کا ذکر بے وجہ نہیں ہو رہا

عمران زاہد

دراصل "ایمپائر" کو لگتا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کو فتح کر چکا ہے۔ وہ اپنی کاروائیوں کے نتیجے میں مطمئن ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اصل مسئلہ پنجاب حکومت ہے۔ صوبائی امیدواروں پہ ابھی محنت نہیں ہوئی۔ آج کی تاریخ تک کے تمام اندازے، مطالعے اور سروے پنجاب کی صوبائی نشستوں پر نون لیگ کی بہت زیادہ برتری دکھا رہے ہیں۔ اصل خدشہ یہ ہے کہ اگر پنجاب میں نون لیگ کی حکومت بن گئی تو وہ ایمپائر کی موعودہ وفاقی حکومت کو ایک قدم چلنے نہیں دے گی۔ اب ہمارے بھائی لوگوں کو پنجاب اسمبلی کو فتح کرنا ہے۔ عابد باکسر اس لڑائی میں بارودی سرنگ کا کام دے گا۔ عمران خان اور قادری صاحب اس عمل میں ایمپائر کے سہولت کار ہیں۔
ایمپائر کے اندازے کے مطابق وہ وفاق میں نون لیگ کو 50 نشستوں تک محدود کر دیگا۔ پی ٹی آئی کو 80 سے 90 تک نشتیں دلا دے گا۔ اسے پی ٹی آئی کو قطعی اکژیت دلانا مقصود نہیں ہے۔ ایک ہنگ پارلیمنٹ اور اس میں کولیشن بیسڈ حکومت بنوانا مقصود ہے، جس میں بہت سی شرائط کے ساتھ، خان صاحب کو بھی وزیرِ اعظم بنوایا جا سکتا ہے ۔۔۔ ترجیحی آپشن سنجرانی ماڈل ہے جو ایمپائر کو بہت مرغوب ہے۔
ایمپائر کو یوں لگتا ہے کہ پنجاب میں وہ نون لیگ کو اکثریتی پارٹی یا کم از کم سنگل لارجسٹ پارٹی بننے سے تو شاید نہ روک پائے۔ اب اسے ایسا انتظام کرنا ہے جس کے تحت وہ الیکشن ہوتے ہی شہبازشریف کو منظر سے ہٹا سکے، چاہے بعد میں وہ بے گناہ ثابت ہو کر باہر ہی کیوں نہ آ جائے۔ الیکشن سے پہلے اسے منظر سے اس لئے نہیں ہٹایا جا سکتا کہ محض نوازشریف کو منظر سے ہٹانے پر ہی الیکشن کے شفاف ہونے پر سوالیہ نشانات لگ چکے ہیں، شہبازشریف کو بھی منظر سے ہٹایا گیا تو الیکشن کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں مل جائے گی۔ سو الیکشن کے بعد جب شہبازشریف پنجاب میں حکومت کی تشکیل میں مصروف ہوں گے، انہیں منظر سے ہٹایا جائے گا۔ اس غیاب میں نون لیگ پر نقب لگانا بہت آسان ہو جائے گا۔ نون لیگ میں ایک فاورڈ بلاک بنوا کر پنجاب میں بھی کسی سنجرانی کو وزارتِ اعلٰی کی کرسی پر بٹھا دیا جائے گا۔ حامد میر نے چند ہفتے پہلے اپنے کالم میں اس منصوبے کی طرف اشارہ کیا تھا کہ چوہدری نثار پنجاب کا سنجرانی بھی ہو سکتا ہے۔
ایک سیاسی کارکن پوچھ سکتا ہے کہ کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ ایمپائر کے پلان کو ناکام بنایا جا سکے؟

Image result for abid boxerجواب ہے۔۔ جی بالکل ایسا طریقہ موجود ہے۔ وہ طریقہ ہے الیکشن کے دن ہر صورت میں ووٹ ڈالنا ہے۔ اگر الیکشن کے دن ووٹنگ کی شرح 50 سے 60 فیصد تک ہو گئی تو ایمپائر کی ترتیب دی گئی ساری بساط ہی الٹ جائے گی۔ اس دن آپ ایمپائر کو خود اپنی گالیں لال کرتے دیکھ لیں گے۔
اس جواب میں ایک خدشہ بھی پنہاں ہے۔ وہ یہ کہ ایمپائر پوری کوشش کرے گا کہ الیکشن کے دن ووٹ کم سے کم پڑیں۔ وہ ووٹنگ کے عمل کو مختلف حیلوں بہانوں بے حد سست کر دیگا۔ نون لیگ کی پرچی والے ووٹر کو ذلیل کرے گا اور اس کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ جو پولنگ اسٹیشنز نون لیگ کی اکثریت کے لئے مشہور ہوں گے وہاں دنگا فساد کروا کے الیکشن کے عمل کو معطل کروا دے گا۔ اس کے بعد گنتی کے عمل میں ہر ممکنہ روڑے اٹکائے گا۔ یہ محض فرضی خدشات نہیں ہیں، ان سارے حربوں کی آزمائش حلقہ این اے 120 میں ضمنی الیکشن کے موقعے پر کی جا چکی ہے۔ اگر کسی کو شک ہے تو وہ حلقہ این اے کے کسی ووٹر سے پوچھ لے یا اس دن کی سوشل میڈیا ویڈیوز چیک کر لے۔
آپ نے ایمپائر کے پلان کو ناکام بنانا ہے تو چاہے آپ کو جیب پر پی ٹی آئی کا جھنڈا ہی کیوں نہ لگانا پڑے ۔۔ لگائیں اور ووٹ ڈال کر آئیں۔ خود بھی ووٹ ڈالیں، اپنے حلقہ احباب اور خاندان والوں کو بھی ووٹ ڈالنے کی ترغیب دیں۔ مایوسی کو آپ نے قریب بھی نہیں پھٹکنے دینا۔ آپ نے ووٹ ڈال دیا تو اپنا فرض پورا کر دیا۔ نتیجہ اللہ کے ہاتھ پہ چھوڑ دیں۔
امیدوار حضرات (و خواتین) کو خاص طور پر چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ انہیں مضبوط تگڑے قسم کے پولنگ ایجنٹس کی ضرورت ہو گی، جو عموماً نون لیگ کو دستیاب ہوتے ہیں۔ ان کی اچھی طرح سے تربیت کریں ۔۔ پولنگ کا مکمل عمل سمجھائیں اور دوران پولنگ اگر کسی دھاندلی کو روکنے کے لئے مدد کی ضرورت ہو تو ریسکیو ٹیمیں تیار رکھیں جو موقعے پر جا کر مدد کر سکیں۔
آخری بات۔ پولنگ اسٹیشن پر موبائل فون لیجانے پر پابندی ہو گی۔ لیکن پولنگ کے عمل میں ہونے والی ممکنہ بے ضابطگی، دھاندلی کی ویڈیو بنانا بھی ضروری ہے۔ منی کیمرے والا بال پین، کی چین یا قمیض کا بٹن پاس رکھیں۔ یہ چیزیں عام مل جاتی ہیں۔ ورنہ دراز ڈاٹ کام سے آن لائن خریدی جا سکتی ہیں۔ ان کی مدد سے اپنے ہاتھ پاؤں بچا کر پولنگ کے عمل میں ہونے والی دھاندلی کی ویڈیوز بنائیں اور موقعے پر دھاندلی روکنے کے ساتھ ساتھ اس ویڈیو کو بطور ثبوت الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *