ووٹ کس کو دیں : چندحقائق

اگر جبران ناصر کی کوئی سیاسی پارٹی ہوتی اور یہ سیاسی پارٹی پاکستان بھر میں اپنے امیدوار اسی نظریات کی بنیاد پر کھڑے کرتی جس پر وہ خود آزاد
امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ہے تو میرا ووٹ اسی کے لیے ہوتا اور میں اس کی پارٹی کا ایک ادنیٰ کارکن بن کر اس کے لیے ووٹ مانگتا۔ کسی کو اس کی وجہ جاننی ہو تو وہ یوٹیوب پر دستیاب اس کا موقف جان سکتا ہے ۔ ویسے مجھے اس سے ملنے کا بھی اتفاق ہو چکا ہے ۔ میں نے اسی وقت جان لیا تھا کہ وہ ضرور سیاسی جدوجہد کی راہ اختیار کرے گا اور اس صورت میں ،میں ضرور اس کا ساتھ دوں گا۔ لیکن اِس وقت تو وہ درست سمت کی سیاسی جدوجہد کا محض ایک استعارہ ہے ،امید کی ننھی سی کرن ہے۔ خدا کرے کہ یہ انتخابات اس کے حوصلے کو بڑھانے کا باعث بنیں۔لیکن سر دست ہمیں اس بات کرنی ہے کہ آنے والے انتخابات میں ووٹ مسلم لیگ کو ڈالاجائے یا پی ٹی آئی کو۔ باقی کوئی پارٹی اس قابل بحث نہیں۔ اس کے علاوہ تمام پارٹیاں چاہے وہ ایم ایم اے ہو یا تحریک لبیک یاملی مسلم لیگ، یہ اصل میں سب پریشر گروپ ہیں ۔اور پریشر گروپ کسی کا ایجنڈا پورا کرتے ہیں یا اپنے پریشر کی قیمت وصول کرنے کے لیے اچھا خریدار ڈھونڈتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ سے اچھا خریدار کوئی نہیں ہوتا۔ اس سے زیادہ میں لکھنے سے معذور ہوں ۔ آپ خود ہی سمجھ دار ہیں۔
ویسے کسی مذہبی جماعت کا سیاسی میدان میں اترنا ایسا ہی ہے جیسے ڈاکٹر کا الیکٹریشن بننا یا نان بائی کا دل کا بائی پاس آپریشن کرنے کا فیصلہ کرنا۔ طالبان نے افغانستان میں کیا کیا ،ایران کے مولویوں نے اپنا کیاحشر کر لیا اور سعودی عرب میں شاہی خاندان نے ایک خاص فرقے کی سربراہی کر کے جو کھل کھلائے ہیں وہ بھی سامنے ہیں ۔ ویسے یہ ایک دوسری بحث ہے جس پر بعد میں گفتگو ہو سکتی ہے ۔لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ کوئی مذہبی جماعت کبھی بھی الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں آسکتی۔ لوگ انھیں کھال دے سکتے ہیں ،چندہ دے سکتے ہیں ،ان کے لیڈروں کی لکھی کتب پڑھ سکتے ہیں ، تقریریں سن سکتے ہیں، ان سے جنازے پڑھوا سکتے ہیں ، اپنے مردے بخشوا سکتے ہیں لیکن ووٹ نہیں دے سکتے ۔ اس لیے کہ سیاست ان کامیدان ہی نہیں ہے۔
اب آئیے اصل بات کی طرف ۔ پہلے مسلم لیگ کی بات کرتے ہیں ۔ اس وقت مسلم لیگ ان حوالوں سے سب سے زیادہ قابل غور ہے :
*مسلم لیگ کو اس وقت عوام کے سوا کسی کا سہارا نہیں ۔ اس کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہر قابل ذکر طاقت ان کی نقاد ہے ۔ صرف اور صرف کارکردگی ، وہ بھی مخالف کا منہ بند کرانے والی کارکردگی ، ان کی سیاسی زندگی کا باعث ہو سکتی ہے ۔ ان کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں مل سکتی ۔ان کا موجودہ لیڈر ہی نہیں بلکہ آنے والی قیادت بھی جیل میں ہے اور اسے صرف اس وقت ہی اس سزا سے چھٹکا رامل سکتا ہے جب وہ صحیح معنوں میں عوام کا دل جیت لیں ۔ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ وہ جیت کر ، اقتدار میں آکر عدلیہ کو خرید لیں گے ، قانون میں تبدیلی کرا لیں گے ،وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ سینٹ میں فیصلہ کن اکثریت کھونے کے بعد وہ آئین میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر سکتے ۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ ان کی مخالفت میں اپنی ساکھ ( کریڈیبلٹی) داؤ پر لگا چکی ہے، عدلیہ اپنے اپنے وقار کو امتحان میں ڈال چکی ہے۔ وہ کسی قیمت پر مسلم لیگ کو سپیس دینے کو تیار نہیں ،اس لیے ہر حوالے سے مسلم لیگ کے پاس ایک ہی راستہ ہے ،وہ ہے کار کردگی ، گڈ گورنس ، ایمان دار انہ خدمت ۔ وہ ملک کو لوٹ کے بھاگ سکتے ہیں نہ چوری چھپے کچھ باہر بھیج سکتے ہیں ،اس لیے پاکستانیوں کے پاس انتہائی نادر موقع ہے وہ ایسی پارٹی کو ووٹ دیں جو’ ابھی نہیں ورنہ کبھی نہیں‘ کے مقام پر کھڑی ہے ،جس کے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا ، وہ صرف اور صرف پرفارم کر کے ہی جان چھڑا سکتی ہے ۔ اس مقابلے میں پی ٹی آئی کے پاس ناکامی کے سو بہانے ہیں ۔ وہ کہہ سکتی ہے کہ ملک کے خزانے خالی تھے ،ملک کے مسائل بہت زیادہ تھے ، ہم پانچ برسوں میں اتنا ہی کر سکتے تھے، ہم کم تجربہ کار تھے، مجھے نواز شریف کی باقیات نے بہت تنگ کیا ، ہمارے ہاتھ اسٹیبلشمنٹ نے باندھ رکھے تھے ، ہمارا پہلا کام گند صاف کرنا تھا ، کام ہم اگلے پانچ برسوں میں کریں گے ، وغیرہ لیکن آپ غور کریں تو مسلم لیگ کے پاس ایسا کوئی بہانہ نہیں ، اسے ہر قیمت پر پرفارم کرنا ہو گا ورنہ موت کو گلے لگانا ہو گا۔
*مسلم لیگ نے اپنے پچھلے دور جو پلاننگ کی ہے ،جو ترقیاتی منصوبے شروع کیے تھے ان کا دورانیہ پانچ برس سے دس برسوں پر محیط تھا۔ اس کے ہارنے کی صورت میں ان کے نامکمل رہنے کا خدشہ ہے ۔ اگر وہ احسن طریقے سے مکمل ہو جاتے ہیں تو اس کا ملک وقوم ہی کو فائدہ ہو گا اور اپنی نیک نامی کی خاطر لیگی حکومت اسے احسن طریقے سے مکمل کرنے کی سر توڑ کوشش کرے گی۔ جبکہ آنے والی حکومت کی کوشش ہو گی کہ ان کو فلاپ اور ترک کرکے ، ان میں کیڑے ڈال کر لیگی حکومت کو مزید بدنام کرے۔ اس صورت میں نقصان ہم عوام ہی کا ہوگا۔ اس لیے ترقی کے لیے ضروری ہے منصوبوں کو مکمل ہونے کا موقع دیا جائے اور لیگی حکومت کو آنے دیا جائے ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح تو ان ’چوروں‘ کو کھانے پینے کا مزید موقع ملے گا تو حضور جمع خاطر رکھیے ، عدالتیں بہت آزاد ہو چکیں ، میڈیا قبضے میں ہو گا ، آپ نے دیکھا نہیں کہ ان کا احتساب 1993 کی ’سیاہ کاریوں‘ سے کیاجا رہا ہے ، ان کے خلاف مقدمات اتنی سرعت سے چلارہے ہیں کہ وہ ذرا بھی حرکت کریں گے تو دھر لیے جائیں گے۔ اس لیے ان کی من مانی کرنے کی اب کوئی صورت نہیں رہ گئی۔
*مسلم لیگ اس وقت واحد سیاسی قوت ہے جو اگر جیت جاتی ہے تو اس کا یہ بیانیہ جیت جائے گا کہ ترقی کا راز امن کی پالیسی بنانے سے ہے ، ہمسایوں سے د شنمنیاں پالنے سے نہیں ۔پراکسی وار لڑنے سے نہیں ، امریکی یا یہودی یا ایرانی یا سعودی پٹھوبننے سے نہیں۔افغانستان میں اپنا ’’لچ ‘‘ تلنے میں نہیں ۔ اچھے اور برے طالبان کا لیبل لگانے سے نہیں ۔لیگی حکومت نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اپنا کردار ادا کر کے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ دفاعی تقاضوں سے بھی آگاہ ہے لیکن خواہ مخواہ الٹی سیدھی جنگی چالیں چل کراور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرکے وہ مہم جوئی کو بہر کیف غلط سمجھتی ہے ۔ یہ بصیرت اس نے اپنے تجربے کی بنیاد پر حاصل کی ہے ۔ حکومت میں رہ کر کی ہے ، عالمی طاقتوں کے نمایندوں کی ٹیبلوں پر مذاکرات دیکھ کر کی ہے ۔ اور اس کی قیمت بھی ادا کی ہے ، میں ذاتی طور پر اس کی اس خوبی کو اتنی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ اسی کی بنیاد پر اسے ووٹ کا سب سے زیادہ مستحق سمجھتا ہوں ۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی بھی قابل توجہ ہے لیکن زرداری فیکٹر انتہائی قابل نفرت ہے اور بلاول کو’ سیاسی اور سماجی بالغ‘ ہونے اور باپ سے جان چھڑانے میں خاصا وقت درکار ہے۔
* مسلم لیگ نے بنیاد پرستی کے خلاف بڑا جان دار سٹینڈ لیاتھا۔ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں فوج کا پوری مستعدی سے ساتھ دیا۔اسٹیبلشمنٹ اس کی تمام تر مخالفت کے باوجود اس حوالے اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکی ، اسی لیے دیکھ لیجیے کہ اس نے ممتاز قادری کے مسئلے پر کس جرأت کا مظاہرہ کیا ۔اور پھر اس کی بھاری قیمت بھی ادا کی اور اب بھی الیکشنوں میں ادا کرے رہی ہے ۔
*باقی رہا کرپشن کا ڈھنڈورا تو میں اس کا تب قائل ہوتا جب لیگی کرپشن کی موجودہ دورِ حکومت میں نشان دہی کی جاتی ۔ اگر ماضی کو بنیاد بنا کر بات کرنی ہے تو سب کی کریں ۔ صرف ایک کو نشانہ بناناکرنا واضح طور پر بد نیتی ہے کیونکہ ماضی کسی کا بھی صاف نہیں ۔نہ شخصیات کا نہ اداروں کا ۔ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں ۔
* اس سب کے باوجود لیگ ہر گز ہر گز کوئی آئیڈیل انتخاب نہیں ، لیکن یہ بات ضرور ہے کہ اس کے اندر سے جتنے موقع پرست ، لوٹے ، مفاد پرست، بزدل اور لالچی لوگ تھے ان کی بہت بڑی اکثریت پارٹی سے چلی گئی ہے ۔ حالات کی آگ نے گند کو جلا دیا ہے اور یہ گند کہیں اور چلا گیا ہے ۔ اور افسوس ہے کہ ان کے پاس گیا ہے جو اس سے نفرت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ سر دست یہ خوبیاں اسے دوسروں سے بہر کیف ممتاز کرتی ہیں ۔
اب آتے ہیں پی ٹی آئی کی طرف ۔ اس کا نعرہ انقلاب کا ہے ۔ پاک اور شفاف ہونے کا ہے ، تبدیلی اور بہترین حکومت قائم کر نے کا ہے ۔ لیکن اس وقت جو لوگ پی ٹی آئی میں آگئے ہیں ان کی موجودگی میں یہ نعرہ اپنی تمام تر حقیقت کھو چکا ہے ۔اس کا یہ کہہ کر جواب دیا جاتا ہے کہ عمران خاں خود ایمان دار ہے ، وہ کسی کو بے ایمانی نہیں کرنے دے گا۔ سوال یہ ہے کہ ان گنت لوگوں نے اپنے ان گنت وسائل عمران کے ہاتھ میں اسی لیے دیے ہیں کہ کل وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ عمران ان لوگوں کے احسانات تلے دبا ہوا ہے ۔کھربوں اربوں کی گیم ہو چکی ہے ، اس میں اس کی ذات کے سوا اس کا کچھ خرچ نہیں ہوا، اس لیے یہ تمام لوگ اپناا نعا م عمران سے لازمی وصول کریں گے ۔ یہ لوگ کہیں گے کہ ہم نے کنگلے ہونے کے لیے آپ کی مدد نہیں کی تھی ، آپ کم از کم ہمارا خرچہ پورا کرنے کے کا تو موقع دیں ۔ آپ کہیں گے کہ عمران خان ایسے لوگوں کو نکال باہر کرے گا ۔ بھئی کتنے لوگوں کو باہر نکالے گاّ ؟وہ کتنا ایک کٹھور بنے گا ؟ اس کے ساتھ کتنے لوگ رہیں گے ؟ کیا پوری کابینہ کو معطل کر دے گا ؟اس سوال کا آپ ایک ہی جواب دے کر مجھے مطمئن کر سکتے ہیں ، آپ مجھے خان کی ٹیم کے صرف تین ایمان دار اور باصلاحیت لوگوں کے نام بتا دیں ، اور ساتھ یہ بھی بتا دیں کہ خود عمران خان کا ذریعہ معاش کیا ہے ۔ یاد رہے کہ یہ تین لوگ کابینہ کے ممبر بننے کی صلاحیت رکھنے والے ہونے چاہییں ۔
* پی ٹی آئی کو ووٹ نہ دینے کی سب سے بڑی وجہ اس کا پرو اسٹیبلشمنٹ ہو نا ہے ۔ اس کو پرویز مشرف دور میں لایا گیا ۔ مشرف کا ویڈیو کلپ مو جود ہے جس میں اس نے انھیں دس سیٹوں کی پیشکش کی تھی ۔ پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں عمران خاں نے ان کو سپورٹ کیا۔ پھر ظہیرالاسلام نے انھیں سر پر بٹھایا ۔اس نے سر عام ایمپائر کی انگلی کو فیصلہ کن قرار دیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس پر خاں نے کئی یو ٹرن لیے ، اس نے اسٹیبلشمنٹ کی مذمت میں بھی بات کی لیکن ایسے ہی جیسے اس نے شیخ رشید کی مذمت میں بات کی مگر پھر اسے اپنا مشیر خاص بنا لیا۔ جیسے ہی اسے یہ معلوم ہوا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے بغیر کچھ نہیں ، اس نے اسی طرح ان کی مدد لینے کا فیصلہ کیا جس طرح اس الیکشن میں الیکٹیبلز کو لینے کا۔ اس لیے ہم دیکھ چکے ہیں کہ نواز شریف کو اس کی کیا قیمت ادا کرنا پڑی۔ کیا اب ہم ایک نیا نواز شریف بننے دیں ؟ کیا یہ برا تجربہ ایک دفعہ کے لیے کافی نہیں؟ بار بار دہرانے میں آخر کیا فائدہ ہے ؟ دائرے میں گھومنے کی آخر کیا حکمت ہے ؟
* پاکستان کی موجودہ ابتری د ہشت گردی کی وجہ سے ہے ۔ پراکسی وار لڑنے کی وجہ سے ہے۔ امریکہ کی جنگ ڈالر ز کے لالچ میں لڑنے کی وجہ سے ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اس حوالے سے عمران کا کیا موقف ہے ؟ کیا اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر ان کے خلاف کچھ کیا جا سکتا ہے ؟
اور بھی بیسیوں باتیں ہیں ،لیکن ان پر ذاتیات کی مہر لگا دی جاتی ہے ۔ اس لیے اسے زیر بحث نہیں لاتے حالانکہ مستقبل قریب میں یہ چیزیں بھی صادق اور امین کے دائرے میں آنے والی ہیں لیکن انھیں اس وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں اور انھی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کر لیتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *