حنیف عباسی کو سزا اور عوامی مینڈیٹ۔

ریاستی اداروں کے بارے میں زیرِ لب ایک عرصے سے بہت کچھ کہا جا رہاہے۔ انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں، یہ ان سنی اور ان کہی آوازیں ایک شور میں بدل رہی ہیں۔ ہمیں اُس وقت سے بچنا چاہیے جب یہ شور احتجاجی نعروں میں ڈھل جائے۔ وزیرستان اور پنجاب کا فرق ختم ہو جائے۔ اس ملک اور قوم کے ساتھ وفاداری کا تقاضا ہے کہ میں ان کے بارے میں سب کو متنبہ کروں۔ میں متوجہ کروں کہ آج محبت کا زم زم نہیں بہہ رہا۔ وما علینا الا البلاغ۔
الیکش کمیشن کا تازہ ترین فیصلہ خوش آئیند ہے۔ میں راولپنڈی شہر میں رہتا ہوں۔ گواہ ہوں کہ اس شہر کی بہتری کے لیے حنیف عباسی نے دن رات ایک کیے رکھا۔ سکول، پارک، ہسپتال، کھیل کے میدان، پانچ سال میں اس نے شہر کے رنگوں میں بہت سے نئے رنگوں کا اضافہ کیا جنہیں بچشم ِ سر دیکھا جا سکتا ہے۔ عمران خان اس حلقے کے منتخب نمائندے تھے۔ کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ حنیف عباسی کا اس طرح اچانک منظر سے غائب ہو جا نا بہت سے سوالات اٹھا رہا تھا۔
حنیف عباسی کا آخری جلسہ حیران کن تھا۔ بظاہر بے جان انتخابی مہم میں لوگوں کی ایسی گرم جوش شمولیت بہت سوں کے لیے پریشان کن تھی۔ شیخ رشید صاحب کی انتخابی مہم تضادات کا شکارتھی۔ تحریک ِ انصاف کے کارکنوں میں ان کے لیے کوئی جوش وخروش نہیں۔ شیخ صاحب صوبائی نشستوں پر کئی امیدواروں سے ساز باز کر رہے تھے جس کا تحریکِ انصاف کے کارکنوں میں غصہ ہے۔ حنیف عباسی کی جیت بظاہر یقینی تھی کہ عدالت کا فیصلہ آگیا۔ اس عدالتی فیصلے سے ہمارے نظام ِ عدل کے بہت سے سقم سامنے آئے ہیں۔
مثال کے طور پر یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایک بڑی جماعت کے پاس یہ موقع ہی نہیں تھا کہ وہ متبادل امیدوار سامنے لا سکتی۔ یوں نون لیگ کو ایک حلقے میں حقِ نمائندگی سے محروم کر دیا گیا۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ نون لیگ کو ووٹ دینا چاہتے ہیں، وہاں کہاں جائیں؟ جرم امیدو ار نے کیا ہوگا، جماعت نے تو نہیں۔ جماعت کو کس جرم کی سزا ملی؟ الیکش کمیشن نے بروقت انتخابات کو ملتوی کر کے اس کمزوری کا ایک حد تک ازالہ کر دیا۔ تاہم اس کی ضرورت باقی ہے کہ اس باب میں باقاعدہ قانون سازی ہو۔ یا عدالتوں کو پابند کیا جائے کہ الیکشن شیڈول کا اعلان ہونے کے بعد امیدواروں کے بارے میں فیصلہ نہ دیں۔ یا اگر کوئی ایسا فیصلہ آئے جس سے ایک امیدوار انتخابات میں حصہ لینے کے قابل نہ رہے تو انتخابات خود بخود ملتوی ہو جائیں جیسے موت کی صورت میں ہوتا ہے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا ناگزیر ضرورت تھی جس کے تحت اس مقدمے کافیصلہ 21 جولائی تک آنا لازم تھا؟ ہم جانتے ہیں کہ یہ سات سال پرانا مقدمہ ہے۔ اگر اسے چند دن مزید موخر کر دیا جا تا تو کچھ فرق نہیں پڑنا تھا۔ چند سالوں سے اس میں کسی نئے شہادت کا اضافہ نہیں ہوا۔ حنیف عباسی نے برسوں پہلے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ فیصلہ سنا دیا جا ئے۔ فیصلے کو موخر کیا جاتا اور ایک ایسے وقت میں سنایا گیا جب اس کا انتخابی عمل پر اثر انداز ہو نا یقینی تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ کوئی قانونی تقاضا نہیں تھا کہ لازماً 21 تک فیصلہ سنا یا جا ئے۔ عدالتِ عالیہ نے ماتحت عدالت کو تاریخ کا پابند کیا۔ سیاسی سیاق وسباق کو سامنے رکھا جاتا تو اس پابندی سے گریز بہتر ہوتا۔
یہ محض اتفاق ہے کہ جس دن فیصلہ آیا اسی دن جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی ایک تقریر نے بھی غیر معمولی اضطراب پیدا کیا۔ نظام عدل سے وابستہ ایک معزز جج کی باتوں کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اچھا ہوا کہ آئی ایس پی آر نے عدالتِ عظمیٰ سے ان الزامات کی تحقیقات کے لیے درخواست کر دی اور چیف جسٹس نے بھی نوٹس لے لیا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ان الزامات کی صداقت کو پرکھا جا ئے اور ملک کو کسی نئے اضطراب سے محفوظ بنایا جا ئے۔
ہم اس امرِ واقعہ کا انکار نہیں کر سکتے کہ ریاستی اداروں کا سیاسی کردار اس وقت زیرِ بحث ہے اور انہیں ایک فریق کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک اب تین امکانی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ محض ایک تاثر ہو جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر ایسا ہے تو اس کو دو اور دو چار کی طرح واضح کر دینا چاہیے۔ پھر کوئی ایسی واقعاتی شہادت سامنے نہیں آنی چاہیے جس سے اس تاثر کی تائید ہو تی ہو۔
دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کسی ادارے کے کچھ افراد شخصی حیثیت میں کسی سرگرمی میں ملوث ہوں۔ اس کا ادارے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اگر ایسا ہے تو بھی یہ ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وجود کو ایسے عناصر سے پاک کرے جو اس کی شہرت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ تشکیک کی فضا میں یہ ادارے اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ متنازع بن جائیں۔ تیسری صورت کے بارے میں، میں سوچ تو سکتا ہوں، لکھ نہیں سکتا۔
آج مجھے حالات میں بہتری کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ مجھے یہ دائرے کا سفر نظرآتا ہے۔ مقتدر حلقے آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ طاقت مسائل کا حل ہے۔ میں اصرار کرتا ہوں کہ طاقت کبھی بھی سیاسی مسائل کا حل نہیں رہی۔ ہمیں بالآخر سیاسی حل ہی کی طرف آنا ہے۔ یہ اب ہمارا انتخاب ہے کہ ہم بعد از خرابی بسیار اس طرف رخ کرتے ہیں یا اس سے پہلے۔ اس باب میں کم و بیش اتفاق اجماع ہو تا جا رہا ہے کہ انتخابی عمل کو شفاف نہ بنایا گیا تو ایک نیا بحران ہمارا منتظر ہو گا۔
سرِ دست ہمیں انتخابی عمل کو ہر طرح کے تنازعات سے محفوظ بنا نا ہے۔ اس باب میں سب سے زیادہ ذمہ داری ان ریاستی اداورں کی ہے جن کے بارے میں اس وقت سب سے زیادہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہیں اپنی ساکھ کے بارے میں زیادہ متنبہ ہو نا چاہیے۔ میڈیا کو بھی اس والے سے ان کا ساتھ دینا چاہیے اور ان باتوں کی تشہیر سے گریز کر نا چاہیے جن کی تائید میں کوئی شہادت مو جود نہیں۔
میرا خیال تھا کہ عمران خان ایک بہادر آ دمی ہونے کا ثبوت دیں گے اور خود ہی یہ چاہیں گے کہ وہ عوامی عدالت میں سر خرو ہوں۔ افسوس کہ وہ ان توقعات پر پورا نہیں اترے۔ انہوں نے براہ راست میدان میں مقابلہ کر نے کے بجائے ان سہاروں کو تلاش کیا جو کسی جمہوری راہنما کے شایان شان نہیں۔ انہیں آگے بڑھ کر اس تاثر کی نفی کر نی چاہیے تھی کہ وہ ایک بار پھر کسی امپائر کی انگلی کی تائید چاہتے ہیں۔ اگر وہ جواب میں نوازشریف کے ماضی کا حوالہ دیں تواس کا مطلب ہوگا کہ وہ اب ان راستوں پر چل پڑے ہیں جنہیں نوازشریف چھوڑ چکے۔
پاکستان میں کوئی محب ِ وطن شہری ایسا نہیں جو فوج کا مخالف ہو۔ کون بے حس ہوگا جو اپنی سرحدوں کے محافظوں کے بارے میں برا سوچے گا؟ ایسا وہی کر سکتا جس کی فطرت مسخ ہو جائے۔ تاہم اگر کچھ لوگ اپنے آئینی حدوں سے تجاوز کرتے ہیں تو اس کی نشان دہی خود اس ادارے کے وقار کے لیے ضروری ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی جیسے کسی رکن پارلیمنٹ کی غلطیوں کو سامنے لانا۔ اس سے مراد پارلیمنٹ کی مخالفت نہیں، پارلیمنٹ کو ایسے لوگوں سے پاک کرناہے جو اس کی عزت کے درپے ہیں۔
الیکشن سے پہلے یہ میرا آخری کالم ہے۔ کاش میں اس سے زیادہ واضح الفاظ میں اپنی بات کہہ سکتا۔ عوام کو ووٹ کی حرمت اور جمہوری عمل کی تقویت کے لیے ووٹ دینا ہوگا۔ ریاستی اداروں کو دیکھنا ہے کہ انتخابات شفاف ہوں اور عوام کو یہ گلہ نہ ہو کہ ان کا مینڈیٹ چرایا گیا ہے۔ ہم سب کو مل کر پاکستان کو بہتر مستقبل دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہر آفت سے محفوظ رکھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *