جام کمال نئے وزیر اعظم

" نعیم حیدر ملک "

     انتخابی شطرنج سج چکی مہرے تیار بیٹھے ہیں۔ مہروں کو چار چاند لگانے کے لیے سروے پر سروے ہو رہے ہیں۔ ملک بھر میں گذشتہ دس سال میں پندرہ لاکھ کلو میٹر سفر در سفر سے حا صل ہو ے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ھوں۔ کہ صرف خواتین ہی ووٹ ڈالنے نکل آئیں تو یہ سارے سروے دھرے کے دھرے رہ جاہیں گے۔ لودھراں میں ہوے ضمنیالیکشن کی طرح جب نام نہاد سیاسی پنڈت ٹی وی سکرینوں پر جو دعوے فرما رھے تھے۔ الیکشن کی شام ہوا ہو گے۔ ھارون رشید صاحب فرما رہے تھے کہ مقابلہ تو ہے ہی نہیں۔ پی ٹی آئی کی لیڈ پہلے الیکشن سے ذیادہ ہو گی۔ یہی کچھ حبیب اکرم صا حب بھی یہی فرما رہے تھے۔ بہت کم لوگوں کو پتہ ہو گا کہ یو سف رضا گیلانی نے اپنا پہلا الیکشن اسی حلقے سے بطور مہمان جیتا تھا۔ اس حلقے میں آج بھی اہل سادات کا احترام اور ووٹ بنک موجود ہے ۔ سید اقبال شاہ کی کامیابی کی دوسری وجہ پی ٹی آئی کے ٹائیگرز بنے جن میں عثمان ڈار گولڈ میڈل کے مستحق تھے۔ کیونکہ یہ مادر پدر آزاد غول کے غول جس گاوں کا بھی رخ کرتے اس گاوں کی معصوم فضاوں کی اس طرح کی بے پردگی کرتے کہ مقامی لوگ خود عہدکر لیتے کہ ووٹ تو مسلم لیگ (ن) کو ہی دینا ہے ۔ عثمان ڈار اور ان کیحواری پہلے ووٹ مانگتے اورپھر سو شل میڈیا پر ویڈیو اپ لوڈ کرتے کہ دیکھیں کتنی گندگی ہے یہاں۔ سید اقبال شاہ کو کوئی 5000 ہزار ووٹ تو عثمان ڈار کی وجہ سے ہی پڑ گئے تھے۔ تیسری وجہ خود علی ترین کا ہر گھر میں دو دو ہزار بطور خیرات بانٹنابن گیا۔ الیکشن مہم میں بعض اوقات چھوٹی سی غلطی ایسا ہوا بن جاتی ہے کہ بڑے بڑے برج الٹ جاتے ہیں۔ بچپن کی یاد در آئی دیپال پور سے 1985کے الیکشن تھے عطا محمد مانیکا کامیابی سے انتخابی مہم چلارہے تھے جبکہ ان کے مقابل یسین وٹو نے تھورے سے پوسٹر ہی لگوائے تھے۔ سیاسی پنڈت عطا محمد مانیکا کو واک اور رہی دے رہے تھے کہ عطا محمد مانیکا نے انتخاب سے تین روز پہلے جہاز سے پوسٹر پھینکوا دےئے۔ پو سٹر پر عطا محمد مانیکا لکھا ہوا تھا ساتھ ان کی تصویر اور انتخابی نشان تھا۔ جس طرح پوسٹر آسمان سے گرائے گئے اُسی طرح عطامحمد مانیکا بھی آسمان سے منہ کے بل آ گرے۔تین روز میں وہ آندھی چلی کہ میاں یسین وٹو بغیر انتخابی مہم چلائے جیت گئے۔ اور دیپال پور سے عطا محمد مانیکا کا صفایا ہو گیا ۔ ماضی کی بات چل نکلی تو کچھ بات اپنے گھر کی بھی ہو جائے ۔ ہمارے والد صاحب کٹر مسلم لیگی تھے، ہمیں املّا بھی نوائے وقت کے ادارئیے سے لکھواتے تھے۔ والد صاحب اور سلطان علأو الدین خلجی کے جلال میں بس انیس بیس کا ہی فرق تھا ۔ الیکشن کے دن والد صاحب تو ڈیوٹی پر ہو تے تھے اور ہم والدہ صاحبہ کو سمجھا کر، رٹا کر بھیجتے کہ ووٹ مسلم لیگ کو ہی ڈالنا ہے۔ واپسی پر پو چھتے تو صاف انکاری ہو جاتی کہ میں نہیں بتاتی کہ کس کو ووٹ ڈالا، اصرار جب بڑھ جاتا وہ کہہ دیتی کہ میں نے بینظیر کو ووٹ دے آئی ہوں تو ہم اپنا سر پیٹ لیتے۔ ماضی سے حال میں آئے تو میری بیوی KPKسے ہیں اور میں پنجاب ، تو گھر میں تمہارا عمران خان اور آپکا نوازشریف ہوتا رہتا۔ مگر اس کہانی نے تب موڑ لیا جب محترمہ کلثوم نواز بیمار ہو کر لندن چلی گئی اور نوازشریف یہاں عدالتوں میں پیشیں بھگت رہے تھے تو ایک دن میری بیوی نے کہا یہ تو ظلم ہو رہا ہے یہ اس کو لندن کیوں نہیں جانے دے رہے۔ پھر جب عید پر نوازشریف لندن گئے اور کلثوم نواز وینٹی لیٹر پر تو اس نے کہنا شروع کر دیا کہ نوازشریف کو کسی صورت واپس نہیں آنا چاہیے ۔ نواز شریف واپس آ کر جیل میں قید ہو گئے تو اس نے عدلیہ اور عمران خان پر کھلی تنقید شروع کر دی۔ایک دن اس نے کہا کہ وہ عورتوں سے کہے گی کہ نوازشریف کو ووٹ ڈٖالو ، میں نے کہا یہ تو قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ اس نے کہا کہ کون سا قانون؟مڑ کر اس نے پوچھا۔اس کی قبائلی آنکھوں میں بغاوت صاف نظر آ رہی تھی۔اب وہ عمران خان کا نام بھی لینا پسند نہیں کرتی۔ اس الیکشن میں وزیراعظم کے تین امیدوار ہیں ۔ بلاول بھٹوکے پاس نمبر گیم پوری نہیں ہو گی۔ شہباز شریف کو اگر وزیراعظم بنانا ہوتا تو اتنی اکھاڑ پچھاڑ کیا ضرورت تھی رہ گئے عمران خان تو ان کو اتنی نشستیں ہی دی جائیں گی کہ وہ وزیراعظم نہ بن سکیں ۔میری خبر یہ ہے کہ این اے 272سے اس بار الیکشن جیتنے والے جام کمال خان جو کہ جام آف لسبلہ بھی ہیں جو کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے چیف اور سابق وزیراعلی بلوچستان کے بیٹے ہیں ۔ جام کمال خان اس الیکشن کے بعد پاکستان کے اگلے وزیراعظم ہونگے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *