آپ ووٹ ڈالیں

پہلے یہ سن لیں۔ کہ وہ سیکیورٹی اہلکار جو الیکشن ڈے پر پولنگ اسٹیشنز پر تعینات کیے جا رھے ھیں۔ انہیں یہ ھدائیت جاری کی گئ ھے۔ کہ وہ پولنگ اسٹیشنوں پر جائیں اور یہ بات یقینی بنائیں۔ کہ تمام ووٹرز اپنی مرضی اور آزادی سے ووٹ کاسٹ کر سکیں۔ اور کسی کو کوئ شکایت نہ ھو۔ ووٹرز کی عزت کریں۔ اور اپنی عزت کروائیں۔ اسی میں اداروں کی ساکھ ھے اور احترام ھے۔ یہ ھدائیت ایک اھم ڈویلپمنٹ ھے۔ کچھ حالیہ معاملات اس کی وجہ بنے ھیں۔ جنہیں اس وقت زیر بحث لانا ضروری نہیں۔
چناچہ آپ اطمینان اور سکون سے جائیں اور اپنا ووٹ ڈالیں۔ اس لیے کہ یہ ملک ووٹ کی طاقت سے بنا تھا۔ اور یہ دنیا کا واحد ملک ھے۔ جو ایک جمہوری عمل کے ذریعے معرض وجود میں آیا۔ جب اس خطے کے لوگوں نے اپنا حق رائے دھی استعمال کیا۔ اور یہ فیصلہ دیا۔ کہ انہیں اپنے رھنے کے لیے ایک الگ وطن چاھیے ۔ اس ملک کی بنیاد اسی جمہوری اساس پر اٹھائ گئ۔ اور یقین کر لیں۔ یہی جمہوری عمل اس ملک کی سلامتی اور بقاء کا ضامن ھے۔ 1947 کے بعد 1970 تک ملک کی اس جمہوری بنیاد پر کبھی اسمبلیوں کی تحلیل ، کبھی حکومتوں کی برطرفی، کبھی نظریہ ضرورت، کبھی مارشل لاء اور کبھی صدارتی انتخاب کی شکل میں عمارت اٹھانے کی کوشش کی گئ۔ اور اس طرح جو عمارت بنی۔ وہ ٹیڑھی تھی۔ کیونکہ بنیاد کے مطابق نہ تھی۔ چناچہ گر گئ۔ پاکستان بننے کے 23 سال بعد جو پہلے آزادانہ انتخابات ھوے ۔ وہ آمریت کی منشا و مرضی کے مطابق نہ تھے۔ اکثریتی پارٹی کو اقتدار نہیں منتقل کیا گیا۔ اور جنرل یحیی اقتدار میں رھنے کے لیے سودے بازی کرتا رھا۔ اور پھر یہ انوکھا کام بھی ھوا۔ ایک ملک کی اکثریتی آبادی نے اس ملک کے ساتھ رھنے سے انکار کر دیا۔ جی ھاں ۔ مشرقی پاکستان کے لوگ اکثریت میں تھے۔ اور وہ اس لیے الگ ھو گئے۔ کہ انہوں نے جس جمہوری بنیاد پر یہ ملک بنایا تھا۔ ھمارے چند فوجی آمر اس بنیاد سے روگردانی کر رھے تھے۔ یہ تو آپ کو معلوم ھی ھے۔ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کی بنیاد ڈھاکہ میں رکھی گئ تھی۔ اور پاکستان کے اولین معمار اور قائداعظم کے جاں نثار یہی بنگالی تھے۔ وہ معمار جنہیں ایک آمر جنرل ایوب نے ایبڈو کے قانون کے ذریعے سیاست سے تا حیات نااہل کیا۔ اور قائداعظم کی بہن اور مادر ملت فاطمہ جناح کو ملک دشمن ڈکلیئر کیا۔ آپ غور کریں۔ آج ساٹھ سال بعد بھی ھمارے پاپولر سیاستدانوں کو اسی طرح تا حیات نااہل کیا جا رھا ھے اور انہیں ملک دشمن اور بھارت کا یار ڈکلیئر کیا جا رھا ھے۔ یہاں سے آپ ان چند عقل کل جرنیلوں کی زھنی گروتھ کا اندازہ لگا لیں۔ جن کی سوئیاں آج بھی پچاس کی دھائی میں پھنسی ھوئ ھیں ۔
اس سے پہلے کہ میں ووٹ کی اہمیت پر کوئی بات کروں۔ آپ ذرا اندازہ لگائیں۔ ھمارے چار فوجی آمروں نے اس ملک کے ساتھ کیا شگوفے کھلاے ھیں۔ اور گمان آج بھی یہ ھے۔ کہ وہ ملک کے مسیحا ھیں۔
جنرل اسکندر مرزا ، میر جعفر کا پڑپوتا، عہدہ صدارت کی مدت ختم ھونے سے کچھ پہلے پہلا مارشل لاء لگایا۔ اومان سے گوادر کی بندرگاہ لینے والے وزیراعظم فیروز خان نون کو معزول کیا اور کہا۔ پاکستان کے لوگ جمہوریت کے قابل نہیں ۔
جنرل ایوب ، طالع آزما، سات سال کمانڈر انچیف رھنے کے بعد عین اپنی ریٹائرمنٹ سے چار ماہ قبل ، گن پوائنٹ پر اسکندر مرزا سے استعفی لیا۔ دوسرا مارشل لاء لگایا۔ امریکہ کو ھوائ اڈے دیے۔ کولڈ وار کا حصہ بنا۔ روس کو دشمن بنایا۔ بھارت کو دریا بیچے۔ فاطمہ جناح کو ملک دشمن ڈکلیئر کیا۔ اور بنگالیوں کو تحقیر آمیز طریقے سے کہا۔ یہ پستہ قد ، چھوٹے سینوں والے فوج میں بھرتی ھونے کے لائق نہیں ۔ آپریشن جبرالٹر کا آغاز کیا اور بھارت سے شکست کھائی ۔ بنگلہ دیش کی بنیاد رکھی۔ ملکی معیشت کی ترقی جو ملک ٹوٹنے پر منتج ھوئ۔ کئ سال امریکہ کی چاکری کرنے کے بعد کتاب لکھی۔ فرینڈز ناٹ ماسٹرز
جنرل یحیی خان ، گن پوائنٹ پر جنرل ایوب سے اقتدار چھینا۔ تیسرا مارشل لاء لگایا۔ اکثریتی پارٹی کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے اپنے صدر رھنے پر اصرار کرتا رھا۔ اکثریتی صوبے میں فوج کشی کی۔ بھارت سے شکست کھائی ۔ پاکستان دولخت ھوا۔
جنرل ضیاءالحق، ایک کینہ پرور اور ظالم جنرل ، پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم، آئین کے خالق اور ایٹمی پروگرام کے معمار ، بھٹو کو پھانسی لگائ، روس کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ بنا، ملک میں انتہا پسندی، فرقہ واریت، ہیروئین کلچر، کلاشنکوف کلچر ، پرمٹ ، پلاٹ اور پلازہ کلچر کا بانی، غیر جماعتی الیکشن کروا کر ملکی سیاست کو مستقل طور پر کرپٹ کیا، ایلیکٹ ایبلز کا فروغ ۔ 58ٹوبی اور 62 اور 63 سے پارلیمینٹ اور وزیراعظم کو کنٹرول کیا، متحدہ ، سپاہ صحابہ، سپاہ محمد، لشکر طیبہ اور حرکت المجاہدین کے ذریعے پراکسی وارز اور دہشت گردی کو پروموٹ کیا۔ سیاچین گلیشیئر بھارت کے حوالے کیا۔
جنرل اسلم بیگ، ایٹمی پھیلاؤ کا آغاز کیا، طالبان کو پروموٹ کیا ، گلف وار پالیسی میں منتخب حکومت کی مخالفت کی۔
جنرل مشرف، ایک امریکی فون پر ڈھیر ، منافقت پر مبنی پالیسی، اچھے طالبان ، برے طالبان ، خودکش حملوں کا موجد ، پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی دینے والی بےنظیر کا قتل ، لوڈشیڈنگ کا موجد، پیسے لے کر اپنے بندوں کو امریکہ کے حوالے کرنے والا، ڈرون حملوں کا خالق، کارگل کی جنگ ھارنے والا ۔ اور مقدموں سے ڈر کر دوبئی چھپ کر بیٹھا ھوا۔
جنرل کیانی، طالبان سے ڈر کر ان کے مطالبات مانتا رھا، تین سال ڈی جی آئی ایس آئی، تین سال آرمی چیف، اور پھر طاھر القادری کے ذریعے منتخب حکومت کا بازو مروڑ کر مزید تین سال ایکسٹینشن لینے والا۔ یعنی کل نو سال،جس کے دور میں پاکستان پر حقیقی معنوں میں طالبان کی حکومت رھی، کراچی کرچی کرچی ۔ بھائیوں کی کرپشن کے قصے عام۔ ایبٹ آباد پر امریکی حملہ ۔
جنرل راحیل شریف، تین سال تک منتخب جمہوری حکومت کو مفلوج کیے رکھا۔ کبھی ڈان لیکس تو کبھی کلبھوشن یادیو ، خود وزیراعظم سے ایکسٹینشن کی درخواست کی، سی پیک پر کنٹرول لینے کی کوشش ، ایران کے خلاف سعودیہ سے دوستی اور آخری منزل ، سعودیوں کی نوکری۔
اور جنرل باجوہ جن کے دور میں کارپوریٹ جرنیلوں کی اوپن مداخلت کی انتہا ھو گئ۔
ان فوجی آمروں کی ناکامیاں ملاحظہ کریں۔ کولڈ وار میں اختیار کردہ خارجہ پالیسی کی مکمل ناکامی، آپریشن جبرالٹر کی ناکامی ، آپریشن سرچ لائٹ کی ناکامی ، اور پاکستان کا ٹوٹنا، سیاچن کو کھونا ، افغان وار میں حصہ لینے کی فاش غلطی اور اس کے بھیانک نتائج، ایٹمی پھیلاؤ کی غلطی، کارگل کی شکست ، انتہا پسندی کی پروموشن ، اچھے طالبان برے طالبان ۔ منافقانہ پالیسیاں، خودکش حملے ، ڈرون حملے اور بے جا سیاسی مداخلت۔
دوسری جانب ایک سیاسی وزیراعظم فیروز خان نون نے گوادر حاصل کیا، دوسرے سیاستدان بھٹو نے آئین دیا، ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا، لوگوں کو سیاسی شعور دیا، تیسرے سیاستدان بے نظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی لا کر دی۔ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم، چوتھے سیاستدان نے ایٹمی دھماکے کیے، سی پیک دیا، معاشی ترقی دی۔ اور ھم نے بھٹو کو پھانسی لگائ، بے نظیر کو قتل کیا اور نواز شریف دوسری بار جیل میں بند ھے۔ کیونکہ وہ ووٹ کی عزت کرنے کو کہہ رھا۔
وہ ووٹ جس نے یہ ملک بنایا ۔ وہ ووٹ جو اس ملک کی سلامتی اور یکجہتی کا ضامن ھے۔ وہ ووٹ جسے فوجی آمروں نے پاوں تلے روندا ۔ وہ ووٹ جس کی خاطر سیاستدانوں نے قربانیاں دیں۔ وہ ووٹ جو آپ کی خوشحالی، آپ کی ترقی ، آپ کے تحفظ کا ضامن ھے۔ یقین کر لیں۔ اس ووٹ نے آپ کو ملک دیا۔ آپ کو آئین دیا۔ 58 ٹو بی ختم کی۔ اٹھارویں ترمیم دی۔ بی اے ڈگری کی شرط ختم کی۔ تیسری بار وزیراعظم بننے کی پابندی ختم کی۔ یہ بڑا مشکل راستہ ھے۔ 70 سال کا قبضہ چھڑوانا مشکل نہیں۔ لیکن آپ کی یہ لولی لنگڑی اسمبلی اس کنٹرولڈ جمہوریت میں بھی اپنے لیے راستے نکال رھی ھے۔ آپ ووٹ دیں۔ تاکہ آپ کی پارلیمان آپ کے منتخب وزیراعظم کو آئینی تحفظ دے سکے۔ تاکہ کوئی عدالت اسے نکال نہ سکے۔ اسے جیل میں نہ ڈال سکے۔ آپ ووٹ دیں تاکہ آپ کی پاررلیمان 62/63 کا خاتمہ کر سکے۔ اور آپ ووٹ دیں تاکہ آپ کی پارلیمان اداروں کے اختیارات محدود کر سکے۔ وہ اختیارات جو آپ کی حکومت، آپ کی پارلیمان اور آپ کے وزیراعظم کو مفلوج کر دیتے ھیں۔ یہی جمہوری عمل ھے۔ اور اسی میں پاکستان کی سلامتی، یکجہتی اور بقاء ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *