بسرا کا ہاتھی

احمد حماد

پچھلے بارہ ماہ اور اس الیکشن نے ایک بات واضح کر دی کہ جو قلمکار اور دانشور اسٹیبلشمنٹ کی غلامی، سرکار دربار کی غلامی اور اسٹیٹس کو کے خلاف ہیرو بنے پھرتے تھے، وہ جھوٹ بولتے تھے۔

پرانے جیالے جو بھٹو کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ سٹانس پہ فخر کرتے اور پرانے ادیب شاعر دانشور جو جبر کی طاقتوں کو للکارتے تھے، وہ مر گئے۔ جو باقی بچے، وہ نظریہ بھول کر اسٹیبلشمنٹ کو پیارے ہو گئے۔ اور ہم پہ پھبتیاں کسنے لگے۔

اب ہم جیسے چند سر پھرے ہی باقی رہ گئے ہیں جو بہرصورت اس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں جو اپنے لوگوں کو مفتوح بنانے والوں اور ان کی تذلیل کرنے والوں کے خلاف ہے۔
ہم جنہیں طاقتوروں سے ڈر نہیں لگتا۔ اور جو اپنا مؤقف کھل کے بیان کرتے ہیں۔ اپنا مذاق اڑواتے ہیں، گالیاں کھاتے ہیں، معاشرتی نقصان اٹھاتے ہیں مگر اپنے مؤقف سے نہیں ہٹتے، خسارے میں رہتے ہیں۔ اور بے شک انسان خسارے میں ہے۔ ہم خسارہ برداشت کر لیں گے مگر اپنے لوگوں کے لیے جسے درست سمجھتے ہیں، اسے مضبوط کریں گے۔

ہمارے دوست احمر سہیل بسرا نے ایک بار کہا، نظریہ پالنا ہاتھی پالنے کے مترادف ہے۔ معاشرہ آپ کو اس کی سزا دیتا ہے۔ ہم اپنے دوست کی کہی ہوئی بات کی صداقت خود پہ بِتا چکے ہیں۔ اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ بسرا نے سچ کہا تھا۔

ہم جناح کے جمہوری پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کی کسی بھی کٹھ پُتلی کو ایک دن بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ آپ نے جسے پورے سال کی محنت کے بعد، میڈیا عدالت اور الیکشن کمیشن یرغمال بنا کر اقتدار کے سنگھاسن پہ بٹھایا ہے، وہ عام آدمی کی بات سنے گا کہ آپ کی؟؟؟
ہم ایسی کٹھ پتلیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ آپ کے سامنے سرنگوں نہیں ہونگے۔ یہ جعلی اور فیشنی اینٹی اسٹیبلشمنٹ لکھاری آپ کو مبارک!
ہم تو آپ کے حریف ہیں!!!

مِرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مِرا قلم تو عدالت مِرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا، تپاکِ جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تِیر کی ہے
(فراز)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *