نیا پنجاب کیسا ہو گا؟

علی عثمان قاسمی

اگر پاکستان میں آپ اربن مڈل کلاس  سے تعلق رکھتے ہیں ، ہم جنسی پرستی کے مخالف ہیں، سنی مسلمان ہیں، رائنٹ ونگ پنجابی ہیں، تو پھر آپ  پاکستانی فوج کے سپورٹر رہ چکے ہیں  اور فوج بھی آپ سے محبت کرتی ہے۔  لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ اب نہ تو سارے ایسے پنجابی فوج کے حمایتی ہیں اور نہ ہی فوج کو ان کی زیادہ فکر ہے۔ اس حقیقت میں ایک بہت بڑ ا معمہ بھی ہے اور اور موقع بھی کہ آپ یا تو ہمیشہ کےلیے بہتری کے راستے پر گامزن ہو جائیں یا تباہی کی طرف گھسٹتے جائیں۔ پنجاب سب سے بڑا میدان جنگ ہے کیونکہ یہ ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے  اور اس لیے بھی کہ پاکستانی فوج میں زیادہ تعداد پنجابیوں کی ہے ۔ بڑے بیوروکریٹس، اور انٹیلیجنس سربراہان پنجاب سے ہیں۔  پنجاب کے کچھ علاقوں اور کلاسز کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو پاکستانی ریاست نے اقلیتوں کو  نسلی، مذہبی اور جنسی بنیادوں پر تقسیم کیے رکھا ااور انہیں دبانے کی پالیسی اپنائے رکھی ہے۔  1947 سے اب تک بلوچستان میں چار علیحدگی پسند تحریکیں چل چکی ہیں اور سب کو فوجی طاقت سے دبایا گیا ہے۔ پشتونوں اور ان کے علاقوں کو نان سٹیٹ ایکٹرز کو طاقتور بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے  تا کہ بڑے سٹریٹجک مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ پہلا موقع قائد اعظم کی موجودگی میں 1947 میں پیش آیا
تھا جب قبائیلیوں کو کشمیر کی آزادی پر اکسا کر ڈوگرا حکومت پر حملہ بولا گیا۔ 1980 کے بعد جہاد کے نام پر شہریون کو ٹریننگ دی گئی تا کہ وہ افغانستان   میں روسی فوج کے خلاف لڑ سکیں۔ اس پالیسی کے منفی اثرات،خاص طور پر روس کے افغانستان سے انخلاء کے بعد مجاہدین کے دھڑون میں لڑائی کی صورت میں ظاہرہوئے اور پھر طالبان  کا ظہور ہوا۔ یہ سب چیزیں ہر کسی کو معلوم ہیں۔ اس طرح نائن الیون کے بعد پاکستان آرمی نے جو پینترا بدلا اور نتیجہ کے طور پر شدت پسندی اور دہشت گردی نے جنم لیا جس کے تمام پہلو تحاریر کی صورت میں تاریخ میں رقم کیے جا چکے ہیں۔ سندھیوں کو بھی  نہیں  بخشا گیا۔ ون یونٹ کے نفاذ  سے جس کا مقصد سندھیوں کا قتل عام تھا  اورا جس کے لیے سندھ کو ڈاکوں سے خالی کرنے کا بہانہ استعمال کیا گیا ، کے ساتھ  دوسرے بہت سے طریقوں سے سندھیوں کو دھائیوں تک دبایا جاتا رہا۔ کراچی جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہے  میں 1990  میں آپریشن کیا گیا اور بے شمار
لوگوں کو ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ریاست کی ظلم و جبر کی کہانی بہت طویل ہے  اور سب کو معلوم ہے اس لیے یہاں بیان کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔   تبدیلی ان حرکات کے سکوپ میں آئی ہے  جو کہ آب بہت سے علاقوں تک وسیع ہوتی جا رہی ہے جو پہلے اس میں موجود نہیں تھے۔ اب تک مذکورہ پنجابی طبقہ کافی حد تک محفوظ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس علاقے کو باقی تمام ملک پر ایک نگران کی حیثیت حاصل تھی جس کا فائدہ پنجاب کو پہنچتا تھا۔ پنجابی نیشنلزم پاکستانی نیشنلزم میں مدغم ہو چکی تھی۔ 1977 کے بعد پنجابیوں کا یہ طبقہ  سب سے زیادہ آرمی کا حمایتی رہا ہے  اور کھلے عام کسی بھی سیاسی اختلاف کو دبانے میں فوج کی طرف سے اٹھائے گئے اقدام کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ 1970 کی دہائی  میں پاکستان پہلی بار سیاسی جد وجہد کے دور میں داخل ہوا ۔ اب 50 اور 60 کی دہائی کی بالواسطہ جمہوریت کی کوئی گنجائش نہیں بچی تھی۔ اس کے علاوہ پنجاب اور کراچی میں صنعتی طبقہ بھی مضبوب ہوا  اور اب یہ علاقے بیوروکریسی اور ملٹری کے سامنے جھکنے سے انکاری دکھائی دیے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے جانے کے بعد ان کی ساری محنت پر ذوالفقار علی بھٹو نے پانی پھیر دیا۔ ان کے اداروں کو قومیانے کے نظریہ سے ملک بھر میں ایک نئی جہت متعارف کروائی اور اس سے پنجاب کے جاگیرداروں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ۔ 1977 میں بھٹو کے خلاف نظام مصطفی  تحریک شروع ہوئی تو اس میں زیادہ تر ایسے لوگ شامل تھے جو بھٹو کی معاشی پالیسیوں پر ناراض تھے۔ اس طبقہ کو شہ   جنرل ضیاء نے دی ۔ ضیا نے سارے انڈسٹریلسٹس کو ان کے یونٹ واپس دلوائے جس سے ان کی سپورٹ بیس میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ ا ن کا مقصد پی پی کے خلاف اٹھی تحریک کو اپنے انتخابی سپورٹ کے لیے استعمال میں لانا تھا۔ اسی لیے شریف خاندان کو سیاست میں لایا گیا۔ بھٹو دور حکومت میں نواز شریف کے خانددانی بزنس کو قومی دھارے میں شامل کر لیا گیا تھا۔ ان کے والد میاں محمد شریف ایک میڈیم سکیل انڈسٹریلسٹ تھے  اور مذہبی طبیعت کے مالک تھے۔ بھٹو کے لیے نفرت اور اسلام سے محبت  اور بزنس کمیونٹی سے اتحاد وہ عناصر تھے جس کی وجہ سے میاں شریف کا خاندان ضیا دور میں پنجابی سیاست میں داخل ہوا۔ دہائیوں تک محمد نواز شریف ضیا الحق اور اپنے والد کے سہارے پنجابی سیاست میں اپنی بقا  کو یقینی بنانے میں کامیاب رہے۔ ان کو ہمیشہ فوج کی حمایت حاصل رہی جس کی بنا پر انہوں نے پیپلز پارٹی کو پنجاب سے بے دخل کرنے  کے لیے کریک ڈاون بھی کیے کیونکہ انہیں شک تھا کہ پنجاب میں رائٹ ایکٹوسٹس اور ٹریڈ یونینز کے ساتھ پیپلز پارٹی کے اتحاد کی وجہ سے یہ طاقت نہ پکڑ لے ۔دھاندلی، پرسکیوشن، میڈیا ٹرائل اور پھر بے نظیر کے قتل کے ذریعے ہی پیپلز پارٹی کو پنجاب سے ختم کیا جا سکا۔ شریف خاندان اور ملٹری کا گہرا ساتھ
1988 اور 1990 کے الیکشن میں نظر آیا۔ فوجی جرنیل بھی یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے بے نظیر کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد قائم کیا تھا ۔ 88ء کے الیکشنمیں پنجاب کی زیادہ تر سیٹس پیپلز پارٹی جیت گئی۔ 3 دن بعد جب صوبائی اسمبلیوں کے لیے الیکشن ہوئے  تو جرنیلوں نے اوور ٹائم لگا کر پنجاب اسمبلی میں نواز شریف کو بشمکل اکثریت دلائی ۔ 1993 میں  مسلم لیگ کے چند ممبران پر مشتمل  ایک دھڑے نے  اپنا چیف منسٹر منتخب  کرنے کے لیے مامزد کیا   اور سینٹر میں پیپلز پارٹی کی حکومت بن گئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 1977 سے اب تک پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنا وزیر اعلی نہیں بنا پائی۔    پنجاب حکومت بنائے بغیر مرکز میں حکومت کبھی طاقتور نہیں ہو سکتی  تھی۔ اسی وجہ سے ایک بار بے نظیر نے اپنے آپ کو اسلام آباد کا مئیر قرار دیا تھا۔  فوج کی مدد سے اقتدار میں آنے کے بعد اور پھر اپنی سیاسی طاقت قائم کرنے کے بعد نواز شریف ایک نظریاتی سیاستدان بن چکے ہیں۔ پچھلے کئی سال سے انہوں نے
انتخابی سیاست کے گُر میں مہارت حاصل کرلی ہے اور اس کے لیے اب انہیں ملٹری پر انحصار کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ پی پی کی تنزلی کے ساتھ  اب نواز شریف واحد مقبول لیڈر ہیں  اور خاص طور پر 2007 میں بے نظیر کی شہادت کےبعد ان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے اوپر گیا ہے۔ ان کی طاقت کو لگام دینا بہت ضروری تھا۔ اسی لیے پاکستان تحریک انصاف کی برنڈنگ کا عمل دیکھنے کو ملا۔ اگرچہ تحریک انصاف ایک دہائی سے قائم تھی لیکن اس کی اصل قوت 2008 کے بعد بڑھنا شروع ہوئی کیونکہ فوج کو پنجاب میں نواز شریف کے متبادل قوت کی ضرورت تھی۔ فوج کا خیال شاید یہ تھا کہ رائٹ ونگ پنجابی طبقہ کا ووٹ ان کے ہاتھ میں ہے  اور یہ ووٹ بینک ملٹری کی حمایت یافتہ پارٹی کی طرف شفٹ ہو جائے گا۔ پنجابیوں کی بدلتی وفاداریوں کے بارے میں ایک رائے قائم کرتے ہوئے یہ سوچ لیا گیا تھا کہ ووٹ بینک پی ٹی آئی کی طرف منتقل ہو جائے گا جیسا کہ مشرف کے دور میں 2002 میں ق
لیگ کیطرف منتقل ہوا تھا۔ لیکن یہ اب بہت مشکل معاملہ لگنے لگا ہے  کیونکہ شریف برادران کے چاہنے والے بھی اتنی ہی تعداد میں ہیں جتنے آرمی کے چاہنے والے۔ شریف برادران نے عوام میں اپنا مقام خود پیدا کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بات صرف شریف خاندان اور ملٹری کے بیچ تعلقات کی خرابی تک محدود نہیں ہے جو اس تبدیلی کا باعث بنا رہا ہے۔ اس کا تعلق اب مقامی ڈائنامکس سے ہے جو کہ پنجاب میں اب بدل چکا ہے۔ اس تبدیلی کے معمہ کو سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔لوکل سطح پر شریف خاندان کو ان ترقیاتی منصوبوں کا فائدہ پہنچ رہا ہے  باوجود اس  کے کہ وہ ان تبدیلیوں کے براہ راست ذمہ دار نہیں ہیں۔ نہ ہی یہ سوشو پولیٹکل اور اکنامک شفٹ  پنجاب میں کسی قسم کے جمہوری انقلاب کی امید دیتی ہیں۔ لیکن معاشی فوائد کےلیے جذبات، عوام کا محرک ہو جانا، شخصی آزادی  اور عام معنی میں ایک اچھی زندگی   کی خواہش نے پنجاب کے عوام کو ابھی بھی بے اطمینانی اور بے چینی کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اگر صورتحال کا عمومی مطالعہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کو ٹارگٹ کر کے فوج پورے انتخابی عمل کو داغدار کر رہی ہے  جو کہ اس نے اتنی محنت کے بعد مضبوط کیا تھا  اس کے ساتھ ساتھ فوج اپنے سب سے بڑے سپورٹ بیس کو  اپنے سے دور کر رہی ہے۔ یہاں یہ یاد رکھنا اہم ہو گا کہ اس کلاس کی وفاداریوں میں تبدیلی نہیں آئی ہے اگرچہ یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے  کہ اس میں سے ایک بہت بڑا حصہ اب بھی شریف خاندان کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی پنجاب گروپ میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اب شہری علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں، کچھ مڈل کلا س سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ ایسے پروفیشنلز بھی ہیں جو بہت کھل کر بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن یہ سب شریف خاندان اور سیاست سے متنفر ہو چکے ہیں  اور جمہوری عمل کو نا اہل سمجھنے لگے ہیں۔ یہی لوگ ملٹری کے پھٹوں کی طاقت بنتے ہیں ۔ اس الیکشن میں اصل مقابلہ ان دونوں پنجابی گروپوں کے بیچ ہو گا جنہوں نے دو مختلف نظریات اور فوج کے بارے میں  موقف اپنا رکھے ہیں۔ اسی لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت بڑا موقع ہے۔ پہلی بار پنجاب بدل رہا ہے۔ اس کی ایک مثال نواز شریف کا مثالی استقبال ہے۔ سینٹرل پنجاب کے دل میں  پیرا ملٹری اہلکار تعینات کے ن لیگ کے سپورٹرز کو روکا گیا  جو نواز کو خوش آمدید کہنے کے لیے ایک بڑی تعداد میں جمع ہوئے تھے ۔ نواز شریف نے اپنے تازہ ترین بیان میں واضح طور پر سیاست میں مداخلت کی ذمہ داری فوج پر عائد کی تھی  اور عام ملکی مسائل کا ذمہ دار بھی فوج کو قرار دیا ۔ پنجاب میں ان کا بیانیہ بہت مقبول ہو رہا ہے  جو کہ تاریخ کے تناظر میں ایک نئی چیز ہے کیونکہ یہاں کے عوام ہمیشہ فوج کے حمایتی رہے ہیں۔ فوج پر سیاست میں مداخلت کے تحفظات  صرف عام گروپس جیسا کہ بلوچ، پشتون، سندھی، مہاجر اور علیحدگی پسند پنجابیوں کی طرف سے ہی نہیں آ رہے بلکہ اب شہری مڈل کلاس،  ہم جنس پرستی کے مخالف لوگوں، سنی مسلمانوں اور رائٹ ونگ پنجابیوں کی طرف سے بھی آ رہے ہیں۔ اگر یہ مومنٹم جاری رہا تو یہ امید کی جا سکتی ہے کہ جمہوری عمل مضبوط ہو گا اور غیر منتخب طاقتوں کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔  لیکن اگر ان طاقتوں نے دھاندلی کے ذریعے مطلوبہ انتخابی نتائج حاصل کر لیے اور ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آئی تو اس سے فوج  سیاسی عوامل پر زیادہ قوت کے ساتھ اثر انداز ہونے لگے گی۔ یہ ایک بے مثال صورتحال اس لیے ہو گی کہ اب ریاست نہ صرف فاشسٹ رویہ اپنانے کے قابل ہو جاے گی بلکہ کسی بیرونی دباو کے بغیر فاشسٹ ریاست کی حرکات بھی اپنا لے گی۔

source : http://tns.thenews.com.pk/prospects-new-punjab/#.W1SJr4ozbIU

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *