جھوٹ کی چھوٹ

کاں چٹا ہو یا جھوٹ سفید، ہمیں دونوں ہی اچھے لگتے ہیں۔ کچھ لوگ جھوٹ کو اوڑھنا بچھونا بنانے کے باوجود خود کو سچا تسلیم کرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ ان لوگوں کے اندر عبادت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے اس لئے وہ خود کو سچا ثابت کرنے کے لئے جھوٹ کوبھی As Such ہی بولتے ہیں۔ ان کو اپنے نامہ اعمال کے سیاہ ہونے کا ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے اس لئے اس سیاہی سے بچنے کے لئے وہ جھوٹ بھی سفید ہی بولنا پسند کرتے ہیں۔ جھوٹ کے چونکہ پاؤں نہیں ہوتے اس لئے ہمارے معاشرے میں وضع دار لوگ زیادہ جھوٹ بولنے کی وجہ سے پاؤں کو جرابوں سے ڈھانپ کررکھتے ہیں تاکہ جھوٹ بولتے وقت ان کے پاؤں نظر نہ آسکیں۔ ایسے لوگ ہر جھوٹی بات کرنے سے پہلے ’’جھوٹے پر خداکی لعنت‘‘ کا صیغہ استعمال کرتے ہیں لیکن اس احتیاط کے ساتھ کہ یہ صیغہ استعمال کرنے سے قبل دل میں یہ الفاظ ضرور دہرا لیں ’’میرے علاوہ ہر‘‘ (پھر باآواز بلند) جھوٹے پر خدا کی لعنت۔ ہمارے ہاں جھوٹ بولنے والا ہر شخص خود پر جھوٹ کا لیبل لگوانے سے بچنے کے لئے جھوٹ سے قبل کانوں کو ہاتھ لگا کر ’’دروغ بر گردن راوی‘‘ کہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ دریائے راوی کی گردن میں جھوٹ کی اتنی آلائشیں ڈال دی گئی ہیں کہ اب وہ سیوریج نالے کا منظرپیش کرنے لگا ہے۔ لہٰذا اب راوی سے گزرتے ہوئے آپ کو اپنے ناک پر رومال یاکپڑارکھناپڑتا ہے۔ ہمارے ایک سچائی پسند دوست کا دعویٰ ہے کہ جھوٹ بولنے والے شخص کے منہ سے بدبو آتی رہتی ہے اس لئے ہم جیسے احتیاط پسندلوگ دن میں کئی بار ماؤتھ فریشنر استعمال کر کے اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ سیاست سے لے کر زندگی کے کسی بھی شعبے کا مطالعہ کر لیں آپ کو جھوٹ کی بادشاہی ملے گی۔ ہمارے یہاں تو سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والوں کو جھوٹ کے بعد ’’شاہی‘‘ بھی مل جاتی ہے۔ اکثر لوگ گھر میں اپنے بچوں کو باقاعدہ جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ عموماً معصوم بچے کو باپ کہتا ہے کہ باہرجا کرکہہ دو بابا گھر پر نہیں ہیں اور بچہ بھی بڑی معصومیت سے جا کر آنے والے کو بتاتا ہے کہ بابا کہہ رہے ہیں میں گھر پر نہیں ہوں۔ ہمارے ایک سچے کھرے دوست نے اس مسئلے کا حل یوں نکالا کہ اگر کوئی ناپسندیدہ ملاقاتی گھر پر آ جاتا ہے تو وہ گھر کے عقبی دروازے سے باہر نکل کر گھر والوں کو کہہ دیتے ہیں کہ بتا دو صاحب گھر پر نہیں ہیں۔ ان کے بچے بھی ان کی طرح سچے واقع ہوئے ہیں وہ بھی ملاقاتی کو جا کر بتا دیتے ہیں کہ وہ ابھی ابھی گھر سے نکلے ہیں۔ ہمارے ہاں کسی کا جھوٹا کھانے کو معیوب سمجھا جاتا ہے تاہم کچھ لوگ فرط عقیدت سے اپنی پسندیدہ ہستی کا جھوٹا کھا کر خوشی محسوس کرتے ہیں اس طرح عقیدت عقیدت میں جھوٹ کو عام کیا جاتا ہے۔ اکثر دیکھا گیاہے کہ سخاوت کے عادی گھرانوں میں کتے بلیوں کے جھوٹے دودھ کو لوگ ازراہ محبت اپنے ہمسایوں کے گھر بھجوانا کارثواب سمجھتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ اس طرح کے ثواب سے وہ خود بھی متعدد بار فیض یاب ہوچکے ہوتے ہیں۔ جھوٹ کے مختلف درجے ہیں۔ ابتدائی درجے کو شوہر، دوسرے درجے کو تاجر اور سب سے آخری درجے کو سیاست دان کہتے ہیں۔ بھلے وقتوں میں نوزائیدہ بچوں کو گھٹی دینے کے لئے کسی بزرگ کے منہ سے جھوٹی کی ہوئی چیز کھلائی جاتی تھی یوں جھوٹ ہر آنے والے بچے کی گھٹی میں شامل کر دیا جاتا تھا۔ جھوٹ کی چھوٹ سے لطف اندوز ہونا ہو تو آپ گھر میں اپنا ٹی وی سیٹ آن کرلیں آپ کو ایسا ایسا جھوٹ سننے کو ملے گا کہ اس پریقین کئے بغیر آپ رہ نہیں پائیں گے۔ کچھ چینل تو ایسے بھی ہیں کہ اگر ان کے پروگراموں سے جھوٹ نکال دیا جائے تو باقی اشتہارہی بچتے ہیں تاہم اشتہاروں کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہیں کہ وہ کتنے سچ پر مبنی ہوتے ہیں کیونکہ اشتہار تو اشتہارہی ہوتا ہے۔ انگریزی زبان میں جھوٹ کو ’’لائی‘‘ کہا جاتاہے شاید یہی وجہ ہے کہ والدین اپنے شادی شدہ بیٹے کو ’’لائی لگ‘‘ سمجھتے ہیں۔ عشق و محبت کے معاملات میں اگر جھوٹ کی آمیزش نہ ہو تو تعلق ٹوٹنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جھوٹ کی وجہ سے لوگ اپنے لئے آسودگی اور آسانی کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہر دکاندار، تاجر، صنعت کار، آجر اور ہر فاسق و فاجر جب تک جھوٹ کا سہارا نہ لے وہ خود کو کامیابیوں کی گنگا میں نہایا ہوا محسوس نہیں کرتا۔ اردو محاوروں میں جھوٹ کے پاؤں نہ ہونے سے لے کر بے پر کی اڑانے، بات کا بتنگڑ بنانے اور ڈینگے مارنے تک ہر کام میں جھوٹ کی فراوانی نظر آئے گی۔ جھوٹ محض چار حروف کا مجموعہ ہے مگر اس لفظ کو توڑا جائے تو دلچسپ نتائج اخذ ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کے نتائج عموماً مختلف ممالک میں انتخابی عمل کے بعد سامنے آتے ہیں۔ جھوٹ کا ’’ج‘‘ ہٹا دیں تو باقی ہوٹ بچتا ہے اور کسی کو ہوٹ کرنے کے لئے اچھا خاصا جھوٹ بولنا پڑتا ہے اور اگر جھوٹ میں سے ’’جھ‘‘ نکال دیا جائے تو باقی ’’وٹ‘‘ بچتا ہے اور پنجابی میں وٹ نکالنے کے لئے سچ مچ ایسا کچھ کرنا پڑتا ہے کہ اگلا گھوم کر رہ جائے۔ ہمارے دوست دامن سچیار کا دعویٰ ہے کہ جھوٹ کی درجہ بندی کی جائے تو اس کے تین درجے جھوٹ، انتہائی جھوٹ اور پرلے درجے کا جھوٹ قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ ہمارے لوگ تیسری قسم کا جھوٹ بول کر اپنے درجات کی بلندی کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ معاشرے میں جس قدر جھوٹ قدم قدم پر بولا جا رہا ہے اس کے لئے ہمیں قومی سطح پر ایسے تربیتی مراکز قائم کرنا پڑیں گے جن میں لوگوں کو جھوٹ بولنے اور جھوٹ کے ذریعے کامیابیاں سمیٹنے کی تربیت دی جا سکے۔ ماضی میں جب بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ تھا تو یہاں جیوٹ ملز قائم کی گئی تھیں لہٰذا ان ملوں کو اب جھوٹ ملز میں تبدیل کر کے ملک کے لئے تربیت یافتہ افرادی قوت پیدا کی جا سکتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں زبان کی لذت کے لئے ہم سب غیبت کی صورت میں جھوٹ کا چسکا لیتے رہتے ہیں اور ہم جھوٹ کے بارے میں کبھی اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا پسند نہیں کرتے۔ ہمارے معاشرے میں جس قدر جھوٹ کی فراوانی ہے تو اس سے لگتاہے کہ ہم کسی غیراسلامی معاشرے میں زندہ ہیں کیونکہ ایک حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ مسلمان کی نشانی یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا اور کسی کو دھوکانہیں دیتا۔ ہم خود اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہوئے خودکو نہ صرف مسلمان سمجھتے ہیں بلکہ جھوٹ پہ جھوٹ بولتے چلے جاتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم آخرت میں اپنے سچے نبی کی شفاعت کے حقدارقرارپائیں گے۔ اللہ ہم پر رحم کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *