انتحابی رسہ گیروں کا پیچھا

میں نے زندگی میں ایک بار رسہ گیروں کا پیچھا کیا تھا۔ لاھور سے اپنے گاوں چھٹیوں پر گیا تھا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ لوگ اپنے اپنے چوباروں اور کھووں پر
سوے ھوے تھے۔ سارے دن کی وائ بیجی کے بعد نیند بڑی مزے کی آتی ھے۔ خاص طور پر جب سارا دن خوب گرمی پڑی ھو۔ ٹکا کر محنت کی ھو اور رات کو ٹھنڈی ھوا چلنی شروع ھو جاے۔ یہ سرد مدھر اور میٹھی ھوا بڑی مست اور مزے دار ھوتی ھے۔ کھیتوں کھلیانوں اور فصلوں کے اوپر اڑتی ، پگڈندیوں پر چلتی اور کھالیوں کے پانی پر تیرتی یہ ھوا بہت نرماھٹ سے ، کسی دلہن کی شرماھٹ سے، اور شرمگین گھبراہٹ سے بڑی خاموشی سے دبے پاوں چلتی آتی۔ اور سوت کی ننگی بے بستر چارپائیوں پر بے سدھ پڑے کسانوں کو ھلکے ھلکے گدگداتی۔ ھلکورے دیتی ۔ لوریاں سناتی۔ اور پلکوں کے راستے دل میں اتر کر ، خوابوں کے سفر میں دور کسی اندیکھے جزیروں کی طرف لے جاتی۔ جہاں خوشحالی ھوتی۔ خوشیاں ھوتیں۔ مسرت و شادمانی کے نغمے ھوتے۔ آرام اور آسودگی کے دن ھوتے اور سکھ اور سکون کی راتیں ھوتی۔
یہ ایک ایسی ھی نرم گرم ، سندر اور سوھنی رات تھی۔ میں باھر کھوں پر اپنے چچا کے ساتھ والی چارپائی پر لیٹا چند لمحوں پہلے کے حسین واقعہ پر غور کر رھا تھا۔ جب گاوں کی میرے بچپن کی چند ھمجولیاں چلتے چلتے وھاں سے گزری تھیں ۔ اور مجھے ایک ھلکا سا پتھر مار کر کھی کھی کرتی وھاں سے دبے پاوں بھاگی تھیں ۔ اور میں ان کی چوڑیوں کی کھنکناھٹ کا پیچھا کرتے ان کے پیچھے لپکا تھا۔ اور پھر ھم کتنی ھی دیر پانی کی ایک کھالی کے کنارے بیٹھے دیر تک باتیں کرتے رھے تھے۔ اور پانی ھمارے پیروں سے لے کر ٹانگوں تک بہہ رھا تھا۔ زندگی میں کچھ لمحے کتنے مدھر اور میٹھے اور رومان پرور ھوتے ھیں۔ اور پھر وہ اینٹی کلائمکس جب میں چپکے سے واپس اپنی چارپائی پر آیا۔ تو میرے چچا نے گلا کھنکھارتے ھوے کہا تھا۔ اب تم بڑے ھو گئے ھو۔ یہ بچپنا اب چھوڑ دو۔ اور میں نے آھستہ سے کہا تھا۔ بچپنا ھی تو چھوڑ رھا ھوں۔
انہی لمحوں میں کھویا تھا۔ اور ٹھنڈی مست ھوا کی گدگدیوں سے لطف اندوز ہو رھا تھا۔ کہ دور سے ھوا کے دوش پر تیرتی ایک تیز کرخت اور چلاتی آواز آئ۔ اوے لوکو،  رسہ گیر ڈنگر کھول کر لے گئے جے۔ ایسے تھا۔ جیسے اسرافیل نے سور پھونک دیا ھو۔ اور پورے گاوں اور گاوں کے ارد گرد تمام کھووں پر کرنٹ دوڑ گیا ھو۔ میرے چچا ایسے چھلانگ لگا کر چارپائی سے اٹھے۔ جیسے موت کا فرشتہ دیکھ لیا ھو۔ وہ کبڈی کے کھلاڑی تھے۔ اور جمپ لگا کر کھڑے بندے کے اوپر سے گزر جاتے تھے۔ بھاگتے ھوے وہ بھینسوں کے طویلے میں گئے۔ اور اپنی بارا بور کی دو نالی بندوق نکال کر لے آئے ۔ ایک بھالا انہوں نے مجھے تھما دیا۔ میری رومان پرور نیند پہلے ھی ھوا ھو چکی تھی۔ پیاری پریاں جا چکی تھیں۔ یہ بھالا ھاتھ آیا تو معلوم ھوا۔ اب پرستان کے جنوں اور بھوتوں سے واسطہ پڑا ھے۔ یہ ٹھیک ھے۔ میں کراٹے کا پلیئر تھا۔ لیکن اس کھلی جنگ کا پہلی بار موقع آیا تھا۔ جب میں نے ان رسہ گیروں کا تعاقب کرنا تھا۔ جو ھمارے گاوں کے مال مویشی چرا کر لے جا رھے تھے۔ میں نے اپنی دھوتی کو دو گھانٹھیں ماری۔ کہیں اس کشا کشی میں،  ٹیڑھی میڑھی پگڈندیوں پر بھاگتے ، پھسلتے کہیں دھوتی ھی نہ کھل جائے ۔ اور کوئ نیا سیاپا پہ جائے ۔ ھاتھ میں پکڑے گنڈاسے کو ھوا میں بلند کیا اور بڑک لگائ۔ اوے جدوں تک مولے نوں مولا نہ مارے۔ مولا نئ مر سکدا۔ چچا نے یہ بڑک سن کر خوش ھو کر کہا۔ ھشکے بھئ ھشکے۔ پھر اس خوشی میں اپنی دو نالی بندوق کا منہ آسمان کی طرف کیا اور باری باری دو فائر مارے۔ ڈز ڈز۔ گولیوں کی تڑتڑاھٹ سن کر میرے سوے ھوے شہری خون نے انگڑائی لی۔ اور انگڑائی لے کر مکمل بیدار بلکہ پاگل ھو گیا۔ اندر کا راجپوت جاگ گیا۔ اس دوران ھر جانب سے تیز چلاتی آوازیں آ رھی تھیں۔ ایک وار کرائ یعنی جنگی کیفیت جس نے رات کی اس خاموشی میں پورے گاوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اور لوگ اپنے اپنے گھروں اور کھووں سے اٹھ کر اس طرف بھاگ رھے تھے۔ جدھر کو رسہ گیر مال مویشی کھول کر لے گئے تھے۔ کسی نے ڈنڈا پکڑا ھوا تھا۔ کوئ پسٹل سے مسلح تھا۔ کسی نے بندوق اٹھائ ھوئ تھی۔ اور کوئ رسے تھامے ھوے تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا چارجڈ ماحول نہیں دیکھا تھا۔ گپ اندھیرا ، کچی پکی پگڈنڈیاں،  پانی کی کھالیاں،  قد آور فصلیں،  اور انجان چہرے ، کہیں کہیں ٹارچوں کی روشنی اور اس روشنی میں لمبے بھوترے چہرے جو شور مچاتے، نعرے لگاتے رسہ گیروں کا پیچھا کر رھے تھے۔ چند ایک کھوجی جو مال مویشیوں کے قدموں کا کھوج لگاتے اس پر جوش مجمع کو گائیڈ کر رھے تھے۔ مجھے ایک بار لگا ۔ میں تاریخ میں واپس چلا گیا ھوں۔ راجپوتوں کی کسی جنگ میں شریک ھوں ۔ اور دشمن کا پیچھا کر رھا ھوں۔ اتنی دیر میں ایک جانب سے غلغلہ اٹھا۔ مل گئے۔ مل گئے۔ مویشی مل گئے۔ پیچھا کرتے پورے ماب میں جیسے کرنٹ دوڑ گیا۔ لوگ جیسے اڑتے ھوے کھیتوں کے بیچوں بیچ ایک خالی قطعے پر کھڑے ان مویشیوں کے پاس پہنچے۔ اور انہیں فوری طور پر قبضے میں لے لیا گیا۔ ایک ٹاسک پورا ھو گیا تھا۔ دوسرا ھدف باقی تھا۔ رسہ گیر پکڑنے تھے۔ لیکن رسہ گیر کہیں نظر نہیں آ رھے تھے۔ بہرحال لوگوں نے اس چوری شدہ مال پر قبضہ کیا اور رسہ گیروں پر لعنت بھیجتے ھوے واپسی کی راھ لی۔ وہ بعد میں پتہ چلا۔ جس جتھے نے مال مویشی ملنے کا غلغلہ بلند کیا تھا۔ وھی رسہ گیر تھے۔ اور عوام کے تعاقب سے گھبرا کر چوری شدہ مال کی نشاندہی کرکے خود فرار ھو گئے تھے۔
ایک ایسی ھی رسہ گیری ھم نے پچیس جولائی کو بھی دیکھی ھے۔ جب عوام کے ووٹوں سے بھرے بیلٹ بکسوں پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ اور انہیں رسہ گیر اٹھا کر لے گئے۔ عوام نے پیچھا کیا۔ اب تک دس کے قریب جگہوں سے چوری شدہ مال دریافت ھو گیا ھے۔ باقیوں پر کش مکش جاری ھے۔ امید ھے۔ اگر عوام یونہی جاگتے رھے اور اپنے ووٹوں پر پہرے دیتے رھے۔ تو مزید مال مسروقہ بھی برآمد ھو گا۔ یہ رسہ گیر تو بہت نکمے نکلے۔ پہلے ڈر کر ڈبے اٹھاے اور اب ڈر کر برآمد کر رھے ھیں۔ مانسہرہ،  مری ، سرگودھا ، سیالکوٹ،  فیصل آباد، لاھور ، کراچی اور ایبٹ آباد میں مال مسروقہ پکڑا جا رھا ھے۔ اگر باقی جگہوں پر بھی یہ پریشر پڑا۔ تو 25 جولائی کو جو ملک بھر میں چوری ھوئ ھے۔ وہ رسہ گیروں سمیت آشکار ھو گی۔ یہی وہ ووٹ کی عزت ھے۔ جو لوگ اب کروا رھے ھیں۔ اور سیاسی پارٹیاں بارگین کر رھی ھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *