آزمائش

میاں نواز شریف سے چاہے جو بھی بھول چوک ہوئی ہو یا ان سے جو بھی غلطیاں ماضی میں سر زد ہوئی ہوں،مگر اس وقت حقیقت یہ ہے کہ فوج و اسٹیبلشمنٹ کے سامنے ڈٹے رہنے اور انہیں یہ بتانے میں انہوں نے انتہائی حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے کہ حکومتوں کا بنانا اور گرانا تو ایک طرف، ایک منتخب حکومت کے معاملات میں دخل اندازی کے بھی یہ لوگ قطعی مجاز نہیں ہیں ۔ یہ مؤقف میاں صاحب نے بڑے محکم انداز میں 1993ء سے اپنایا ہوا ہے جب انہیں حکومت سے نکال باہر کر دیا گیا تھا اور پھر بعد میں سپریم کورٹ نے ان کی حکومت بحال کی تھی لیکن پھر دوبارہ انہیں اقتدار چھوڑ نے پہ مجبور کر دیا گیا تھا۔پھر 1999ء میں بھی ان کے ساتھ یہی ہوا اور انہیں سات سال تک جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی تھی۔اس وقت وہ اسی جرم میں سلاخوں کے پیچھے ہیں کیونکہ ان کا اصرار تھا کہ جنرل پرویز مشرف پہ بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلنا چاہئے اور وہ داخلی و خارجی پالیسیوں کو غیر ریاستی عناصر کی سیاست سے پاک کرنے کا تقاضہ کر رہے تھے۔ان کے لئے یہ بالکل آسان تھا کہ بے نظیر بھٹو، الطاف حسین اور پرویز مشرف یا پھر لینن اور خمینی وغیرہ کی طرح وہ بھی اس بار مزید دس سال تک لندن کے اپنے لگژری فلیٹس میں جلاوطنی کی زندگی گزاریں اور ساتھ ہی اپنی علیل اہلیہ کی دیکھ بھال بھی کریں۔ تاہم انہوں نے اپنی بیٹی سمیت وطن واپسی کا فیصلہ کیا اور وطن واپس آکر سیدھے جیل جا پہنچے تاکہ ووٹ کی عزت کو بحال کر سکیں۔ ان کا یہ فیصلہ ایک غیر معمولی سیاسی اقدام ہے جس کے دور رس نتائج ظاہر ہوں گے۔پنجاب ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کا مرکز رہا ہے۔میاں صاحب کے اس اقدام نے گویا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے قلب میں چھرا گھونپ دیا ہے اور وہاں فوجی طاقت اور اس طاقت کے جوازکے ذرائع کو ناقابلِ تلافی حد تک نقصان پہنچا ہے۔ پختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں وقتاً فوقتاً ’’پنجابی فوج و اسٹیبلشمنٹ‘‘ کے خلاف قوم پرستانہ تحاریک اٹھتی رہی ہیں لیکن اس ملک کی ستر سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ پنجاب کا ایک بڑا حصہ ریاست یا حکومت مخالف جماعتوں یا دیگر صوبوں کے لیڈروں کے خلاف نہیں بلکہ ’’محب وطن‘‘ سمجھے جانے والے ’’فرزندانِ وطن ‘‘ کے خلاف سلگ رہا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس کی بدولت ا ن غیر جمہوری ریاستوں کا عمرانی معاہدہ پارہ پارہ ہو جاتا ہے جو انتہا درجے کی مرکزیت کا شکار ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ سخت آزمائش میں ہے۔ بدقسمتی سے عدلیہ کی بھی آزمائش ہو رہی ہے۔ایک جمہوری نظام میں عدلیہ کی بنیادی تین ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اول یہ کہ عوام کو انصاف فراہم کیا جائے، دوم ، پارلیمان کی بالادستی برقرار رکھی جائے اور سوم یہ کہ سیاسی وابستگیوں سے آزاد رہ کر سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان ایک انتہائی غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرے۔ اس وقت ان تینوں پہلوؤں سے عدلیہ درست طور پر کام نہیں کر رہی ۔ سینکڑوں ہزاروں عوامی مقدمات ایسے ہیں جو سالوں و عشروں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ عدالت عظمیٰ قوانین کی تشریح کی بجائے تشکیل میں زیادہ مصروف ہے۔منجدھار کی جماعتوں کے لیڈر اور کارکن تمام سزاؤں کا ہدف بنے ہوئے ہیں جبکہ لاڈلوں اور عسکریت پسندوں کو کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ماضی اور حال کے بعض جج بے شک ایسے ہیں جو تنازعات کا شکار رہے ہیں لیکن اب تو پوری عدلیہ ہی عوام کی نظر میں کٹہرے میں کھڑی ہے کیونکہ اس کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ یہ انصاف ، غیر جانبداری اور ووٹ کی حرمت کی دھجیاں بکھیرنے والوں کی مدد اور معاونت کر رہی ہے۔ سن دو ہزار سات میں جب ایک فوجی آمر نے ایک جج کے خلاف ایک آمرانہ اقدام کیا تھا توآزادی کے لئے ایک پوری تحریک شروع کر دی گئی تھی۔ اس تاریخی وکلاء تحریک میں نون لیگ پوری طرح سے ججوں اور وکیلوں کی حمایت کر رہی تھی۔ستم ظریفی دیکھیں کہ دو ہزار اٹھارہ میں وہی وکلاء اور جج صاحبان نون لیگ کے خلاف آمرانہ قوتوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ریاست کا تیسرا ستون یعنی میڈیا بھی اس آزمائش سے باہر نہیں۔اس سے امید یہ ہے کہ یہ عوام کو آزادانہ طور پر باخبر رکھے گا تاکہ وہ ایک درست اور غیر متعصبانہ فیصلہ کر سکیں لیکن بد قسمتی سے اس کا عمل اس اصول کے بالکل برخلاف ہے۔چند ایک میڈیا ہاؤسز نے خود پہ ہونے والی سختیوں کے آگے ہتھیار ڈال دئیے ہیں اور خود ہی اپنے آپ پہ پابندیاں عائد کر دی ہیں، بعض نے بزدلانہ طور پر سنسر شپ کے ’’مشورے‘‘ قبول کر لئے ہیں جبکہ زیادہ تر نے مادی فوائد کی خاطر گونگا اور اندھا رہنا منظور کیا ہے۔ ایک بڑی تعداد میں ٹی وی چینلوں کے متعارف کرانے کی وجہ یہ تھی کہ یہ آمرانہ اور ناقابلِ احتساب سمجھی جانے والی قوتوں کے خلاف ڈھال کا کام کریں گے۔تاہم زوال پذیر ہوتی معیشت اور سیاسی بے یقینی کی بدولت یہ چینلوں والے خود ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو گئے ہیں جس کا فائدہ انہوں قوتوں کو ہو رہا ہے۔ بڑے سرمایہ داروں کی جانب سے میڈیا کی کارپوریٹائزیشن سے غریبوں کی قیمت پہ تحفظ طاقت وروں کو حاصل ہو رہا ہے۔
ریاست کا چوتھا ستون یعنی پارلیمان بھی اپنی نمائندہ حیثیت کھونے کو ہے۔منجدھار کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈروں کو زنجیروں میں جکڑا جا رہا ہے تاکہ ایک لاڈلے اور اس کی جماعت کو طاقت مل سکے اور اس کے علاوہ عسکریت پسند جماعتوں کے نمائندوں اور موقع پرست آزاد اراکین پارلیمان میں اکثریت حاصل کر لیں۔سوال یہ ہے کہ کیا امید کی ہر کرن دم توڑ چکی ہے؟کیا ہم سب اجتماعی طور پر یکے بعد دیگرے ریاستی ستونوں کی بغاوت کا شکار بننے والے ہیں؟نہیں! جلد یا بدیر میڈیا اور عدلیہ میں دراڑیں پڑ جائیں گی۔ حکومت نوازی ان دونوں کو مستقلاً راس نہیں آئے گی۔ ہر چیف جسٹس اپنے پیش رو سے الگ ایک نقش تاریخ میں چھوڑنا چاہتا ہے اور کوئی بھی جج رائے عامہ کے دباؤ کو بہت دیر تک نظر انداز نہیں کر سکتا ۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی نہیں چاہے گا کہ خبروں اور تجزیوں کے ذریعے کے طور پر غیر ملکی مالیاتی ذرائع کو صرف سوشل میڈیا ہی دستیاب رہے ۔تاہم، جب تک یہ سب کچھ ہونہیں جاتا ، ہم عوام کو مزید پسنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

(یہ کالم رائٹ ویژن میڈیا سینڈیکیٹ کی جانب سے مجاز اخبارات کو جاری کیا جاتا ہے جن میں یہ مؤقر روزنامہ بھی شامل ہے۔ اس کی کسی بھی صورت میں کہیں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں۔)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *