عصبیت

محمد طاہرM tahir

کیا آسمان بہت دور ہے؟درد سے درد کے مارے اہلِ کراچی سوچتے ہیں۔ پھر پسینے بہاتی دوپہر میں خوف سے دھوپ کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ اُنہیں اب بس یوں ہی زندگی کرنی ہے۔ اُدھار کی سانسوں پر نقدِ حیات خرچتے ہوئے اپنے آپ کو اپنے آپ سے بھی چھپائے رکھنا ہے۔ کوئی نہیں، کوئی بھی نہیں جو کراچی کے درد کو سمجھ سکے۔ سب کے سب اہلِ کراچی کے دکھوں کے بھی تاجر نکلے۔ امن کی نوید لے کر طلوع ہونے والے یہ نئے ’’سوداگر‘‘آخری تجزیئے میں زیادہ سفاک ثابت ہوئے۔ وہ مریض بآلاخر کیا کرے جو اپنے زخموں کو لے کر مسیحاؤں کارخ کرے اور وہ علاج کے نام پر اُسے نئے چرکے لگاتا ہو، اُس کے درد سے لذت کشید کرتا ہو۔اے یقینوں کے پروردگار شہرِ گماں میں تیرے بندے کہاں زندگی کریں؟ کیا وہ یوں ہی چرک دھانس میں رہیں؟
کراچی میں جاری جراحت(آپریشن) سے منفی تسکین کا سامان تو خوب فراہم ہوتا ہے مگر اہلِ کراچی کے لئے اس میں کوئی حقیقی خوشخبری نہیں۔ بلکہ ایک خوف ناک اور کربناک نتیجہ اُن کا منتظر ہے۔ اہلِ پاکستان خبر دار رہیں۔ کراچی کی اس جراحت نے ’’مہاجرعصبیت‘‘ کو ایک بار پھر بیدار کر دیاہے۔ امن ایک عارضی وقفہ ہے۔ اور عصبیت کی جڑیں مستقلاً گہری ہو رہی ہیں۔ افسوس کراچی کو گہرے شعور اور تاریخی غوروفکرسے نہیں، بلکہ بندوق اور انتظامی جبر سے سُلٹایا جارہا ہے۔ کراچی کی نفسیات اور اس کی موجودہ بناؤٹ میں کارفرما تاریخی جبر کا کوئی لحاظ کہیں بھی نہیں کیا جارہا۔ کسی بھی ابہام اور خوف کے بغیر سامنے کی یہ حقیقت تاریخ کے سپرد کی جاتی ہے کہ یوں کراچی زیادہ خوف زدہ ہو کر پُرانے ہاتھوں میں لوٹ جائے گا۔
بدقسمتی سے کراچی میں جاری جراحت مجرموں سے کہیں زیادہ اب’’ اردو بولنے والوں ‘‘ کے خلاف محسوس کی جانے لگی ہے۔ نائن زیرو پر چھاپے کے بعد جن حقائق سے یہ ملک آشنا ہوا تھا وہ غیر محسوس طور پر پردے کے پیچھے دھکیلے جارہے ہیں۔ پہلا اور خوف ناک تجربہ تو یہ کہ سرکاری اداروں میں ’’اردو بولنے‘‘ والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی زد پر آگئے ہیں۔ یہ اس مسئلے کی غلط تفہیم ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے معاون ہیں۔ان افراد کے پاس دراصل کوئی چارہ ہی نہ تھا۔ جب وزرائے اعظم نائن زیرو کے سیاسی طواف کرتے ہو۔ جب ایک فوجی سربراہ سیاسی جلسے میں کراچی کی خوں ریزی کو ’’سیاسی طاقت‘‘ قرار دیتا ہو، تو کراچی میں نوکری پیشہ افراد ایم کیوا یم کے نقشے سے باہر کیسے حرکت کر سکتے تھے؟
پہلے تو سرکاری افسران کے پاس کوئی چارۂ کار ہی نہ رہنے دیا جائے کہ وہ قانون کے مطابق بروئے کار آسکیں، اُنہیں ریاست کی اعلیٰ مشنری ایم کیوایم کا طفیلی بنانے کا دانستہ ماحول بنا دے۔ پھر جب وہ ’’خوف‘‘کے خدمت گار بن جائیں تو اچانک کسی اور’’ وردی پوش ‘‘کا ارادہ بدل جائے اور وہ اُن کی پکڑ دھکڑ شروع کردیں۔ کیا یہ عمل بدترین ردِعمل پیدا نہ کرے گا؟ پید اکیا کرے گا ، یہ ردِعمل پیدا ہوچکا ہے۔
اس ردِعمل کا دوسرا سِرا زیادہ خطرناک سوالات رکھتا ہے۔ کیا کراچی میں جرائم کی معاونت کرنے والے اور بدعنوانیوں میں گردن گردن دھنسے افسران صرف اردو بُولنے والے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف ان کے خلاف ہی کیوں بروئے کار ہیں؟ کیا ایک ہی جیسے دو افسروں میں سے صرف ایک کے ساتھ توہین آمیز سلوک ریاست میں تقسیم کو گہرا نہ کرے گا؟ نجم الزماں اور مصطفی جمال قاضی میں ایک گرفتار کیوں ہے؟ اور دوسرا ٹاسک فورس میں کیوں شامل ہے؟ کیا اِن دونوں میں کردار کے حوالے سے اس کے علاوہ بھی کوئی اور فرق ہے کہ اِن کی لسانی شناختیں مختلف ہیں؟ عزیز آباد کے حلقے میں گھومتے ہوئے ایک ڈاکٹر کے اس سوال پر میرا سر گھومنے لگا۔
بلدیہ کے صرف زمینی محکمے سے سترہ افراد گرفتار ہیں۔ بجا طور پر گرفتار ہیں۔ مگر مسئلہ صرف یہ تو نہیں، ایک اور بھی تو ہے۔ چائنا کٹنگ کب شروع ہوئی؟ اگر کوئی بھول گیا ہو تو اُن کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ مشرف کے جرنیلی عہد میں شروع ہوئی جب ریاست کے تمام ادارے ایم کیو ایم کی خدمت پر لگا دیئے گئے۔ اس دوران کراچی میں بہت ساری قتل وغارت کا محرک یہ فوری منفعت کا گھن چکر تھا۔اب سوال یہ ہے کہ ریاست کے تمام ادارے اس دوران کیا صرف گھاس کھاتے تھے، گُھوس نہ کھاتے تھے؟صرف ایک مثال عرض ہے کہ آج کل جس ’’ادارے‘‘ کے بارے میں معمولی لب کشائی پر لوگ عبرت کی مثال بنا دیئے جاتے ہیں، اُن کے صوبائی منصب پر ایک ’’برگیڈئیر‘‘ کی توسیع ایم کیو ایم کی سفارش پر کی جاتی رہی۔ مشرف کے دور کے کامل سات برس اور زرداری عہد کے پورے پانچ برس سرکاری ادارے خاموش تماشائی رہے۔ اہلِ کراچی کی شکایتیں، فریادیں اور بددعائیں سرکاری اداروں کو پہنچتی تھیں مگر تب ایک جواب ملتا تھا، ہمیں خاموش رہنے کا حکم ہے۔خاموش ہی رہتے مگر وہ تو پورے مددگار بھی تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس پورے عمل میں کون کون کس کس سطح پر ملوث رہا ، اِس کا حقیقی احتساب کرنے کے بجائے صرف وہ لوگ کیوں نشانہ بن رہے ہیں جو اِن فیصلوں پر عمل درآمد کے ’’جبر‘‘ میں مبتلا تھے؟پھر اُن میں بھی صرف وہی اُردو بولنے والے؟ یہ وہ بیانیہ ہے جو اُردو بولنے والے کراچی کے پڑھے لکھے افراد میں تیزی سے رائج ہور ہا ہے۔ کیا کسی سطح پر اس کے حقیقی مضمرات پر غور کیا جارہا ہے؟
کراچی کے تمام اداروں میں ہر گز ہر گز ’’اردو بولنے‘‘ سوفیصد نہیں ہیں۔یہاں تک کہ بلدیاتی اداروں میں بھی نہیں۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ بدعنوانیوں میں ملوث بدنامِ زمانہ افسران میں شامل منظور کاکا، غلام مصطفی پُھل،محمد علی شاہ،ثاقب سومرو اور دیگر بے شمار افسران مکمل نظر انداز کئے جاتے ہیں۔ یہی نہیں کچھ اور سوال بھی کراچی میں اِن دنوں خوب زیرِگردش ہیں۔ کیا صرف چائنا کٹنگ ہی کراچی میں زمینوں کے موضوع پر سب سے بڑا فضیتا (اسکینڈل) تھا؟ کراچی کی ساحلی پٹی پر کوئی بھی خرید وفروخت ’’ایک آدمی‘‘ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اس کے ذمہ دار صرف اس لئے کراچی جراحت (آپریشن) کا ہدف نہ بن سکیں گے، کیونکہ وہ اردو بولنے والے نہیں؟الطاف حسین کے نام پر یونیورسٹی قائم کرنے والے ملک ریاض سپر ہائی وے کی زمینوں پر جو گورکھ دھندا کررہے ہیں وہ جائز قانونی کارروائی پر ’’کسی‘‘ کو کیوں نہیں اُکساتا؟اُس کے بارے میں ایک عمومی سناٹا کیوں طاری ہے؟ابھی سے عرض ہے کہ یہ حجم اور نفع کے اعتبار سے چائنا کٹنگ سے زیادہ بڑا فضیتا ہے۔کالم کا ورق تمام ہوتا ہے، مگرسوالات تو ابھی اور بھی بہت سے ہیں ، اندیشے اس سے کہیں زیادہ ہیں۔کراچی آپریشن سے الطاف حسین پر کوئی فرق نہیں پڑتا،پھرالطاف حسین پر سیاسی جلسوں میں حملوں سے ایم کیو ایم پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر یہ فرق پڑ بھی جائے تو اس سے جوہری طور پر کراچی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔مودبانہ عرض ہے کہ کراچی جراحت میں علامات کو نہیں محرکات کو نشانہ بنائیں۔ اور اس میں کراچی کی نفسیات اور ماحول کو پیشِ نظر رکھیں،وگرنہ کراچی زیادہ بڑے دہشت کے ماحول کے ساتھ پُرانے ہاتھوں میں چلا جائیگا۔ ابھی یہ بات شاید ذرا بعید ازقیاس محسوس ہو مگر کل یہ ایک حقیقت بن کر سامنے ہو گی کہ کراچی جراحت نے اہلِ کراچی کو نہیں ایم کیوایم کو’’راحت‘‘ پہنچائی ہے۔ اہلِ کراچی کے لئے تو آسمان ابھی بہت دور ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *