نواز شریف کے حریف کو شکست ہوئی ہے

انعام اللہ خٹک

الیکشن ہو چکے۔ نتائج کے مطابق عمران خان کی تحریک انصاف جیت چکی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ نواز شریف کی مسلم لیگ اپنے حریف کو شکست دے چکی ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ عمران خان کی جیت کے بعد کیسے نواز شریف جیت گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نواز شریف کا حریف ہے ہی نہیں۔ بظاہر عمران خان کے ووٹرز جیت کی خوشی منا رہے ہیں جن میں، میں خود بھی شامل ہوں۔ لیکن نواز شریف کے حریف سر پکڑ کر شکست تسلیم کر چکے ہیں۔ وہ کیوں شکست تسلیم نہ کریں۔ ایک شخص جو جیل کی سلاخوں کے اندر دس سال کی قید کی زندگی گزار رہا ہو، اور آگے دس سال مزید قید ہونے جا رہی ہو جب کہ تیسرے ریفرنس میں مزید دس سال کی قید ہونے والی ہو۔

وہ شخص آخر کیوں پاکستان میں ایک کروڑ اٹھایئس لاکھ سے زائد ووٹ لے رہا ہے۔ نواز شریف کا حریف کیوں ماتم نہ منائے کہ ایسے کٹھن حالات میں نواز شریف کے بیانیے کو پنجاب میں ایک کروڑ سے زائد ووٹ پڑے اور ان کی پارٹی دوسرے نمبر پر بڑی پارٹی بن کر نمودار ہوئی۔ یاد رہے کہ نواز شریف کا بیانیہ عمران خان مخالف ہرگز نہیں۔ اللہ کرے کہ نواز شریف کو ووٹ عمران خان کی مخالفت میں پڑے ہوں۔ سیاست میں مخالفت جمہوریت کا تقاضا ہے۔ لیکن اگر خدا نخواستہ ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ ووٹ نواز شریف کے بیانیے کو پڑے ہوں تو پھر نواز شریف کے حریف کو شکست تسلیم کرنا ہوگی۔ بطور صحافی میں نواز شریف کے خلاف دائر نیب ریفرنسز کا حامی ہوں۔ نواز شریف کو ہر صورت اپنی بیرون ملک جائیداد کا حساب دینا چاہیے۔

عدالت میں نواز شریف کو ہر صورت جواب دینا چاہیے۔ لیکن وہ نواز شریف کا معاملہ ہے۔ ریفرنسز کی حقیقت اپنی جگہ لیکن نواز شریف اور دیگر سیاسی حلقوں میں یہ ریفرنسز انتقامی کارروائی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اگر ریفرنسز کے دائر ہونے سے نواز شریف کے خلاف عوام میں نفرت پیدا ہوتی تو ان کی پارٹی کو ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ کے بجائے ایک لاکھ اٹھائیس ہزار ووٹ پڑنے چاہیے تھے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اب باری ہے نواز شریف کے حریف کی۔ میاں صاحب کے حریف کا یہ حال ہے کہ اڈیالہ جیل سے جب بیمار نواز شریف کو اسلام آباد کے پمز اسپتال لانے کا فیصلہ ہوا تو اداروں نے صرف ایک کام یقینی بنانے کی بھر پور کوشش کی۔

وہ کام یہ تھا کہ نواز شریف کی شکل کسی صورت کیمرے کی آنکھ محفوظ نہ کر لے۔ پولیس اور رینجرز کی ایک بڑی نفری پمز اسپتال کے امراض قلب شعبے کے داخلی دروازے پر متعین کی گئی۔ صرف اس لیے کہ میڈیا کے ساتھیوں کو دکھایا جائے کہ دل کے عارضے میں مبتلا اور قیدی نواز شریف اسی راستے سے لایا جائے گا۔ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد میاں صاحب کو کیمرے کی آنکھ سے چھپا کر عقبی دروازے سے لایا گیا جب کہ میڈیا کو امراض قلب کے شعبے کو دور سے دیکھنے کی اجازت ملی۔ میاں صاحب کو اسپتال کے اندر پولیس اور رینجرز کے اہل کاروں نے بھی نہیں دیکھا۔ میاں صاحب کے حریف ایک قیدی سے اتنے گھبرائے ہوئے ہیں کہ اگر قیدی کی تصویر میڈیا میں آ گئی تو ان کے ساتھ مزید ہم دردی پیدا ہو جائے گی۔
اپنی صحافتی چالاکی استعمال کرتے ہوئے بہر حال مجھے میاں صاحب کی ایک جھلک دیکھنے کا موقع مل ہی گیا۔ یہ نواز شریف نہیں تھا جو میں روز احتساب عدالت میں دیکھتا تھا۔ جس کے خلاف میں روز لکھتا تھا اور حق پر ہی لکھتا تھا اور لکھتا رہوں گا۔ میاں صاحب کو ہر صورت اپنے خلاف لگے الزامات کا دفاع کرنا ہوگا۔ لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں نواز شریف کے ساتھ کوئی ذاتی عناد رکھتا ہوں۔ ذاتی عناد صرف ان لوگوں کا ہے جو میاں صاحب کی شکل سے ڈرتے ہیں۔ جو نہیں چاہتے کہ نواز شریف کے میلے کپڑے اور سکڑے چہرے کو لوگ دیکھیں۔ سیکیورٹی کے نام پر نواز شریف کے چہرے کو میڈیا سے چھپانے والے کون لوگ ہیں؟ میاں صاحب کی انتخابی شکست کے بعد بھی نواز شریف کے حریف جشن کیوں نہیں منا سکتے؟

جشن نہ منانے کی وجہ پنجاب کے اندر نواز شریف کے حریف کے خلاف ڈالے گئے ووٹ کی تعداد ہے۔ بظاہر نواز شریف کی پارٹی کو وزارت عظمی کی کرسی نہیں ملی لیکن الیکشن کے نتائج کے بعد نواز شریف اپنے بیانیے کا وزیراعظم ضرور بن کر ابھرا ہے۔ اب نواز شریف ایک کام یاب بیانیے کا پابند سلاسل وزیر اعظم ہے، جب کہ میاں صاحب کے حریف ”گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو“ کی مار ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *