پاکستان کیلئےامریکی امداد میں کمی، حقانی اور لشکرطیبہ کیخلاف کارروائی کی شرط ختم

واشنگٹن: امریکی کانگریس میں نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن (دفاعی) بل منظور کر لیا گیا، جس کے تحت پاکستان کی فوجی امداد مزید کم کرکے 15 کروڑ ڈالر سالانہ کر دی گئی جبکہ امداد کو حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ کےخلاف کارروائی سے مشروط کرنےکی شق بھی ختم کردی گئی۔

امریکی ایوان نمائندگان کے بعد امریکی سینیٹ نے بھی 716 ارب ڈالر (تقریباً 900کھرب روپے) سے زائد کا دفاعی بجٹ منظور کرلیا، جسے صدر ٹرمپ کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس بھیج دیا گیا، جس کے بعد یہ قانون کی حیثیت اختیار کرلے گا۔

نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن بل کے حق میں 87 اور مخالفت میں 10 ووٹ ڈالے گئے۔

امریکی دفاعی بجٹ بل میں پاکستان کی فوجی امداد میں مزید کٹوتی کرکے اسے 15 کروڑ ڈالر (تقریباً ساڑھے 16 ارب روپے) سالانہ کر دیا گیا ہے، جو اطلاعات کے مطابق پاکستان کو اپنی سرحدوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کی مد میں دیئے جائیں گے۔

یہ رقم ماضی میں امریکا کی جانب سے پاکستان کو سیکیورٹی اور کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں دی جانے والی امداد سے کہیں کم ہے، جو 75 کروڑ سے ایک ارب ڈالر تک ہوا کرتی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس امریکا نے اپنے دفاعی بجٹ میں پاکستان کے لیے 'کولیشن سپورٹ فنڈ' کی مد میں 70 کروڑ ڈالر مختص کیے تھے۔

دوسری جانب منظور کیے جانے والے بِل میں کوئی ایسی شق بھی شامل نہیں کہ امریکا پاکستان کو یہ امداد انسدادِ دہشت گردی کے لیے کی جانے والی اس کی کارروائیوں کے معاوضے کے طور پر ادا کرے گا۔

ماہرین کے مطابق امداد کی فراہمی کے لیے ماضی میں عائد کی جانے والی ان شرائط کے خاتمے سے امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) اپنی اس صلاحیت سے محروم ہوگیا ہے، جس کے ذریعے وہ پاکستان پر حقانی نیٹ ورک اور دیگر سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ ڈال سکتا تھا۔

امریکی دفاعی بل میں اوور سیز وار فنڈنگ کی مد میں 69 ارب ڈالرز جبکہ پینٹاگون کے ایئر اور سی فلیٹ اور دفاعی میزائلوں کے جدید سسٹمز کے لیے 10 ارب ڈالر بھی مختص کیے گئے ہیں۔

پاک-امریکا تعلقات

واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے وقتاً فوقتاً پاکستان سے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

رواں برس جنوری میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں اُس وقت دراڑ پڑی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ 'امریکا نے گزشتہ 15 برس میں احمقوں کی طرح پاکستان کو 33 ارب ڈالر امداد کی مد میں دیے اور انہوں نے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا'۔

گذشتہ برس دسمبر میں افغانستان کے دورے کے موقع پر امریکا کے نائب صدر مائیک پینس کا کہنا تھا کہ 'دہشت گردوں کو پناہ دینےکے دن ختم ہوگئے، پاکستان کو امریکا کی شراکت داری سے بہت کچھ حاصل ہوگا، لیکن دہشت گردوں اور مجرموں کو پناہ دینے سے بہت کچھ کھونا پڑے گا'۔

اسی ماہ نئی نیشنل سیکیورٹی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف پاکستان سے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف 'فیصلہ کن' کارروائی کا مطالبہ کیا، بلکہ مالی امداد کا طعنہ بھی دے دیا۔

اس سے قبل گذشتہ برس اگست میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا عندیہ دیا تھا اور اسلام آباد پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام دہراتے ہوئے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *