مجلس "آملہ"

ہم علامہ اقبال کے اس مصرعے سے ہمیشہ متاثر رہے ہیں کہ ’’عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی‘‘ اس لئے اپنے اپنے عمل سے لوگوں کی زندگیاں جہنم بنانے میں لگے رہتے ہیں حالانکہ ہم اگر چاہیں تو لوگوں کی زندگیوں کو جنت بھی بنا سکتے ہیں مگر اس قسم کی توفیق ہمیں بڑی مشکل سے ہی میسر آتی ہے۔ ہماری قوم بلاسوچے سمجھے زندگی وقوع پذیر کرنے والے معاملات میں ہمیشہ عملی کوششوں میں پیش پیش نظر آتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں آبادی کے لحاظ سے ہم سب سے آگے ہیں اور دنیا نہ صرف ہم سے پیچھے بلکہ ہمارے پیچھے ہے اور یہی آبادی اخلاقی، معاشی اور معاشرتی لحاظ سے ہماری حقیقی معنوں میں بربادی کا باعث بھی بن رہی ہے۔ ہم چونکہ عمل پسند لوگ نہیں ہیں لہٰذا عمل کی بجائے عملی کوششوں میں مگن رہتے ہیں اور اس عملی جدوجہد میں لوگوں کو طبعی کے ساتھ ساتھ کچھ طبی مسائل کا سامنا بھی رہتا ہے۔ ایسے مسائل کی تشہیر اکثر دیواروں پر وال چاکنگ کی صورت میں یا پھر مصالحہ ٹائپ ٹی وی چینلز کے نچلے حصے پر چلنے والی پٹی پر دکھائی دیتے ہیں۔ تعلیم کی کمی یا پھر ضعیف العتقادی کی وجہ سے ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے کسی مستند معالج کی بجائے کسی عامل کے آستانے پر حاضری دے کر دلی سکون محسوس کرتے ہیں۔ مذکورہ عامل عمومی طور پر عملیات میں مہارت کے دعویدار تو ہوتے ہی ہیں مگر عمل کے حوالے سے ان کا طرزعمل بہت بڑا سوالیہ نشان بھی ہوتا ہے۔ کچھ عامل صرف خواتین کے لئے خدمات کا اہتمام کرتے ہیں اور انہی کی مسیحائی تک خود کو محدود رکھتے ہیں۔ ایک ایسے ہی عامل نے اپنے آستانے کے باہر لگے سائن بورڈ پر خود کو عامل کی بجائے ’’آ مل‘‘ ظاہر کر رکھا تھا۔ ہم تو ایک ایسے عامل کو بھی جانتے ہیں جس نے خدمت کے جذبے سے اپنی ایک مجلس ’’آملہ‘‘ بنا رکھی تھی جس میں وہ اپنی محفل میں شریک لوگوں کو آملے کے مربے سے تواضع کا اہتمام کیا کرتے تھے اور لگے ہاتھوں وہ اپنے عقیدت مندوں کے لئے آملے کے تیل کا بندوبست بھی کر دیا کرتے تھے۔ کچھ عامل تو تیل دیکھ تیل کی دھار دیکھ کے مصداق لوگوں کا تیل کے ذریعے علاج کرنا پسند کرتے ہیں اور ان کے رہن سہن سے واقعی محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان کے ہاں تیل نکل آیا ہے۔ قومی سطح پر ہمارے مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے بھی اپنی اپنی سطح پر کوئی متحدہ مجلس عمل یا پھر مجلس عاملہ بنا رکھی ہے اور کچھ رہنما ایسے بھی ہیں جنہوں نے مجلس کی بجائے صرف ’’عا ملہ‘‘ پر ہی اکتفا کر رکھا ہے۔ ساؤتھ افریقہ کی کرکٹ ٹیم دنیا کی واحد خوش قسمت ٹیم ہے جو اپنے میچوں کے دوران ہاشم عاملہ کی وجہ سے مجلس آملہ سے لطف اندوز ہوتی رہتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں دوست احباب مل کر مینگو پارٹی یا مجلس آم۔۔لا کا انتظام و انصرام کر کے ساون کی رم جھم میں چاہتوں کا رنگ بھرتے دکھائی دیتے ہیں جس میں کچے دودھ کی لسی بڑے پکے منہ سے احباب کو پیش کی جاتی ہے۔ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے بعد ہمیں عملیت پسندی کا درس دیتے ہوئے کام، کام اور کام کی تلقین فرمائی تھی لہٰذا پاکستانیوں نے اس پر جزوی عمل کرتے ہوئے کام، کام کی بجائے ’’اور کام‘‘ کرنا شروع کر دیئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپنے انہی اور کاموں کی وجہ سے پوری دنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔ بھلے وقتوں میں نوجوان اپنے بزرگوں کی نصیحت پر عمل کیا کرتے تھے مگر اب وہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ بزرگ نصیحت ہی نہ کر سکیں۔ اس مقصد کے لئے ان اوقات میں جب بزرگ جاگ رہے ہوتے ہیں وہ گھوڑے بیچ کر سوئے رہتے ہیں جبکہ بزرگوں کی نیند کے لمحوں میں وہ اپنے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا موبائل فون پر رت جگا مناتے رہتے ہیں، اس طرح سال بھر بزرگوں سے بہت کم سامنا کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ بھلے وقتوں میں بچپن سے لوگوں کو اپنے اساتذہ، خاندان اور بزرگوں کی طرف سے عمل صالحہ کا درس دیا جاتا تھا اور اگر غلطی سے کسی کے اڑوس پڑوس یا گردونواح میں کوئی صالحہ رہتی تھی تو پھر اس کا جینا دوبھر کر دیا جاتا تھا کیونکہ لوگ نہ صرف گہری نظروں سے ’’عمل‘‘ صالحہ کا مطالعہ کرتے تھے بلکہ اعمال صالحہ پر بھی نظر رکھنا اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے۔ ہمارے معاشرے میں ضعیف العتقاد لوگ ہر دکھ تکلیف کی صورت میں کسی عامل کے پاس جا کر حساب کتاب لگواتے ہیں کہ کہیں ہم پر کسی نے کوئی عمل تو نہیں کر دیا، آگے سے عامل بھی ایسا حساب کتاب لگاتا ہے کہ وہ آپ کی جیب خالی کرانے کے ساتھ ساتھ آپ کو آپ کے ساتھ ہونے والے عمل کی ایسی بھیانک تصویر دکھائے گا کہ حساب کتاب کے بعد آپ کا منہ بھی کتاب کی طرح کھلے کا کھلے رہ جائے۔ بعض خواتین اسی حساب کتاب کے چکر میں عاملوں کے پاس جا کر کہتی ہیں’’سرکار کوئی ایسا عمل کریں کہ میرا بندہ میرا غلام بن جائے‘‘۔ کچھ خواتین کو شکایت ہوتی ہے کہ ان کا شوہر چھپ چھپ کر غیرعورتوں سے ملتا ہے حالانکہ وہ خود اپنے شوہر اور سسرال والوں سے چھپ چھپ کر سرکار کے پاس عمل کرانے کے لئے آتی جاتی رہتی ہیں۔ صوفیاء کرام نے ایسا علم جو عمل سے خالی ہواسے لاحاصل قرار دیا ہے ، اس لئے ہم علم تو حاصل کرتے ہیں مگر بے عملی کے ساتھ ہمارا ایک دوست کالج کے زمانے میں اپنی ایک کلاس فیلو کو ’’بے عملی‘‘ کہہ کر بلاتا تھا لہٰذا اس نے پورے دو سال بے عملی کے ساتھ ہی علم حاصل کیا اور اب یہ بے عملی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ عمل بظاہر تو محض تین حرفوں کا مجموعہ ہے مگر ہر انسان معاشرے میں صرف اپنے عمل سے ہی پہچانا جاتا ہے اور یہی اعمال لے کر بالاخر ہم سب نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے جس کا فرمان ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اگر ہم اپنی نیتوں کا قبلہ درست کر لیں تو ہمارے اعمال کی خوشبو سے پورا معاشرہ معطر ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *