مصنفین کے لیے تنقیدی سوچ

انیس شیوانی

امریکہ کی صورتحال نازی جرمنی، سٹالن کے روس اور چینی انقلاب کے زمانہ  جیسی ہو گئی ہے۔ بہت خوفناک لمحہ آ گیا ہے ۔ 350 ملین لوگ پھنس گئے ہیں اور انہیں معلوم نہیں کہ وہ کیسے نکلیں گے۔ پچھلے 30 سال سے مفکرین بھی کسی  حل تک نہیں پہنچ پائے ہیں لہذا ہر شخص اپنا ذمہ دار خود ہے۔  میری رائے میں جو بہترین ماڈل قابل عمل ہے وہ  ہے: علیحدگی، استقامت اور دیانت داری

علیحدگی سے معلوم ہو گا کہ  حقیقت کیا ہے۔

دو تقابلی ماڈلز موجود ہیں۔ ایک یہ کہ ایمپائر ختم ہونے کو ہے اور کوئی اس بارے میں کچھ نہیں کر پا رہا۔ دوسرا یہ کہ یہ گول گول گھومنے جیسا ہے اس لیے پہلے سب سے قریبی خطرے کو ٹالنے اور نقصان کو کم سے کم پر روکنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ ان دونوں میں سے آپ کو زیادہ حقیقی کونسا نظر آتا ہے؟  ادبی زندگی میں بہتر یہ ہے کہ مشہور ماڈلز سے دوری اختیار کی جائے۔ سائنس فکشن ایک غیر حقیقی چیز ہے لیکن اس کا تعلق فنا ، وقت، جگہ، اور دوسرے فلسفیانہ سوالوں سے ہے   جن کے لیے رئیلسٹ فکشن کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ ہماری ہر طرح کی تمام تحاریر  چاہے وہ شاعری ہو، کہانیاں ہوں یا سوانح عمری ہو، ہر چیز کا  حقیقت سے کوئی نہ کوئی تعلق ہوتا ہے لیکن اگر یہ غیر حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوں تو کیا ہو گا؟

سیاست میں معاملات اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ بہت پوسٹ ماڈرن جیسی صورتحال ہوتی ہے۔ روزنہ کی بنیاد پر فیصلےکیے جاتے ہیں کہ کونسی حقیقت کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ یہ یا تو آپشنل فاشزم ہے، لگژری فاشزم ہے یا پھر جینٹری فائیڈ فاشزم۔ ایک دن آپ ملٹی کلچرل ہوتے ہین اور دوسرے دن نسل کشی کے حامی۔ 70 سال پہلے دوسری جنگ عظیم کے بعد  ہم اتنے با اثر ہونے لگے کہ ہمارا کا م ہی مسائل ایجاد کرنا بن کر رہ گیا۔  کیا پر امید ہونا ایک حقیقت سے تعلق رکھتا ہے یا دھوکہ دہی ہے؟ ہم سوچتے ہیں کہ ہم بچوں کے ساتھ مل کر امریکہ کو ایک بہتر ملک بنائیں گے۔ یہ اسقاط حمل کو ختم کر سکتے ہیں، غلامی کو دوبارہ جائز قرار دے سکتے ہیں، لوگوں کو ملک بدر کرنے کا قانون بنا سکتے ہیں  یا کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں  اور ہم ان مسائل کا ایک ایک کر کے حل ڈھونڈنے پر لگ جاتے ہیں۔ ہم ان کے غیر حقیقی اصولوں کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ یہ صرف ری پبلکن یا ٹرمپ کے حامی لوگ نہیں ہیں  بلکہ یہ ہر طرح کے سیاسی ایجنڈا رکھنے والے  لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ عام آدمی کو پتہ ہی نہ چلے کہ طاقت اپنا کام کیسے کرتی ہے۔

استقلال (جو علیحدگی کا مطالبہ کرتا ہے)۔ یہ شیل اور ڈیل پر کام کرتے ہوئے ہفتہ کے آخری دن ایکٹوازم پر نہیں ابھارتا۔ آپ ایمپائر کی مدد کرتے ہیں  لیکن ایکٹو ازم کو بھی ٹائم دینا چاہتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بُرے لوگ جیسا کہ وائٹ ہاوس کے ایڈوائزر سٹیفن ملر ہیں، اس چیز کا ادراک کر لیتے ہیں اس لیے آپ ان کے لیے خطرہ نہیں بن سکتے۔

ہم سب فاشسٹ ہیں۔ کیا ایسا  ہی ہے؟ کون آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتا ہے؟ کون مکمل پرائیویسی کا حق دینے کی بات کرتا ہے؟ کون اکیلا چھوڑے جانے کے حق کے حق میں ہے؟ کون جاسوسی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے؟ کون بارڈرز کے خاتمہ کی بات کرتا ہے؟  کون فری موومنٹ اور بارڈر سکیورٹی کے خاتمہ کے لیے آواز بلند کرتا ہے؟   لبرلز  کا بھی سوچنے کا طریقہ فاشسٹ طبقہ کی طرح ہے۔ لبرلز امریکہ کے  نصف سے زیادہ لوگوں کی مشکلات کی مذمت کرتے ہیں لیکن ان کی تکلیف کو نہیں دیکھتے  اور یہی ڈی ھیومنائزیشن فاشسٹ طبقہ بھی کرتا ہے۔  سول  نافرمانی صرف مارچ کے ذریعے نہیں کی جاتی۔

سول نافرمانی صرف ملین مارچ سے ہی نہیں ہوتی۔ لیکن استقلال کی کمی ہمیں اصل سول نافرمانی سے روکے رکھتی ہے اور مختلف کاموں میں الجھائے رکھتی ہے۔ ایک عام ہڑتال جو 2017 کے آغاز میں  یہ کہہ کر روکی گئی کہ اس سے سفید فام کے علاوہ باقی طبقات متاثر ہوں گے، بلیو ویو پر بھروسہ اور رابرٹ ملر جیسے معاملات اس کی اہم مثالیں ہیں۔ ریگن کے بعد سے اب تک ہم لوگوں کو آگ بجھانے پر لگا یا ہوا ہے  اور اس سے صورتحال بگڑتی ھی جا رہی ہے۔ مطالبہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر مہاجر کو ملک بدر کر دیا جائے۔ امیگریشن کے اصولوں کی خلاف ورزی قابل سزا جرم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ یہ مطالبہ نہیں کرتے  تو صورتحال بگڑتی ہی جائے گی ۔ ہم نے یہ رسم ڈالی ہے کہ پناہ  تلاش کرنے والے خاندانوں کو اکھٹے ہی قید کر دیا جائے اور اس طرح ہم نے مسئلہ کو مزید بگاڑادیا۔ لیکن چونکہ ہم نے اس پر پورا غور و خوض نہیں کیا تھا  اس لیے ہم یہ نتیجہ نہ نکال سکے کہ  کوئی بھی امیگرینٹ جیل میں نہیں ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں علیحدگی پسند ہو کر سوچنا ہو گا، مطالعہ و تحقیق کے عمل سے گزرنا ہو گا اور پھر ہمیں تمام جوابات حاصل ہو سکیں گے۔ پھر ہمیں فنڈز اکٹھے کرنے یا خاندانوں کو ملانے جیسے اقدامات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

زبان کا تسلسل: جب آپ کچھ لکھتے ہیں تو آپ کے زہن میں کیا زبان ہوتی ہے؟ کیا تب آپ مارلو، وولف، فاکنر، ایلسن جیسے بڑے رائٹرز کو تصورات میں سن رہے ہوتے ہیں؟ یا پھر آپ جان سٹیورٹ، اور جائے ریڈ کو سنتے ہیں؟  لیکن آپ درست زبان کیسے سن سکتے ہیں ، اسے اپنی نفسیات کا حصہ کیسے بنا سکتے ہیں  تا کہ جب آپ لکھنا چاہیں تو یہ خود بخود آپ کے ذہن میں آتی رہے؟

دیانت داری: اطمینان اور سکون کے ساتھ آپ حقیقت کو دیکھ لیں گے اور اور  پوسٹ ماڈن ایکٹویٹی   سے غیر متعلق رہیں گے ۔ آپ کا ذہن ہر طرح کے خیالات سے کلیر ہو گا اور آپ ہر وہ چیز کر پائیں گے جو  اخلاقی طور پردرست ہو۔ تب آپ یہ سمجھ پائیں گے کہ اخلاقیات کوئی بے معنی چیز نہیں ہے۔ آپ کے لیے زیادہ اہم چیزیں کم اہم ہو جائیں گی اور اس طرح کی دوسری اہم تبدیلیاں آپ میں واقع ہوں گی۔ کوئی آپ کو اپنے کنٹرول میں نہیں کر پائے گا۔ آپ کا گروپ ، قبیلہ، زیلی کلچر کا  بڑا کلچر آپ پر اثر انداز نہ ہو پائے گا۔ دیانتداری سے لکھی گئی تحاریر جو بہت محنت سے انجام پاتی ہیں،  وہ بد دیانتی والی تحاریر سے مختلف ہوتی ہیں۔ بد دیانتی والی تحاریر گہری نہیں ہوئی  اور آپ کو گہرائی تک نہیں لے جا سکتی۔ اگر آپ فاصلہ، تحقیق، استرداد، استقامت جیسے مراحل سے نہیں گزرے تو آپ کی تحریر گہرائی سے خالی ہی رہے گی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کسی نسل کشی والی ریاست کا حصہ بنیں  ، فیصلہ سازی میں کردار ادا کریں اور اس کے ظالمانہ رویہ کو جائز قرار دیں اور پھر دیانتدار تحریر بھی لکھ پائیں۔ اگر آپ کوئی ایک دیانتدارانہ نظم کہانی یا مضمون کبھی نہیں لکھتے تو  بھی ایسی کوشش کرنا  اس سے کہیں بہتر ہے کہ آپ بد دیانتی پر مبنی تحاریر لکھیں اور شائع کروائیں۔

اگر آپ دیانتدار ہیں اور وہ آپ کو تکلیف دینے کی کوشش کریں  تو بھی وہ ایسا نہیں کر پائیں گے۔ لیکن اگر آپ اس سے بے ربط نہیں ہیں اور وہ آپ کو تکلیف دیں تو یہ آپ کے لیے واقعی تکلیف دہ ہو گا۔ اس لیے یہ ایک حفاظتی تدبیر ہے۔ ایمپائر کی تباہی والا ماڈل 30 سال تک  ہر چیز کو صحیح کر سکتا ہے  جب کہ سائیکلیکل ری ایکشن ماڈل ہر چیز کو بگاڑتا ہے۔ Refugee and Immigrant Centre for Education and Legal Services (RAICES) ایک ایسی تنظیم ہے جس کا کام پھنسے ہوئے مہاجرین کی مدد کرنا ہے ۔ اس ادارے نے حال ہی میں ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی نامی ادارہ جو خود ان لوگوں کی قیدکا ذمہ دار ہے  کو 20 ملین ڈالر عطیہ کیے ہیں ۔ یہان کوئی امیجینیشن نہین ہے کوئی سوچ و فکر نہیں ہے۔ یہی تباہی کی علامت ہے۔

آج کے دور میں  Individualism کو برا سمجھا جاتا ہے  لیکن ہم جانتے ہیں کہ کمیونلزم بھی   قبائلی اور قدامت پسندی پر مبنی ہے۔  اب ہم سب کمیونل بن چکے ہیں۔ Individualism اصل میں skepticism پر انحصار کرتی ہے۔ امریکی بہت زیادہ  شکی مزاج ہیں۔ کسی بھی چیز پر یقین نہ کرنا امیجینیشن اور شک کو پروان چڑھاتا ہے۔ ہمارے خواب کس چیز پر مبنی ہیں؟ کیا یہ افسانوی خیالات پر مبنی ہیں یا  حقیقت پر؟  فاشزم کی بنیاد لبرل طبقہ کی سکیورٹی کے لیے چیخ و پکار ہے۔ فاشزم اس صورتحال کو بد کر ریڈیکل عدم تحفظ کا باعث بن جاتی ہے۔ رائٹرز کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی ریڈیکل عدم تحفظ کی اس کیفیت کو اپنا سکتے ہیں بجائے فاشزم اور ایمپائر  کے انتخابات کو اپنانے کے؟  میرے خیال میں یہ واحد زریعہ ہے جو عالمی مزاحمت کو ایک نئی روح عطا کر سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *