تین خواتین، کافی شاپ اور گھورنے والا شخص

کرن نازش

یہ اتوار  کا دن اور شام کا وقت تھا۔ تین خواتین گلوریا جینز  نامی کافی شاپ میں  موجود تھیں۔ یہ کافی شاپ ڈولمن مال میں واقع ہے۔ ان خواتین نے وردیاں پہن رکھی تھیں۔ شاید کام سے بریک کے دوران آئی تھیں۔ وہ گپ شپ لگا کر ہنس مسکرا رہیی تھیں۔ میں اپنی بہن اور دوست کے ساتھ ایک دوسرے ٹیبل پر بیٹھی تھی۔ ہم گپ شپ میں مصروف تھیں اور سیاست، معیشت اور الیکشن کے بارے میں محو گفتگو تھیں۔ اچانک ایک خاتون اٹھی اور ریسٹورینٹ سٹاف کو کہنے لگی کہ ہمارے ٹیبل کے سامنے بیٹھے شخص کو ہمیں تنگ کرنے سے روکیں۔ یہ ان کا اپنا معاملہ تھا لیکن ان کی سرگوشیون کی وجہ سے میری توجہ اس شخص کی طرف مڑی۔

اس کا کہنا تھا کہ وہ شخص ان کو کافی دیر سے تنگ کر رہا تھا۔ وہ بہت آہستہ آواز سے باتیں کررہی تھیں تا کہ کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو جائے۔ وہ مرد پہلے تو آنکھوں سے اشارے کر رہا تھا اور پھر ایسے اشارے جیسے وہ یہ کہنا چاہ رہا ہو کہ آکر میرے ساتھ بیٹھ جاو، یا آج میرےساتھ رات گزارنے چلو۔ آج کل خواتین کو اسی طرح کے مسائل روزانہ جھیلنے پڑتے ہیں۔

یہ شخص 40 سال یا آس پاس کی عمر کا تھا  اور عینک پہنے ہوئے تھا۔ وہ امیر اور بااثر لگ رہا تھا کیونکہ اس کے پاوں مین بہت سے شاپنگ بیگ پڑے تھے اور سامنے ایک سگریٹ کی ڈبی بھی موجود تھی۔ایک  گھنٹے سے اس شخص نے کوئی آرڈر نہیں منگوایا تھا۔ وہ فون پر بھی بات یا میسج نہیں کر رہا تھا۔ اس کی پوری توجہ خواتین پر تھی۔ وہ مسلسل سامنے والے ٹیبل کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں تین خواتین اچھا وقت گزارنے کےلیے اکٹھی بیٹھی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی۔ یہ رویہ شکایت کے بعد بھی جاری رہا  جب سٹاف نے اس شخص کو کہا کہ وہ خواتین کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔ لیکن وہ بندہ ضد پر اڑا رہا۔ اس نے کہا: تم پریشان کیوں ہو رہی ہو ؟ میں تو آپ کو پسند کرتا ہوں۔ میں مداخلت کرنے کےلیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ میں نے اسے کہا کہ خواتین کو پریشان کرنا بند کرے اور اپنے رویہ پر معافی مانگے۔ میں نے اسے کہا کہ تم ان کو ہراسااں کر رہے ہو۔ اس نے کہا : مین کیوں نہیں دیکھ سکتا۔ میری مرضی میں جس کو دیکھنا چاہوں دیکھوں۔ میں حیران ہو کر اس کو دیکھنے لگی کہ یہ کس طرح کا آدمی ہے۔ ایسا لگتا تھا معاملات بگڑ جائیں گے اور ایسا ہی ہوا۔ کچھ بحث کے بعد وہ کہنے لگا۔ میں بھول گیا تھا کہ میں پاکستان میں ہوں۔ پاکستان میں یہی ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا کیا مطلب ہے تمہارا۔ ایسا کونسے ملک میں ہوتا ہے کہ مرد کھلے عام عورتوں کو ہراساں کر سکتے ہوں؟  وہ بولا: کیوں ؟ خواتین کی طرف دیکھنا یا ان سے باتیں کرنا غیر قانونی ہے کیا؟  میں بہت غصے میں آ گئی اور برداشت کا مادہ کھونے لگی۔

میں ریسٹورینٹ سٹاف سے ملکر اسے ہوٹل سے نکلوانے کے راستے ڈھونڈنے لگی۔ اس طرح کے مرد خواتین کے آرام و سکون کو برباد کر دیتے ہیں۔ وہ خواتین کا اپنی زندگی پر کنٹرول چھین لیتے ہیں۔ وہ خواتین کی ایک پر سکون شام کو تکلیف دہ یادوں سے بھر دیتے ہیں۔ میں نے یہ ساری باتیں اسے کہیں اور وہ اسی بات پر ضد کرتا رہا کہ مجھے اس سے کیا پرابلم ہے اور وہ ادھر بیٹھا ہے۔ وہ بہت پرسکون اور مطمئن رہا۔ مشکل صورتحال صرف خواتین کو درپیش تھی۔ سٹاف بھی اس کے ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ سے ڈرا ہوا تھا ۔ وہ اسے منتیں کر رہے تھے کہ اپنی سیٹ بدل دے۔ میں کہہ رہی تھی کہ اسے ریسٹورینٹ سے باہر جانا چاہیے۔ کوئی سن نہیں رہا تھا۔ میں نے سکیورٹی کو بلانے کی کوشش کی۔

ہمیشہ خواتین کو ہی ٹھنڈا رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

میں 30 سال کی خاتون ہوں ۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ معاشرہ خواتین کے ساتھ برا سلوک کرنے والے  مردوں کے ساتھ اس قدر ہمدردی سے پیش آئے۔ عورتوں سے نفرت آمیز رویہ کا مسئلہ ہر ملک میں پایا جاتا ہے  چاہے وہ کوئی مغربی ملک ہو یا مڈل ایسٹ ۔ مرد عوامی جگہوں سے خواتین پرتاک لگاتے ہیں تا کہ ان کا شکار کر سکیں۔ میں نے استنبول، روکلن اور چکاگو کی  کافی شاپس میں مردوں کو سیٹیاں بجاتے دیکھا ہے ۔

پاکستان جیسے ممالک میں مردانہ کنٹرول کلچر کا حصہ ہے جہاں خواتین کی زندگی بے چینی اور بقا کے بیچ ایک تماشہ بن جاتی ہے۔ شاید یہ صحافت سے تعلق کی وجہ سے ہے کہ میں مردوں سے نہیں گھبراتی  لیکن غصہ کرنے کی قابل رکھنے والی ہر خاتون  انکار کر سکتی ہے۔ لوگوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہ ہوتی ہے کہ خواتین ان کی طرف سے ہراساں کیے جانے پر شکایت کیوں کرتی ہیں۔ میں جب بھی کسی عوامی جگہ پر مردوں سے سختی سے پیش آتی ہوں تو لوگ مجھے پر سکون ہونے کا مشورہ دیتے ہیں۔ 30 منٹ تک سکیورٹی اہلکار باہر کھڑے ہو کر یہ سوچتے رہے کہ انہیں مداخلت کرنے کے لیے اندر آنا چاہیے یا نہیں۔ اب اس شخص نے کافی آرڈر کر لی تھی  اور اب سگریٹ سلگانے لگا تھا۔ ایک سکیورٹی اہلکار کہہ رہا تھا: یہ ایک گاہک ہے۔ ہم اسے کِک آوٹ نہیں کر سکتے۔ آپ لوگ تھوڑا دور بیٹھ جائیں اس کی طر ف مت دیکھیں۔ اسے نظر انداز کریں۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ کچھ کہہ رہے تھے یہ اس کا اور لڑکیوں کا آپسی معاملہ ہے۔ جب میں ان کے اس رویہ سے تنگ آ گئی تو میں نے خود انہیں اپنا فرض پہچاننے کا طریقہ سکھانے کی غرض سے اٹھی ۔ تب وہ آگے بڑھے۔

میں جب آگے بڑھی تو سکیورٹی ہیڈ نے جا کر اس شخص سے پہلے ہاتھ ملایا اور پوچھا کہ آیا وہ اپنی کافی سے بھر پور لطف اندوز ہو رہے ہیں یا نہیں۔ یہ شخص نہ تو وہاں سے جانا چاہتا تھا اور نہ ہی معافی مانگنا چاہتا تھا۔ میں ایک بار پھر آگے بڑھی۔ میں نے کہا کہ وہ شخص اپنا شناختی کارڈ سکیورٹی کے حوالے کرے  اور سکیورٹی والے درجنوں افراد مجھے روکنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے ۔ وہ مجھے بتا رہے تھے کہ میں پر سکون ہو جاوں اور اس شخص سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ خواتین کو یہ صورتحال اکثر پیش آتی ہے کہ کسی بھی مسئلہ میں انہیں ہی خاموش رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اب ان لوگوں کو بھی صورتحال سمجھنی چاہیے جو کہتے ہیں کہ خواتین بولتی نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے خواتین نہیں بول پاتیں کہ انہیں چپ کروا دیا جاتا ہے۔

تمام سکیورٹی اہلکار اور ریسٹورینٹ سٹاف ایک شش و پنج کی صورتحال میں پھنسے تھے کیونکہ وہ اتنی ہمت پیدا نہیں کر پا رہے تھے کہ ایک مر دکو ریسٹورینٹ سے باہر نکال سکیں۔ ان کے مطابق ایک شخص کا خواتین کو ہراساں کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ اگرچہ وہ مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے  لیکن اخلاقی طور پر وہ میرے ساتھ نہیں تھے۔ انہیں نتائج کی بھی کوئی فکر نہ تھی۔ وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ اسے معلوم ہے کہ اس پر نظر رکھی ہوئی ہے اس لیے بات کو ختم کر دیں۔ میرے خیال میں یہ رویہ مردوں کے دفاع کا ایک طریقہ ہے  اور یہی ان کو یقین دلاتا ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ عوامی جگہوں پر بھی اپنی مرضی کا برتاو کر سکتے ہیں۔

ایسے مراحل میں سکیورٹی سٹاف بھی مرد کی طرف سے خواتین سے معافی مانگ کر انہیں چپ رہنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس شخص کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنے رویہ پر معافی مانگے۔  خواتین معاف بھی کر دیتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ وہ اس طرح کے با اثر مردوں سے معافی نہیں منگوا سکتیں۔ ڈرتی ہیں کہ وہ لوگوں کی نظر میں نہ آجائیں۔ کوئی انہیں جج نہ کرے، ان کے بارے میں باتیں نہ ہوں۔ وہ مردوں کی اس دنیا میں نہ نظر آنے والی چیز بن جانا چاہتی ہیں۔

وہ خواتین مجھے کہہ رہی تھیں کہ کوئی بات نہیں اس مرد کو بیٹھنے دیں ۔ اب وہ اس مرد کا ساتھ دے رہی تھیں۔ خواتین ایسی ہی ہوتی ہیں۔ وہ اچھی، مہربان اور معاف کر دینے والی بننا چاہتی ہیں۔ یہی ان کی عادت ہوتی ہے۔ اب معاملہ بدل گیا ہے۔ اب یہ بات نہیں کی جاتی کہ خواتین کو عوامی جگہیں استعمال کرنے دی جائیں  بلکہ  یہ کہا جاتا ہے کہ مردوں کو عوامی جگہیں کھل کر استعمال کرنے کی آزادی دی جائے۔ ابھی تک اس مرد نے معافی نہیں مانگی تھی۔

بات یہاں ختم نہیں ہو ئی بلکہ  بڑھتی ہی گئی ۔ جب میں نے ویڈیو بنانا شروع کیا تو سٹاف نے معاملے میں سنجیدگی دکھائی ۔ وہ مجھے بتانے لگے کہ میں ویڈیو نہیں بنا سکتی۔ تب میں نے پوچھا کہ اگر ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہے تو کیا ریسٹورینٹ میں خواتین کو پریشان کرنے کی اجازت ہے؟  20 کے قریب لوگ جمع ہو گئے اور ایک شخص نے مجھے پوچھا: اگر میں چلا جاوں تو آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ میں اس کا شناختی کارڈ لینا چاہتی تھی  جو مجھے نہیں ملا لیکن  اسے ایک خاتون سے سبق ضرور مل گیا۔  میں کوئی ایسا دن دیکھنا چاہتی ہوں جب مجھے کافی شاپ پر غصہ کے بغیر آنے کا موقع ملے ۔ اگر ملک کی پانچ میں سے ایک خاتون ورک فورس کا حصہ ہے تو ان خواتین کو گھر چھوڑ کر عوامی حلقوں میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ گھریلو خواتین کو بھی گھر سے نکلنا پڑتا ہے اور وہ بھی اکیلے۔ کیا یہ عوامی جگہیں خواتین کے لیے محفوظ ہیں؟ نہیں ایسا بلکل نہیں ہے۔  پورے ملک میں یہ بات سب کو معلوم ہے کہ مرد اپنے الفاظ اور آنکھوں سے خواتین کو پریشان کرتے ہیں۔ لیکن لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ کوئی خاتون اس بد معاشی کے خلاف اٹھ کھڑی ہو جائے۔ جب میں کسی مرد کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہوں تو لوگ مجھے کہتے ہیں پرسکون ہو جاو۔ وہ کہتے ہیں: کیا پتہ بعد میں کیا ہو جائے، خطرہ ہو سکتا ہے، اپنے آپ کو غیر ضروری خطرات میں کیوں ڈال رہی ہو، وغیرہ وغیرہ۔

غیر ضروری خطرات  ہی وہ چیز ہے جس سے خواتین عوامی جگہوں پر نبر د آزما ہوتی اور جھیلتی ہیں۔ ریسٹورنٹس، مالز اور دوسری عوامی جگہوں کے مالکان کا فرض ہے کہ وہ خواتین کو تنگ کرنے والون کے لیے سخت قوانین بنا ئیں۔  خواتین اور خواجہ سراوں کو عوامی مقامات پر ہراساں کرنے کے عمل کو عوامی سطح پر مسترد کیا جانا چاہیے  اور خواتین کو مجبور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ان کو ہراساں کرنے والے مردوں کو معاف کر دیں اور اپنی بے حرمتی کی تکلیف دل پر پتھر رکھ کر سہتی رہیں۔ جب وہ آدمی چلا گیا تو خواتین نے میرا شکریہ ادا کیا  اور ریسٹورینٹ کے سٹاف نے بھی آ کر مجھ سے اس شخص کی طرف سے معافی مانگی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *