’’اُستادی‘‘ اور آخری ’’یُو ٹرن‘‘؟؟؟

نواب غوث بخش باروزئی اسے ''اُستادی‘‘ کہتے ہیں۔ جمعرات کی شام سبّی (بلوچستان) سے ان کی کال تھی۔ وہ یاد دلا رہے تھے کہ 2015ء میں چیف جسٹس (موجودہ نگران وزیر اعظم) ناصرالملک کی سربراہی میں عدالتی کمیشن نے مئی 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کا آغاز کیا تو وہ بھی اس کے روبرو پیش ہوئے تھے۔ نواب غوث بخش باروزئی 2013ء کے عام انتخابات میں بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ تھے۔ یہاں انتخابات کا انعقاد وقت کا سنگین ترین چیلنج تھا۔ سرحد کے اس پار پناہ گزین ''ناراض بلوچوں‘‘ کی 'بی ایل اے‘ اور 'بی ایل ایف‘ جیسی تنظیمیں یہاں انتخابات کے انعقاد کو اپنے ''کاز‘‘ کے لیے سخت نقصان دہ سمجھتی تھیں‘ اور ہر قیمت پر انہیں سبوتاژ کرنے پر تلی ہوئی تھیں۔ تب الطاف صاحب کے ''پائنا‘‘ نے زمینی حقائق کا بچشم خود جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ لاہور سے دس بارہ سینئر جرنلسٹ الطاف صاحب کے ہم سفر ہوئے۔ ان میں سے شامی صاحب، سجاد میر صاحب، ڈاکٹر مغیث شیخ اور سلمان عابد کے نام یاد ہیں (عمر میں اپنے کئی سینئر ساتھیوں سے ہم خاصا پیچھے ہیں، لیکن یادداشت کا معاملہ گڑبڑ ہوتا جا رہا ہے۔ برسوں پہلے کے واقعات، اُس دور میں پڑھی ہوئی کتابیں، دیکھی ہوئی فلمیں، یوں از بر ہیں جیسے کل کی بات ہو لیکن کل کی بات یاد نہیں رہتی۔ اس میں ناموں کے بھولنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ وہ جو شاعر نے کہا تھا، میں نام ترا بھول گیا، سوچ رہا ہوں)۔
اسی دورے میں نواب باروزئی سے بھی ملاقات ہوئی‘ نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر جنہیں انتخابات کے انعقاد کا سنگین چیلنج درپیش تھا اور وہ اس کے لیے پُرعزم تھے۔ غوث بخش کے خاندان کا شمار بلوچستان کے ممتاز سیاسی خانوادوں میں ہوتا ہے۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد، بھٹو صاحب کے ''نئے پاکستان‘‘ میں ان کے والد نواب محمد خان باروزئی بلوچستان کی پہلی اسمبلی کے بلا مقابلہ سپیکر منتخب ہوئے تھے، دو بار وزیر اعلیٰ بھی رہے۔ کہا جاتا ہے 1977ء کے بحران میں پی این اے کو بھٹو کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنے میں نواب محمد خان باروزئی کا حصہ بھی تھا (مفتی محمود مرحوم کے ساتھ نواب صاحب کے دیرینہ تعلقات تھے)
بلوچستان میں امن و امان کے سنگین مسائل کے پیش نظر، یہاں مرحلہ وار انتخابات کی تجویز بھی سامنے آئی۔ نواب غوث بخش باروزئی کے لیے ذاتی طور پر یہ خاصی پُر کشش تھی کہ اس صورت میں ان کی نگران وزارت اعلیٰ کو کوئی نو، دس ماہ کی توسیع مل جاتی‘ لیکن وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے کہ اس سے صوبے میں ''ریاست‘‘ کی کمزوری کا تاثر پیدا ہو گا‘ اور دشمن کے حوصلوں کو تقویت ملے گی۔ ایک دلچسپ بات یہ تھی کہ وزیر اعلیٰ نے نگران کابینہ کے قیام کی ضرورت ہی محسوس نہ کی اور سارا کام سول بیوروکریسی اور عسکری اداروں سے چلاتے رہے (ظاہر ہے، اس میں بالا تر رول یہاں کی عسکری قیادت کا تھا)۔ نواب غوث بخش باروزئی سے تب سے ہماری یاد اللہ ہے۔ ہم نے انہیں ان بہت سے سیاست کاروں سے مختلف پایا، میڈیا والوں سے جن کے تعلقات نظریۂ ضرورت کے تحت ہوتے ہیں۔ سبّی میں بیٹھے ہوئے سیاستدان کو ہم جیسے لاہوریے سے کیا کام، جو پولیٹیکل رپورٹنگ سے، عرصہ ہوا، لا تعلق ہو چکا‘( اور صحافت سے جس کا تعلق اب عملی سے زیادہ نظری حد تک ہے) لیکن وہ اس کے باوجود رابطے میں رہتے ہیں۔ انہیں ہمارے کالموں سے اتفاق کم اور اختلاف زیادہ ہوتا ہے۔ اس جمعرات کی شام ان کا کہنا تھا: آپ کو یاد ہو گا، چیف جسٹس صاحب کی زیر قیادت اُس عدالتی کمیشن کے روبرو میں نے کیا کہا تھا؟ یہ کہ میں اسے دھاندلی نہیں ''استادی‘‘ کہوں گا، خود میرا خاندان بھی جس کا شکار ہوا۔ میرا چھوٹا بھائی فاروق خان باروزئی صوبائی اسمبلی کا امیدوار تھا اور وہ بھی اس ''استادی‘‘ سے محفوظ نہ رہا۔ چیف صاحب نے پوچھا کہ اس کے ساتھ یہ ''استادی‘‘ کس نے کی؟ ''یہ استاد‘‘ کون تھا؟... یہ میرے صوبے کا ایک بہت بڑا افسر تھا... میں نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر کہا کہ اب (2015ء میں) وہی صاحب پاکستان الیکشن کمیشن میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں تو میں آئندہ عام انتخابات کی شفافیت کے سامنے ایک نہیں، تین سوالیہ نشان لگا سکتا ہوں۔
پاکستان کے 21ویں منتخب وزیر اعظم کے طور پر عمران خان کی تقریبِ حلف وفاداری بھی بے رحم ناقدین کے تبصروں سے محفوظ نہیں رہی ( اور سچ بات یہ کہ اس کا موقع خود ''پرائم منسٹر اِن ویٹنگ‘‘ کے ترجمانوں نے مہیا کیا) پہلے خبر آئی کہ تقریب حلف وفاداری کو یادگار بنانے کے لیے ''وزیر اعظم صاحب‘‘ کی خواہش ہے کہ یہ پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے D گرائونڈ میں ہو، 23 مارچ کو جہاں مسلح افواج کی پریڈ ہوتی ہے اور 2014ء کے 126 دنوں کے دھرنے کے حوالے سے پی ٹی آئی جسے اب ڈیموکریسی گرائونڈ کا نام دینا چاہتی ہے۔ بزرگوں کو بھٹو صاحب یاد آئے۔ 1973ء کے آئین کے نفاذ کے بعد قائد عوام نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف ریس کورس گرائونڈ راولپنڈی میں اپنے عوام کے سامنے اٹھایا تھا (تب جناب محمودالرحمن چیف جسٹس آف پاکستان تھے) اب ملک کے 21ویں منتخب وزیر اعظم بھی عوام کے روبرو حلف اٹھانا چاہتے تھے‘ لیکن ایوانِ صدر کی طرف سے منظوری نہ ملی۔ اس میں سکیورٹی کے مسائل بھی تھے کہ وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں غیر ملکی سفرا، اعلیٰ عدلیہ کے سربراہان اور معزز جج صاحبان، مسلح افواج کی قیادت اور دیگر وی وی آئی پیز بھی شریک ہوتے ہیں۔ 
پھر تقریب حلف وفاداری میں غیر ملکی سربراہوں کو مدعو کئے جانے کی خبر آئی۔ یہ آئیڈیا شاید مُودی کی تقریبِ حلف وفاداری سے لیا گیا تھا، جس میں پاکستان سمیت سارک کے سبھی ممالک کو دعوت دی گئی تھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا کہ مخالفین اسے پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کر سکتے تھے‘ لیکن وہ قومی مفاد میں یہ مشکل فیصلہ کر گزرے تاکہ دنیا کو یہ تاثر نہ جائے کہ ہندوستان کی نئی قیادت تو تعلقات کا نیا باب کھولنا چاہتی ہے‘ لیکن پاکستان اس پر آمادہ نہیں۔ وہی بات جو اب ''نومنتخب‘‘ وزیر اعظم نے 26 جولائی کی وکٹری سپیچ میں کہی: ہندوستان ایک قدم بڑھائے، ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ خوشگوار تعلقات کی اس خواہش کا اظہار مودی کی 30 جولائی کے مبارکباد پر ٹیلی فونک گفتگو میں بھی موجود تھا۔ 2008ء میں تاج ممبئی پر حملے سے چند ہفتے قبل صدر آصف زرداری نے انڈین میڈیا سے ویڈیو لنک گفتگو میں فرمایا تھا کہ ہر پاکستانی شہری کے دل میں چھوٹا سا ہندوستانی اور ہر ہندوستانی کے دل میں چھوٹا سا پاکستانی بستا ہے۔ کراچی والے فیصل وائوڈا نے تو دنیا نیوز پر کامران شاہد کے پروگرام میں، مودی کی (متوقع) آمد کے وہ فیوض و برکات بیان کیے کہ خود میزبان بھی حیرت میں ڈوب گیا‘ اور توبہ توبہ پکارنے لگا۔ اب خان کی تقریب حلف برداری میں مودی کی شرکت میڈیا میں بحث مباحثے کا نیا عنوان بن گئی تھی۔ محترمہ شیریں مزاری اور شفقت محمود غیر ملکی سربراہوں کو مدعو کئے جانے پر صلاح مشورے کے لیے فارن آفس بھی گئے۔ اسی دوران فواد چوہدری نے سنیل گواسکر، کپیل دیو اور سدھو کے علاوہ عامر خان کو دعوت نامہ بھجوانے کی خبر بھی دی۔ عامر خان نے اپنی پیشگی مصروفیات کے باعث معذرت بھجوا دی، کپیل دیو نے اسے اپنی حکومت کی اجازت سے مشروط کر دیا اور تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ''نومنتخب‘‘ وزیر اعظم کی خواہش پر یہ تقریب ایوان صدر میں نہایت سادگی سے منعقد ہو گی‘ جس میں کوئی غیر ملکی سربراہ‘ کھلاڑی یا اداکار شریک نہیں ہو گا۔ ''وزیر اعظم‘‘ عوام کے ٹیکسوں کا بے جا مصرف نہیں چاہتے۔ 
خدا کرے، جناب خان کی وزارتِ عظمیٰ سے قبل یہ ان کی جماعت کا آخری ''یُو ٹرن‘‘ ہو کہ ملک کی حکمران جماعت کی حیثیت سے دُنیا اس سے زیادہ سنجیدگی، متانت اور وقار کی توقع رکھتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *