وینزویلا کے صدر ’قاتلانہ حملے‘ میں محفوظ

وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں فوجی پریڈ کے دوران صدر نکولس مدورو ’ڈرون حملے‘ میں محفوظ رہے جبکہ نیشنل گارڈ کے 7 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مذکورہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فوجی پریڈ کے دوران صدر نکلوس مدورو خطاب کررہے تھے۔

اس حوالے سے وینزویلا کے حکام کا دعویٰ ہے کہ ’بارود سے بھرے ڈرون سے حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی‘۔

بعدازاں صدر نکولس مدورو نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’حملہ مجھے قتل کرنے کے لیے کیا گیا، انہوں نے مجھے مارنے کی کوشش کی‘۔

انہوں نے کہاکہ تفتیش کاروں نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا ہے اور تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

نکولس مدورو نے اپنے اوپر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کولمبیا پر عائد کی اور کہا کہ ’امریکا میں بیٹھے بعض نامعلوم لوگوں نے حملے کی فنڈنگ کی‘۔

 

دوسری جانب کولمبیا نے وینزویلا کے صدر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔

اس حوالے سے کولمبیا کے افسر نے بتایا کہ نکولس مدورو کے الزامات ’بے بنیاد‘ ہیں۔

واضح رہے کہ سرکاری طور پر نشر ہونے والی تقریب میں ڈرون نہیں دیکھا جا سکتا اور جب دھماکے کی آواز پیدا ہوئی تو صدارتی گارڈز نے صدر کو حفاطتی حصار میں لے لیا جس کے بعد نشریات منقطع ہو گئی۔

وزیراطلاعات جارج روڈ ریگز کا کہنا تھا کہ ’ حملہ صدر نکولس مدورو کے خلاف تھا‘۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ ’صدارتی پوڈیم کے پاس بارودی چیز دھماکے سے پھٹ گئی‘ جبکہ کراکس کے مختلف حصوں میں بھی پریڈ جاری تھی۔

جارج روڈریگز نے بتایا کہ ’صدر نکولس مدورو حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہے‘۔

حکومت کی جانب سے حملے میں ’دائیں بازو کی جماعت‘ کے ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا گیا۔

صدر نکولس مدورو نے دوٹوک کہا کہ ’مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ حملہ کولمبیا کے صدر نے کرایا ہے‘۔

ابتدائی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ ’ایسے شواہد ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حملے کی فنڈنگ امریکی ریاست فلوریڈا سے کی گئی‘۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں گے۔

واضح رہے کہ رواں برس مئی میں منعقد انتخابات میں صدر نکولس مدورو ایک مرتبہ پھر 6 برس کے لیے ملک کے صدر منتخب ہوئے۔

وینزویلا تیل برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے جہاں سیاسی بحران کے ساتھ معیشت کی صورتحال ابتر ہے جس کے باعث وینزویلا کا عالمی دنیا کے ساتھ رابطہ بہت کم ہے۔

خوراک اور ادویات کی کمی کے باعث ہزاروں کی تعداد میں وینزویلا کے رہائشی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مطابق رواں برس مہنگائی غیر معمولی طور پر بہت زیادہ ہوگی۔

55 سالہ صدر نکولس مدورو متعدد مرتبہ اپوزیشن اور امریکا پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ دونوں ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کےلیے ’بغاوت‘ کرتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ صدر نکولس مدورو نے 2013 میں اپنے سیاسی حریف کو انتخابات میں شکست دی اور اپنے مخالفین کو الیکڑول باڈی اور عدالتوں کے ذریعے کنارے پر کردیا۔

اس دوران صدر نکولس مدورو کو آرمی کی بھرپور حمایت رہے جو حکومت کے لیے کلیدی سمجھی جاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *