نجم سیٹھی کا استعفی

یہ تو دو ہزار تیرہ کے انتخابات کے بعد ہی پورے پاکستان کو پتہ چل گیا تھا کہ اگلے انتخابات جب بھی ہونگے عمران خان نے ہی جیتنے ہیں اسی لیے عمران خان کو انتخابات کی جلدی بھی تھی اور وہ 2014 میں ہی انتخابات چاہتے تھے تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ اب جبکہ انتخابات ہوچکے ہیں پاکستان کو دنیا کی کامیاب ترین ریاست بنانے کی انشااللہ دعویدار پارٹی پی ٹی آئ جیت بھی گئ ہے تو شروع میں ہی کچھ ایسی مضحکہ خیز باتیں سامنے آئ ہیں جس سے اس پارٹی کی غیر سنجیدگی یا اگر یہ کہوں کہ بچپنے کااندازہ ہوتا ہے تو غلط نہیں ہوگا جس کا بطور عمران خان کے مداح مجھے بڑا دکھ ہے انتخابات کے بعد جس طرح کی خبریں سامنے آئیں اُس سے تو یہ لگتا ہے کہ عمران خان نے انتخابات صرف جیتے ہی اسی لیے ہیں کہ وہ نجم سیٹھی کو پی سی بی کے چییرمین کے عہدے سے ہٹاسکیں ۔ جس انداز سے عمران خان کے دست راست ذلفی بخاری نے پہلے روز ہی یہ بیان داغ دیا کہ نجم سیٹھی کے لیے بہتر ہے کہ وہ خود ہی مستعفی ہوجائیں اُس سے ذلفی بخاری کی امیچورٹی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے نہ صدر نہ گورنرز نہ دوسرے بڑے سرکاری محکموں کے سربراہوں کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ مستعفی ہوجائیں بلکہ ایک معمولی سے ادارے جو کہ مکمل طور پر سرکاری بھی نہیں اُس کے سربراہ کو کہا گیا کہ آپ خود ہی مستعفی ہوجائیں اس سے پی ٹی آئ اور ذلفی بخاری کی ذہنی سطح کا آئیڈیا ہوجانا چاہیے کہ جو پارٹی مشکلات میں گھرے ملک کو مشکلات سے نکال کر دنیا کی کامیاب ترین ریاست بنانا چاہتی ہے اُس کا پہلا اور سب سے بڑا مسلہ نجم سیٹھی جیسا ایک معمولی عہدیدار ہے جو کہ کرکٹ بورڈ چلارہا ہے۔ بیوقوفی یہیں ختم نہیں ہوتی اپنے آپ کو دانشور کہنے والے صحافی بھی بس ایک اسی سوال کے جواب کے منتظر ہیں کہ اگلا پی سی بی چئیرمین کون ہوگا اب اس پر ہنسا جاۓ یا رویا جاۓ سمجھ نہیں آتا کیونکہ انتخابات سے پہلے تک یہ صحافی عمران خان کے انتخابات جیتنے کی صورت میں اسے پاکستان کے لیے ایک عظیم کارنامہ قرار دے رہے تھے اور عمران خان کے جیتنے کے بعد یہ عظمت نجم سیٹھی کے استعفی پر جاکر ٹہری اور اس پر رنگ و روغن پی سی بی کا چئیرمین بننے والے ہر خواہشمند نے کیا اپنے بیانات کے ذریعے تاکہ وہ عمران خان کی نظروں میں آسکیں جب میں نے خان کے ایک انتہائ قریبی دوست جن سے میرا پندرہ سال سے گہرا واسطہ ہے کو فون کرکے کہا یار کچھ شرم کرو کیا پی ٹی آئ کا اب مرنا جینا نجم سیٹھی کا استعفی ہی رہ گیا ہے کیوں اتنے بڑے بڑے ٹارگٹ چھوڑ کر پی سی بی کو سب سے بڑا ٹارگٹ بنارہے ہو حالانکہ وہاں سب کچھ ٹھیک سے بھی زیادہ چل رہا ہےخان کو بولو پڑھے لکھے لوگ ہنس رہے ہیں مذاق اُڑارہے ہیں اس پر پہلے تو وہ خود اپنے منفرد انداز میں زوردار طریقے سے ہنسے اور پھر بھولے بھائ خان صاحب کو تو علم ہی نہیں ہے کون کیا بیان دے رہا ہے کوئ نجم سیٹھی کے پیچھے لگا ہے کوئ وزارت اعلی کے کوئ گورنری کوئ وزارت کے اور سب اپنے اپنے ذریعوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر زور لگارہے ہیں انھوں بتایا کہ پی سی بی یا نجم سیٹھی نہ ابھی تک ڈسکس ہوا ہے اور نہ ہوگا یہ کوئ اتنا بڑا مسلہ ہے ہی نہیں ابھی تو خان صاحب اندرونی اور بیرونی سیاست اور حکومت سازی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جب میں نے اُن سے زور دیکر پوچھا کون سب سے زیادہ خواہش مند ہے پی سی بی میں آنے کے لیے تو انھوں نے کہا ذاکر اور ذلفی یہ دونوں پی سی بی میں آنا چاہتے ہیں یا پھر ذلفی اپنے والد کوپی سی بی میں لانا چاہتے ہیں اس خواہش کا ذلفی نے دو مہینے پہلے اظہار کیا تھا اور شاید اسی لیے یہ سب بیان بازیاں شروع ہوئیں مگر فی الحال خان نے اس موضوع پر خود کوئ بات نہیں کی ابھی تک۔ فون پر ہونے والی اس گفتگو کے بعد میں سوچنے لگا کہ اگر خان صاحب ٹی وی اور ٹوئٹر پر ذلفی اور ذاکر خان کی اپنے چئیرمین بننے کے حق میں چلائ گئ مہم جو کہ دراصل نجم سیٹھی کی کردار کشی کرکے چلائ جارہی ہے دیکھ لیں تو شاید شرمندہ ہی ہوجائیں کیونکہ گزشتہ تین مہینے والا عمران خان اپنے ماضی سے بہت مختلف ہے وہ نہ صرف اصول پسند ہوگیا بلکہ اپنے درباریوں سے بھی دور رہتا ہے اب اور واقعی یہ پاکستان کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ عمران خان وزیراعظم بنیں گے مگر ساتھ ساتھ میں ڈرتا ہوں کہ عمران خان کے ارد گرد کے لوگ عمران کی محنت اور دیانت پر پانی نہ پھیردیں میں جب ٹوئٹر پر عمران کے سیاسی مخالفین کے خلاف مغلضات پڑھتا ہوں تو میں اندر سے ڈر جاتا ہوں کہ یہ دراصل عمران کے خلاف سازش ہورہی ہے بین الاقوامی طور پر عمران کا چہرہ مسخ کرنے کی اور اس میں عمران کے ہی قریبی لوگ معصوم اور نوزائیدہ ٹوئٹر کے سپاھیوں کو استمعال کررہے ہیں اور ان معصوموں کو پتہ بھی نہیں چل رہا کہ جب وہ عمران کےسیاسی مخالف کو گالی دیتے ہیں تو دراصل بین الاقوامی میڈیا اُسے عمران کی پالیسی سمجھتا ہے لہذا میرے ٹوئٹر کے مجاہدو اللہ کے واسطے عمران کے خلاف اس سازش کو سمجھو اور جو بھی تمھے عمران کے سیاسی مخالف کے خلاف اُکساۓ اُسے رد کردو اگر جواب چاہیے تو دیکھ لو آج ٹرمپ امریکہ کا صدرتو بن گیا مگر اُس کی عزت کہیں بھی نہیں اور ہر شخص ٹرمپ کو ایک بدتمیز اور بدکردار حکمراں کہتا ہےیہ صرف اور صرف اُن منافرت پسند امریکیوں کی وجہ سے ہوا جو ٹرمپ کے حمایتی تھے اب ٹرمپ لاکھ چاہے مگر دنیا میں اپنے مسخ ہونے والے امیج کو ٹھیک نہیں کرسکتا حالانکہ دنیا کی طاقتور ترین ریاست کا سربراہ ہے۔
نجم سیٹھی کو میں نے شروع شروع میں پی سی بی میں رہنے پر بلکل پسند نہیں کیا اور خوب کھل کر مخالفت کی کرکٹ پر لکھنا اور بولنا میرا مشغلہ ہے مگر پاکستان ٹیم کی کارکردگی اور پی ایس ایل کی کامیابی کے بعد میں نے محسوس کیا کہ نواز شریف کا فیصلہ بلکل صحیح تھا عمران خان اگر چاہیں نجم سیٹھی کو فوری ہٹادیں مگر ان کی جگہ جسے بھی لے کر آئیں وہ عمران خان کے کندھے پر چڑھ کر نہیں بلکہ صلاحیت کی بنیاد پر آۓ بصورت دیگر عمران خان کے وعدے صرف وعدے ہی رہ جائیں گے اور یاد رکھیں پی ایس ایل ایک عظیم الشان قومی تہوار کا روپ دھار چکا ہے اور اس ایونٹ نے پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے اور یہ قوم کرکٹ کو اپنے دوسرے مزہب کے طور پر لیتی ہے اگر کرکٹ کی خوشیوں کو روندا گیا تو یہ قوم مایوسی کے ایسے دلدل میں دھنس جاۓ گی جسے بڑی سے بڑی تبدیلی بھی نہیں بدل سکتی لہذا خوشیوں کا یہ تسلسل نہیں ٹوٹنا چاہیے اور عمران خان کو پی سی بی کے معاملے میں انتہائ سوچ بچار اور بھرپور ہوم ورک کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *