لائف لائک اے لوکل بس

حنا سعید

لمبے سفر کو طے کرتی ایک نادان سی لڑکی کسی گہری سوچ میں ڈوبی ۔۔۔۔ اچانک ایک شدید جھٹکے نے اسے خوابوں کی دنیا سے نکال دیا۔ ہو ش میں آ کر وہ ناسمجھی سے اپنے  اصل کو دیکھ رہی تھی۔ کچھ دیر اصل کو تسلیم کرنے میں وہ حیرت زدہ بیٹھی رہی اور پھر اپنی ہی بے وقوفی پر ہنس دی۔ شاید سفر ختم ہو گیا لیکن نہیں ابھی نہیں۔ گاڑی پھر سے ایک اور سفر کےلیے چل دی کبھی سر سبز درخت، چہچہاتی چڑیاں، نہر کا پر سکون پانی، غریب کی جھونپڑی، کسی فقیر کی صدا، ہزار مناظر دیکھنے کو ملے ۔ کہیں سکون تھا تو کہیں اضطراب۔ کہیں اونچی عمارتیں جن کو دیکھنے کے لیے اسے اپنے قد سے زیادہ اونچا ہونا پڑتا تو کہیں آنکھوں کو چندھیا دینے والی روشنی ۔۔ تھک کر اس نے پھر سے آنکھیں موند لیں ۔ سیانے کہتے ہیں جس راہ چلنا نہیں اس کا رستہ کیا پوچھنا۔ اور پھر ایک لڑکی آنکھیں بند کرنے کے سوا اور کر بھی کیا سکتی ہے؟ ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے خود کو پھر سے خوابوں میں دھکیل دیا۔ دنیا کے شور شرابوں، رونقوں اور رنگینیوں سے پرے اس کی ایک اپنی ہی دنیا تھی۔ ایک بہت پر سکون دنیا۔ جس دنیا میں کوئی گھورنے والی آنکھ نہیں تھی۔کسی رنگ کی پابندی نہیں تھی، کسی سوچ کی قید نہیں تھی،  جہاں کوئی سوال نہیں کیا جاتا، جہاں کوئی دھوکہ فریب نہیں تھا۔ بس رنگے تھے، خوشبو تھی، تتلیاں تھیں ، آسمانوں سے آتے پھولوں سے لدے جھولے تھے  اور وہ کسی تتلی کی طرح بادلوں کے ہیولوں میں غوطے کھاتی۔۔ کھل کر ہنستی ۔۔ جتنا چاہتی اڑتی۔ ہر رنگ کو مٹھی میں بند کرتی ایک پری جیسے۔ وہاں خوشبوئوں کے جھونکے، رنگوں کی نہریں ، جیسے کوئی جنت، پھر اچانک کسی صدا پر وہ چونک جاتی، جیسے کوئی اسے پکار رہا ہو۔۔ وہ اس آواز کے تعاقب میں آگے بڑھ جاتی۔ ایک بند دروازے کے پیچھے سے جیسے کوئی بلا رہا ہو۔ دروازہ کھولتی تو ہر طرف اندھیرا ہوتا۔ پاوں اندر کو بڑھاتی اور زمین غائب وہ خود کو گہرائی میں گرتا محسوس کرتی اور پھر خوف سے ہانپتی اس  خواب سے جاگ جاتی ۔ شاید پھر کسی زور کے جھٹکے سے گاڑی رک گئی۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *