بدلا ہوا پاکستان؟

انتخابی عمل مکمل ہو چکا، اور ان انتخابات کے نتیجے میں (برادرم سلمان غنی کے بقول) حکومت سے پہلے اپوزیشن بن چکی۔ وہ سیاسی رہنما جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا تو کجا آنکھ ملانا بھی گناہِ کبیرہ سمجھتے تھے، ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ''دھاندلی زدہ‘‘ انتخابات کے خلاف جدوجہد کا اعلان کر دیا؎
عشق کی اِک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا مَیں
اس کا یہ مطلب بھی نکالا جا سکتا ہے کہ سب اپنا اپنا مطلب نکالنا چاہتے ہیں، جو فی الوقت یہ ہے کہ عمرانی حکومت کے ساتھ وہی کیا جائے، جو یہ ماضی میں اپنی مخالف حکومتوں کے ساتھ کرتی رہی ہے۔ عمران خان نے اپنی تمام تر توجہ پارلیمنٹ سے باہر مرکوز کی ہوئی تھی، قومی اسمبلی کا رکن ہونے کے باوجود وہ اس میں اتنا کم کم آئے کہ ان کے ریکارڈ کو نواز شریف‘ یا نواز شریف کے ریکارڈ کو وہی بیٹ کر سکتے تھے کہ دونوں میں یہاں نہ آنے کا مقابلہ جاری تھا۔ اگر محترم بابر یعقوب فتح محمد کے زیر نگرانی گنتی کرائی جائے تو پھر ہی دونوں کی اتنی حاضریاں شمار کی جا سکتی ہیں، جن سے دونوں اپنا اپنا نتیجہ نکال لیں... عمران خان نے اسمبلی سے زیادہ گلی کوچوں یا میدانوں اور بازاروں کو توجہ کا مرکز بنا رکھا تھا، یہاں سے وہ براہِ راست قوم سے مخاطب رہتے، اور ٹیلی ویژن سکرین آباد رہتی۔ الیکٹرانک میڈیا پر عمران خان کی برسوں سے نظر تھی، جونہی اس کو آزادی نصیب ہوئی، خان نے اسے اپنی غلامی میں لے لیا۔ اسی کے ذریعے اُن کا پیغام (اور الزام) گھر گھر پہنچا اور وہ دِلوں میں گھر کرتے چلے گئے۔ ان کے حریفِ اول نواز شریف اور ان کے اطلاعاتی رفقا اپنی دھن میں مگن رہے۔ ان کے پاس بات کرنے کا وقت تھا نہ یارا۔ اگر باقاعدہ تحقیق کی جائے تو پتہ چل سکتا ہے کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا استعمال کس نے کس مہارت سے کیا۔ عمران خان کے ساتھ دوسری میڈیائی شخصیت شیخ رشید کی تھی۔ انہوں نے بھی ٹی وی پر قبضہ جمائے رکھا، جو کچھ منہ میں آیا، سننے والوں کے کانوں میں انڈیل دیا۔ ان کی جماعت، عوامی مسلم لیگ تو ''یک نفری‘‘ رہی، لیکن پہلوانی مُسلّم ہوتی چلی گئی۔ لسانی فتوحات میں ان کے ہاتھ جو بھی آیا، اُسے عمران خان کے توشہ خانے میں جمع کرا دیا۔ 2018ء کے انتخابات میں جو کچھ ہوا، اس کی کئی وجوہات تلاش کی جا سکتی ہیں۔ پری پول اقدامات اور آفٹر پول اقدامات میں بہت کچھ موجود ہے۔ پولنگ کے دوران جو مثالی امن و سکون رہا، اس سے البتہ انکار ممکن نہیں، لیکن بعد میں ایسے سوالات اُٹھے کہ اب تک ان کا جواب کسی کو نہیں مل پایا۔ انتخابی انتظامات پر 21 ارب سے زیادہ خرچ کرنے والا الیکشن کمیشن نہ اسے سمجھنے پر قادر ہے، نہ سمجھانے پر۔ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم ناکام ہوا یا کر دیا گیا۔ نادرا کا ہاتھ کہاں ہے، اور الیکشن کمیشن کا کہاں۔ رزلٹ مینجمنٹ سسٹم کہاں دم توڑ گیا، یا حوصلہ چھوڑ گیا۔ یہ عُقدہ لا ینحل ہے۔ عزیزان، اجمل جامی، احمد نورانی، اسد اللہ غالب اپنی اپنی معلومات کے دریائوں کو اپنے کالموں کے کوزوں میں بند کیے بیٹھے ہیں۔ احمد نورانی تو پریذائیڈنگ افسروں کی گمشدگی کی کہانی بھی کھوج لائے ہیں۔ ''ڈان‘‘ نے نادرا کو بری الذمہ کر کے بوجھ کہیں اور ڈال دیا ہے جس پر ہمارے پیارے ڈاکٹر معید پیرزادہ سخت غصے میں ہیں، یہ سب کچھ ہو رہا ہے، لیکن؎
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
گنتی کے دوران بد نظمی کیوں دیکھنے میں آئی، اسے تربیت نہ ہونے کا نتیجہ سمجھا جائے یا تربیت بہت زیادہ ہونے کا۔ یہ تب واضح ہو گا، جب باقاعدہ تحقیقات ہوں گی، جب تک ایسا نہیں ہوتا آنے والی حکومتوں اور لنگوٹ کستی اپوزیشن سے لطف اُٹھاتے رہیے۔ کتنی دلچسپ بات ہے کہ جو ''رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم‘‘ ہر پولنگ سٹیشن سے نتائج کی براہِ راست ترسیل کے لیے بنایا گیا تاکہ شفافیت واضح تر ہو جائے، وہی سوالیہ نشان بن گیا۔ الیکشن کمیشن اس سے پہلے ''آر ایم ایس‘‘ (رزلٹ مینجمنٹ سسٹم) کا تجربہ کر چکا تھا، اس کے ذریعے ریٹرننگ افسر نتیجہ براہِ راست الیکشن کمیشن کو پہنچا دیتا تھا، پولنگ سٹیشن سے نتائج کے تھیلے البتہ بذریعہ پریذائیڈنگ افسر پہنچتے تھے۔ اس مرحلے کو برقی توانائی دینے کے لیے جو سسٹم بنا، وہ سب کو نقاب اوڑھا گیا۔
اپوزیشن محاذ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسمبلی کے محاذ کو نہیں چھوڑے گا، گویا حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک جوہری تبدیلی آ گئی ہے۔ عمران خان چند روز میں وزیر اعظم بن جائیں گے۔ خیبر پختون خوا کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بھی ان کے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ بلوچستان میں جام کمال پر ان کا ہاتھ رہے گا، سندھ میں قائد حزبِ اختلاف اُن کا نامزد کردہ ہو گا۔ انتخابی بے قاعدگیوں سے قطع نظر اُن کی جماعت نے 16.76 ملین یعنی کل ڈالے گئے ووٹوں کا 31 فیصد حاصل کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے 12.91 ملین اور 24.47فیصد۔ پیپلز پارٹی، ایم ایم اے اور اپوزیشن اتحاد میں شامل دوسری جماعتوں کے ووٹ جمع کر لیں تو دو کروڑ سے بڑھ جاتے ہیں۔ گویا عمران خان کو ریکارڈ ووٹ حاصل ہونے کے باوجود ان کی اپوزیشن اسمبلیوں سے باہر بہت بڑی قوت ہو گی۔ سینیٹ میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور اتحادی مل کر بھاری اکثریت میں ہوں گے۔ یہ نیا چیئرمین بھی منتخب کر سکتے ہیں، اور قانون سازی میں شدید رکاوٹ بھی بن سکتے ہیں۔
ہر وہ شخص جو پاکستان میں جمہوری عمل کو توانا دیکھنا چاہتا ہے وہ حزبِ اقتدار اور اختلاف سے توقع رکھے گا کہ وہ ماضی کو دہرانے کے بجائے اس کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر کسی کا سر بھی اونچا نہیں ہو گا۔ تحریک انصاف کے جیالے اور اپوزیشن کے متوالے نوٹ کر لیں کہ انتخابی مہم ختم ہو چکی... اداروں کو مضبوط کیا جانا چاہئے، احتسابی کارروائیوں کو انتقامی رنگ نہیں ملنا چاہئے۔ سب بلا تفریق قانون کے سامنے جواب دہ ہوں، نیب، ایف آئی اے، بورڈ آف ریونیو، اور پولیس سب اپنے اپنے دائرے میں خود مختار ہوں اور جس کو بھی قانون ہاتھ میں لیتے دیکھیں، اس کے خلاف حرکت میں آ جائیں۔ ان کی نگرانی کا انتظام تو کیا جائے، غلامی کا نہیں... اگر حکومت مخالفین کو سبق سکھانے میں لگ گئی تو وہ بھی اسے چھٹی کا دودھ یاد کرا دیں گے۔ ایک بار پھر وہی ہونے لگے گا، جو ہوتا چلا آ رہا ہے۔ اگر ایسا ہو گا تو پھر ویسا بھی نہیں ہو گا، جس کا خواب عمران خان دیکھ اور دکھا رہے ہیں۔ وہ سادگی اور کفایت شعاری کے نمونے قائم کر کے دکھائیں لیکن ساتھ ہی ساتھ وسعت قلبی، انکساری اور ملنساری کا مظاہرہ بھی کریں، اگر اقتدار حاصل کرنے کے لئے ایم کیو ایم تک سے معاہدہ ہو سکتا ہے تو پھر اسے برقرار رکھنے، اور دلجمعی کے ساتھ کام کرنے کے لیے اپوزیشن سے معاملہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ جائز شکایات کا ازالہ کیوں نہیں ہو سکتا، بدلا ہوا پاکستان حاصل کرنے کے لئے بہت کچھ بدل کر دکھانا ہو گا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *