ساوتھ کوریا میں خفیہ کیمروں کا بھیانک کھیل

لارا بائیکر

مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار ساوتھ کوریا کے خفیہ کیمرون کے سکینڈل کے بارے میں سنا تھا۔ سیول پہنچنے کے فوری بعد میں اپنے دوست کے ساتھ ہیین دریا کے کنارے بائیک پر ایک پبلک لُو کی طرف جا رہی تھی۔ دیکھو ذرا اس میں کیمرہ تو نہیں لگایا گیا؟ میں واپس مڑ ی اور ہنسنے لگی لیکن وہ مذاق نہیں کر رہی تھیں۔ بہت سے خواتین نے مجھے بتایا ہے کہ جب وہ کسی پبلک ٹائلٹ میں جاتی ہیں تو سب سے پہلے احتیاطا سوراخ اور کیمرہ وغیرہ دیکھ لیتی ہیں۔  کیونکہ اس وقت ملک بھر میں کیمرہ کے ذریعے فحش ویڈیوز کا مسئلہ عروج پر ہے۔ خفیہ کیمروں کے ذریعے خواتین اور مردوں کی ویڈیوز  ٹائلٹ، چینج روم، سوئمنگ پولز وغیرہ پر سے حاصل کر کے آن لائن پوسٹ کر دی جاتی ہیں۔

ایکٹوسٹس کا کہنا ہے کہ اگر اس جرم پر قابو نہ پایا گیا تو یہ دوسرے ممالک تک وسیع ہو سکتا ہے اور پھر اسے روکنا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ ہر سال 6 ہزار سے زیادہ ایسے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے 80 فیصد کی مظلوم خواتین ہوتی ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہزاروں ایسی خواتین بھی ہیں جو اپنی  کہانی بیان کرنے سے ڈرتی ہیں اس لیے رپورٹ نہیں کرتیں ۔ کچھ ویڈیوز ایسی بھی ہوتی ہیں جو خواتین یہ سمجھ کر بنانے دیتی ہیں کہ  اس کی خواہش ان کے دوست کرتے ہیں۔ بی بی سی نے ایک خاتون سے بات کی جس کا نام یہاں بدل کر  کِم رکھا گیا ہے۔ اس خاتون کی ویڈیو ٹیبل کے نیچے چھپ کر بنائی گئی تھی ۔ ایک شخص نے ایک چھوتا سا کیمرہ اس کے سکرٹ پر لگایا تھا ۔ انہوں نے دیکھ لیا اور اس کا فون چھین لیا لیکن  تب انہیں پتا چلا کہ ان کی دوسری فوٹیج کے بارے میں لوگ گفتگو کر رہے ہیں ۔ وہ کہتی ہیں: "جب میں نے چیٹ روم دیکھا تو میں سکتے میں آ گئی۔ میں رونے لگی۔ " وہ جب پولیس کے پاس گئیں تو انہیں رپورٹ کرنا زیادہ مشکل کام لگنے لگا۔ وہ کہتی ہیں : میں سوچنے لگی کہ لوگ کیا سوچیں گے، پولیس والے میرے لباس کے بارے میں کیا کہیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ پولیس سٹیشن میں میں اکیلا محسوس کر رہی تھی ۔ مجھے ایسا لگ رہا تھ اجیسے سب لوگ مجھے ایسے تاڑ رہے ہوں جیسے گوشت کا ایک ٹکڑا یا جنسی عمل والا جسمانی حصہ۔ میں بہت گھبرا گئی۔ میں نے کسی کو نہیں بتایا ۔ مجھے ڈر تھا کہ میرے اوپر الزامات لگیں گے۔ میرے رشتہ دار دوست، احباب مجھے ایسے شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں گے جیسے وہ پولیس والے دیکھ رہے تھے۔ اس شخص کو کبھی سزا نہیں دلوا پائی۔

ساوتھ کوریا دنیا کے سب سے ایڈوانس اور ڈیجیٹل لحاظ سے سب سے ترقی یافتہ ملک ہے۔ یہاں کے لوگ سمارٹ فون رکھنے میں دنیا میں سب سے آگے ہیں۔ 90 فیصد لوگوں کے پاس سمارٹ فون ہیں جب کہ 93 فیصد کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے۔

اسی طرح کی تیزیوں کی وجہ سے ہی اس جرم کو ڈیٹیکٹ کرنا اور مجرموں کو پکڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔پارک سو ییون نے2015 میں  ڈیجیٹل سیکس کرائم آوٹ گروپ بنایا  جسے ہا یینا کا نام دیا گیا ۔ اس کا مقصد سورانیٹ نامی ملک کی سب سے بد نام ویب سائٹ کو ختم کرنا تھا۔ اس ویب سائٹ کے 10 لاکھ سے زیادہ صارفین تھے اور اس پر ہزاروں ویڈیوز  خواتین کی مرضی کے بغیر شئیر  کی جاتی تھیں۔ ویب سائٹ کے بہت سے جاسوسی کمرے ٹائلٹ، سٹور چینجنگ روم وغیرہ میں لگائے جاتے یا پھر سابقہ محبوب اپنی محبوبہ کی تصاویر اور ویڈیو انتقام کی نیت سے شئیر کرتے تھے۔ کچھ خواتین جن کی ویڈیو اس ویب سائٹ پر آئی  تھی نے خود کشی کر کے زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ ان ویڈیوز کو بند کیا جا سکتا ہے لیکن  پریشانی یہ ہے کہ یہ ویڈیوز دوبارہ اپ لوڈ کر لی جاتی ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج ان ویڈیوز کی ڈسٹریبیوشن ہے۔ ہوسٹ سائٹ اپنے دفاع میں یہ موقف اپناتے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم کون سی ویڈیوز غیر قانونی طور پر بنائی گئ ہیں ۔ کیا یہ سچ ہے؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ انہیں معلوم نہ ہو۔ مسز مارک چاہتی ہیں کہ ان ڈسٹریبیوٹرز کو ٹارگٹ کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے عالمی سطح پر کوشش کی جانی چاہیے۔

ڈیجیٹل سیکس کرائم صرف کوریا کا مسئلہ نہیں ہے۔ ایسے کیسز سویڈن اور امریکہ میں بھی سامنے آئے ہیں۔ لیکن ساوتھ کوریا ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اس قدر ایڈوانس ہے کہ یہاں دنیا کا  سب سے تیز اور قابل رسائی انٹرنیٹ  دستیاب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے  خواتین کے خلاف آن لائن کرائم اسی ملک میں شروع ہوئے ہیں۔ بہت جلد یہ جرم دوسرے کئی ممالک تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ہمیں عالمی سطح پر مل کر کاروائی کرنی ہوگی۔ ساوتھ کورین پولیس کے لیے دو اہم مسائل ہیں۔ ایک مجرم کو پکڑنا اور دوسرا  ان کو سزائیں دلوانا۔ سپیشل ٹیمیں سیول کے مختلف علاقوں میں خفیہ کیمروں کا پتہ لگانے کی کوشش کر ہی ہیں لیکن انہیں کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ انسپیکٹرا پارک گوانگ می نے دو سال تک 1500 کے لگ بھگ ٹائلٹ چھان مارے ہیں ۔ ایک موقع پر بی بی سی ٹیم نے بھی ان کے ساتھ جانے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ وہ ٹائلٹس میں ایسے سوراخ ڈھونڈ رہی ہیں جہاں کیمرے لگائے جا سکتے ہوں۔ وہ کہتی ہیں: میں ابھی سیکھ رہی ہوں  کہ ان مجرموں کو ڈھونڈنا کتنا مشکل کام ہے۔ لوگ 15 منٹ کے اندر کیمرا لگا کر اتار بھی لیتے ہیں۔ پچھلے سال 6465 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 5437 لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ لیکن ان میں سے صرف 2 فیصد لوگوں کو قید کی سزا ہوئی ہے۔

ان کے طریقے آئے روز بدل رہے ہیں۔بہت سے خواتین کو لگتا ہے کہ انصاف نہیں کیا جا رہا۔ سیول کے مرکز میں بہت بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے  اس ہفتے ایک اور مظاہرہ بھی متوقع ہے۔ پارک می ہائی  سیول پولیس کی ایک سپیشل کرائم انویسٹی گیشن ٹیم کی سربراہ ہیں  ۔ ان کا بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہنا تھا کہ غیر ملکی سرور استعمال کرنے والوں کو ٹریک نہیں کیا جا سکتا۔اوورسیز ممالک میں پورنوگرافی کی تقسیم پر سزا نہیں دی جاتی۔ اگر یہ کام کوریا میں غیر قانونی ہے تو بھی اگر یہ  دوسرے ممالک میں قانونی ہے اور ویب سائٹ پر سرکولیٹ ہوتا ہے تو پھر اس کو کوریا میں بھی انویسٹی گیٹ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہم ویب پیج بند کر دیں تو بھی وہ ویب ایڈریس میں تھوڑا فرق ڈال کر سائیٹ کو دوبارہ کھول لیتے ہیں۔ ہم ہر ایڈریس کی تبدیلی پر نظر رکھتے ہین لیکن وہ اپنے طریقے بدلتے رہتے ہیں۔ ایسے جرائم کی سزائیں بھی سخت نہیں ہیں۔ موجودہ سزا 1 سال قید با مشقت اور 10 ملین وان  ہے۔ اس سے سزا کے لیول کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ عوام کی سوچ میں فرق نظر آئے۔ اس طرح غیر قانونی جرائم کو ختم کرنے کے لیے لوگوں کو مظلوم پر پڑنے والے اثرات سے آگاہی ہونی چاہیے۔ آ پ کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں میں یہ شعور پایا جاتا ہے ۔ ہزاروں خواتین  اس ہفتے اس جرم کے خلاف  سال کے  چوتھے مظاہرے میں شریک ہوں گی جس کا عنوان my body is not your porn رکھا گیا ہے۔  ان کا خیا ل ہے کہ زیادہ سخت سزاوں، زیادہ  تسلسل کے ساتھ عدالتی فیصلوں اور کرائم کو ڈیٹیکٹ کرنے کے نئے طریقوں کے ذریعے اس مسئلے سے نمٹا جا سکتا ہے۔ تب تک ہمیں اپنے چیننگ روم پر سخت پہرہ دینا ہو گا تا کہ ہماری فوٹیج نہ بنائی جا سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *