خان صاحب، گڈ لک!

میڈیا، الیکشن کمیشن، عدلیہ اور Miltablishment یعنی ریاست کے چاروں ستون ایک دوسرے کو خوب شاباشی دے سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے بالآخر عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی مسند تک پہنچا ہی دیا ہے۔ ان کا کام اس وقت خصوصاً بہت ہی دشوار ہو گیا تھا جب میاں نواز شریف ان کی امیدوں کے برعکس وطن واپس آئے اور گرفتاری بھی دی۔ اس سے پنجاب میں ان کے لئے ہمدردی بڑھ گئی تھی اور یہ خطرہ پیدا بھی پیدا ہو گیا تھا کہ جو منصوبہ ان چاروں نے اس قدر احتیاط سے مرتب کیا تھا وہ شاید ناکام ہو جائے۔اپوزیشن کی جماعتیں اگر اس وقت دھاندلی کی شکایت کر رہی ہیں تو ایسا کرنے میں وہ بالکل حق بجانب ہیں۔انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور ان کے ساتھیوں کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ انہی لوگوں نے ان انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کی چوری میں سہولت کاری کی خدمات انجام دی ہیں۔ الیکشن کمشنر نے بطور وضاحت جو یہ بات کہی تھی کہ آر ٹی ایس نے( پر اسرار طور پر) کام کرنا چھوڑ دیا تھا، اس کی تردید نادرا کی جانب سے کر دی گئی ہے۔آر ٹی ایس کا سارا انتظام نادرا والوں نے ہی کیا تھا اور وہی اس کی نگرانی بھی کر رہے تھے۔انتخابات کے نتائج کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر کی یہ ساری وجوہات کسی نے بھی قبول نہیں کی ہیں۔ یہ بات تسلیم کرنا بھی دشوار معلوم ہوتا ہے کہ اس قدر بڑی تعداد میں ایسے حلقے موجود ہیں جہاں مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد جیتنے اور ہارنے والے امیدوار کے درمیان ووٹوں کے فرق سے کہیں زیادہ ہے۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن کا ڈھٹائی پر مبنی مذمت آمیز رویہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس میں غیر جانبدار عناصر یقینی طور پر موجود ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ جولوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ انتخابات سے قبل کی وسیع پیمانے کی دھاندلیاں مطلوبہ نتائج کے حصول میں ممد ثابت ہوں گی، وہ غلطی پر تھے۔ بالکل آخری لمحات میں جب واضح طور پر یہ محسوس ہونے لگا کہ اعداد و شمار تو الٹے پڑ رہے ہیں تو اس وقت ایک بار پھر مداخلت کی ضرورت محسوس کی گئی، اور پھر کہانی یہیں پہ ختم نہیں ہوئی۔اس وقت آزاد امیدواروں کو اکھٹا کر کے ان پہ ٹھپے لگانے کا کام جاری ہے۔ جی ڈے اے، قاف لیگ،ایم کیو ایم، بی اے پی اور تحریک لبیک جیسی چھوٹی چھوٹی جماعتوں اور تنظیموں کو پر کشش پیش کشیں کی جا رہی ہیں جبکہ پی پی پی کو بھی گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کرنے کی کوششیں زور و شور سے ہو رہی ہیں۔ آصف زرداری، فریال تالپور، اویس ٹپی، یوسف رضا گیلانی اورزرداری کے وفاداروں اور پی پی پی کے لیڈروں کی ایک کثیر تعدادکو نیب اور ایف آئی اے والوں کی جانب سے دھمکایا جا رہاہ ے کہ تعاون کرو یاپھر نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہو۔ان تمام باتوں کے باوجود بھی حکومت چلانا عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے لئے کوئی آسان کام بالکل نہیں ہوگا۔اگلے پانچ برسوں تک وفاق اور پنجاب میں ان کی معمولی برتریاں مسلسل حزب اختلاف کی زد پہ رہیں گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو اقتدار دلانے کے اس پراجیکٹ کو اپ ڈیٹ کر کے اسے خان صاحب کو اقتدار میں رکھنے کے پراجیکٹ میں تبدیل کرنا پڑے گا۔ یوں ’’تبدیلی‘‘ کا جو بنیادی مقصد ہے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا نہایت دشوار ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر سب سے پہلے تو عمران خان کوپختونخوا، پنجاب اور وفاق میں اپنی ٹیموں کو یوں یکجا رکھنے میں مدد درکار ہو گی کہ یہ بنیادی مقصد سبھی کے ذہنوں میں مستحضر رہے۔پرویز خٹک کو پختونخوا کا وزیر اعلیٰ نہ بنانے کا فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ اہم تقرریوں میں Miltablishment کی ویٹو پاور بدستور برقرار رہے گی۔ ہم نے سنا ہے کہ انہیں "Neat, Clean and Obedient" یعنی صاف ستھرے اور تابعدار بندے چاہئیں۔ تاہم مقاصد اور ان کے حصول کے ذرائع میں جوباہمی تضاد ہے وہ اس وقت بہت واضح ہو چکاہے۔ عمران خان کو اقتدار دلانے کی غرض سے پی ٹی آئی دوسری جماعتوں سے ہتھیائے گئے گندے لوٹوں، سٹیٹس کو کے حامی اور انتخاب جیتنے کے اہل امیدواروں سے بھری جا چکی ہے اور خان صاحب کا یہ اقتدار برقرار رکھنے کے لئے انہی لوگوں کو کبھی ڈرا دھمکا کر اور کبھی لالچ دے کر ، پچکار کر ساتھ رکھا جائے گا۔ تبدیلی لانے کے لئے ایسے پُر جوش نظریاتی حامیوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ذاتی مفادات کو قربان کرتے ہوئے مشکل فیصلوں کی تائید کر سکیں۔ پی ٹی آئی میں اندرونی طور پر پختونخوا اور بلوچستان کی وزارت علیا کے حصول کے حوالے سے جو جھگڑے ہوئے ہیں اور علیم خان (جو صاف ستھرے اور تابعدار تو بالکل بھی نہیں) کو جس قسم کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے ، اور شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے درمیان پنجاب کی وزارت علیا کے حوالے سے اختیارات کے حصول کی جو جنگ بہت واضح نظر آ رہی ہے یہ سب حالات اصل حقائق کی محض ایک معمولی جھلک پیش کر رہے ہیں۔ فرائض اور عوامی خدمت کے احساس پہ مبنی افکار جو کسی بھی تبدیلی کے لئے بنیادی ضرورت کا درجہ رکھتے ہیں، ان سے یہ لوگ قطعی طور پر نا بلد ہیں۔عمران خان کی حلف برداری چاہے جتنی بھی دھوم دھام سے ہوجائے، اس کے بعد کے حالات ایک مختلف پلٹا کھا سکتے ہیں۔ Miltablishment سیاست میں واضح مداخلت کی بدولت عوامی نگاہ میں اپنی ساکھ کھو چکی ہے ۔ حلف برداری کے بعد یہ پس منظر میں رہ کر’’ منتخب ‘‘ حکومت کو اپنے اقدامات کی ذمہ داری اٹھانے کا موقع دے گی۔ میڈیا اور عدلیہ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا دینے کے لئے حکومت کے ہر اقدام پہ کڑی نظر رکھیں گے۔ سچی بات یہ ہے کہ ریاست کا کوئی بھی ستون حکومت نوازی کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔میڈیا اپنے کاروباری مفادات کی وجہ سے اور عدلیہ انتظامیہ سے الگ رہنے کے تاثر کی وجہ سے۔ اس سے یقیناًحکومت کے راستے میں کئی رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی۔ پھر معیشت کی بحالی کی کوششیں انہی طبقات کے پر زور احتجاج کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں جنہوں نے عمران خان کو ووٹ دیا ہے۔روپے کی قدر میں کمی افراط زر کا سبب بن جائے گی ۔ بجٹ کے خسارے میں کمی سرکاری اخراجات، روزگاراورصارفین کی ضروریات پہ اثر انداز ہو گی۔درآمدات اور سرمائے کی منتقلی پہ پابندی کے ذریعے ادائیگیوں کے توازن کے فرق کو مطلوبہ حد میں رکھنے کی کوشش کاروباری سرگرمیوں کے محدود ہو نے کا سبب بنے گی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پہلے ہی سے ضروری خام اشیاء کے سو ا اوپن اکاؤنٹس سے دیگر درآمدات پہ پابندی لگا رکھی ہے۔ گزشتہ این ایف سی ایوارڈ نے صوبائی افسر شاہی اور سیاستدانوں کو مالا مال کر دیا تھا، اب اگر اس میں تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی تو بیوروکریٹس اور سیاستدان یکساں طور پر اس کی مزاحمت میں ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔اسی طرح مقامی حکومتوں کو اختیارات و فنڈز کی منتقلی کی بھی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ یہی مقامی حکومتیں Miltablishment کے لئے’’صاف ستھرے اوتابعدار‘‘ سیاستدانوں کی افزائش کا کام سرانجام دیتی ہیں۔Miltablishment کی ایک توقع عمران خان سے یہ بھی ہے کہ وہ خارجہ پالیسی کو مفید طور پر چلانے کے لئے اپنی شہرت کا مؤثر استفادہ کریں گے۔ تاہم اگر کوئی یہ سمجھتا ہے اگر خان صاحب Miltablishment کی کٹھ پتلی ہوتے ہوئے بھی راتوں رات امریکہ اور بھارت کا اعتماد حاصل کرسکیں گے تو یہ اس کی نادانی ہے۔اصل مسئلہ یہی ہے ۔ عمران خان کو جن قوتوں نے اقتدار تک پہنچایا ہے اگر تو وہ ان سے قطع تعلق کر کے اپنی سوچ اور فکر کے مطابق اپنے مقاصد کے حصول کی کوشش کریں گے تو انہیں ویسے ہی حالات سے دوچار ہونا پڑے گا جیسے حالات سے اس وقت میاں نواز شریف صاحب گزر رہے ہیں۔ہم بس یہی کہیں گے کہ خان صاحب، گڈ لک!!

(یہ کالم رائٹ ویژن میڈیا سینڈیکیٹ کی جانب سے مجاز اخبارات کو جاری کیا جاتا ہے جن میں یہ مؤقر روزنامہ بھی شامل ہے۔ اس کی کسی بھی صورت میں کہیں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *