عمران خان کی زندگی کا خلا صہ

کرسٹیانا لیمب

وہ ایک صاف کردار کے حامل کرکٹ ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی ماں کی یاد میں ایک کینسر ہسپتال تعمیر کیا اور پھر بدعنوانی اور موروثی سیاست کے خلاف اپنی زندگی وقف کر دی۔

یہ وہ شخص بھی ہیں جن کا ایک  ناجائز بچہ ہے جسے اپنانے سے انہوں نے انکار کر دیا، اپنی پہلی زوجہ جمائمہ گولڈ سمتھ کی کلائی توڑی اور کہتے ہیں ''عورت پرستی ایک ماں کے درجہ کو نیچے  گراتی ہے''۔

یہ وہ شخص ہیں جو طاقت حاصل کرنے کے لیے اتنے بے تاب ہیں کہ فوج کے ہاتھوں میں بک گئے، اس گرو سے شادی کی جس نے کہا کہ وہ اگر ان سے شادی کریں گے تو انتخابات میں جیت جائیں گے، اور ہر اس پس منظر کے نمائندے اپنے ساتھ ملائے جن کو وہ تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔

اصل عمران خان کون ہیں؟ اس ہفتے کئی سال پاکستانی سیاست میں ہنسی کا مرکز بننے کے بعد جب  وہ وزیر اعظم کا دفتر سنبھالتے ہیں،اندورن اور بیرون ملک تمام لوگوں کی ذبان پر یہی سوال ہے۔ جمعرات کی شام پاکستان کے عام انتخابات کے بارے میں اپنی فاتحانہ تقریر میں 65 سالہ خان نے ایک سیاستدان کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے اسلامی فلاحی ریاست، اور سامراجی نظام کے خاتمے کی ایک شاندار تصویر پیش کی  جس کی وجہ  سے کئی دہائیوں تک پاکستانی سیاست پر ایک ہی طبقہ نے قبضہ قائم رکھا۔

''ہم ملک کو اس طرح چلائیں گے جیسے پہلے کبھی نہ چلائی گئی ہو''، انہوں نے اعلان کیا۔

لیکن وہ جو انہیں اچھی طرح جانتے ہیں کہتے ہیں یہ سب منافقت ہے، جب کہ پاکستانی سیاست پر نظر رکھنے والے  مانتے ہیں کہ یہ ایک ''نرم مارشل لا'' ہے اور اصل فاتح فوج ہے جو بغیر الزام لیے رسی کو کھینچے گی۔

میں پہلی مرتبہ اس خوبصورت، آکسفورڈ سے گریجویٹ کرکٹر کو 1980 کے اواخر میں ملی۔ تب وہ  پاکستان کے سب سے نمایاں کنوارے تھے، جنہیں لاہور کی ہر میزبان اپنی پارٹی میں دیکھنا چاہتی تھی، اور لندن نائٹ کلب میں ملنا چاہتی تھی۔ تو میں حیران ہوئی  جب 1990 کے وسطی دور میں جب انہوں نے مجھے اپنا ننگا سر ڈھانپنے کا کہا کیونکہ ان کو یہ اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں ان کے ساتھ دیہی پنجاب کے پہلے سیاسی دورہ پر گئی۔

 ان کو سننے بہت لوگ آتے تھے کیونکہ وہ پاکستانی ٹیم کے کپتان رہے تھے جس نے 1992 کے عالمی کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو فتح دلائی۔

ان کا یہ بیان کہ ملک کو سامراجیت اور بدعنوانی سے نجات دلانا لازمی ہے  بہت ہی ناممکن جیسا لگتا ہے۔جب بھٹو اور شریف خاندان باری باری اقتدار مین آ رہے تھے اور بیچ میں کبھی کبھار مارشل لا کا دور آتا تھا تب لاکھوں پاکستانی پرانی طرز کی زندگی جی رہے تھے۔

بہت کم لوگوں نے عمران کو  سیاست کے میدان میں سنجیدگی سے کامیاب ہونے کی توقع کے ساتھ دیکھا۔

کالم نگاروں نے انہیں یہ نام دیا “Im the Dim”، اور 1996 کے انتخابات میں انہوں نے جو واحد سیٹ جیتی وہ ان کی اپنی تھی۔ برٹش اخبار نے جو واحد وجہ بتائی وہ ان کی کرکٹ کی شہرت تھی اور یہ حقیقت کے اس وقت جمائمہ کے رشتہ ازدواج میں تھے۔ وہ 21 برس کی تھیں جب انہوں نے شادی کی،تب عمران کی عمر 42 سال  تھی۔

2001 میں 9/11 اور ''دہشت گردی کی جنگ'' کے نتیجے  نے انہیں زندگی کی ایک نئی مہلت بخشی۔ انہوں نے اس دوران امریکہ کے خلاف عوامی جذبات کو ابھارا اور مغرب کو اسلام مخالف اور دہشت گرد قرار دیا۔

اگرچہ ان کا یہ دعوی درست تھا کہ 80ء کی دہائی میں امریکہ نے اسلام اور پاکستان کو استعمال کر کے جہادیوں کو تربیت دی  تا کہ وہ روس کو شسکت دے سکیں لیکن عمران خان حد سے آگے گزر گئے جب انہوں نے طالبان کے نظام انصاف کا دفاع کیا ۔ تبھی انہیں طالبان خان کا لقب بھی دیا گیا۔

2004 میں جمائمہ سے طلاق کے بعد  انہوں نے خود کو زیادہ نیک اور پارسا دکھانے کی کوشش کی ، اپنی سوانح حیات لکھی جس میں ماضی کے سارے سکینڈلز کو غائب کر کے  یہ دکھانے کے کوشش کی کہ وہ آکسفورڈ  پر حیران تھے۔ (یہی وہ شخص ہے جس نے اخبار میں شائع ہونے کے لیے ایک پاجامہ میں ملبوس ہو کر تصویر کھچوائی تھی۔

حال ہی میں انہوں نے پاکستان کے جانے مانے  توہین مذہب کے قوانین  کا دفاع کیا جو اقلیتوں کو سزا دینے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں جن میں  سزائے موت کی سزا پانے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی   شامل ہیں۔  ان کی پارٹی نے ملالہ  یوسفزئی، جن پر سکول تعلیم کے دووران طالبان نے حملہ کیا تھا  کے خلاف سوشل میڈیا  پر مہم چلائی۔ بجائے اس کو پاکستان کی واحد نوبل انعام جیتنے کے لیے مبارکباد دینے کے اس نے اسے سی آئی اے کی ایجنٹ کا خطاب دیا۔

''وہ اس کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ''، ان کی دوسری بیوی ریحام خان نے کہا۔ ''انہوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں نے ملالہ کی سپورٹ میں جو ٹویٹ لکھا اسے ڈیلیٹ کر دوں۔ وہ پاکستان کی واحد معروف شخصیت کہلانا چاہتے ہیں''۔

ریحام، بی بی سی کی سابقہ موسم کا حال پیش کرنے والی، ان کی حالیہ کتاب میں دعویٰ کرتی ہیں کہ  ان کی درویشی ظاہری ہے اور یہ کہ   وہ عمران خان کو بہت سی توہم پرستی پر مبنی حرکات کرتے دیکھ کر چونک گئی تھیں۔

کتاب  میں عمران کی زبانی ایک کہانی ذکر کی گئی ہے جس کے مطابق عمران نے ریحام کو بتایا کہ ایک بار جب جمائمہ اپنے بچے کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں تو عمران نے ان کی  کلائی توڑ دی تھی۔

ریحام نے 2014 میں  اسلام آباد دھرنا کے دوران عمرا ن خان سے شادی کی ۔ یہ دھرنا ان انتخابات کے خلاف کیا گیا تھا جس میں عمران کے بہت بڑے جلسے ہوئے لیکن  عمران کو انتخابات کے دن صرف 35 سیٹیں ملیں۔

شکست تسلیم کرنے کے بجائے انہوں نے کنٹینر کی چھت پر کھڑے ہو کر تقریریں کرنے میں مہینے گزار دیے، بظاہر  انہیں ملک کی طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی مدد حاصل تھی جنہیں یقین تھا کہ  عمران تین مرتبہ وزیر اعظم بننے والے نواز شریف کی حکومت گرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

''وہ انہیں استعمال کر رہے تھے''، ریحام نے کہا۔ ''اصل مقصد شریف کی حکومت  کو کمزور کرنا تھا۔''

فوج، جس نے مشہور لیڈروں کو کبھی ہضم نہیں کیا،  اس بات  شریف برادران کی طرف سے سویلین بالا دستی کے قیام کی کوششوں  اور آرمی کے عوام پر کنٹرول کو کم کرنے کی جدو جہد پر سخت ناراض تھی۔ شریف حکومت نے ہی  سابق صدر  جنرل پرویز مشرف کو غداری کے جرم میں ٹرائیل پر ڈال دیا تھا ۔

2016 میں پانامہ دستاویزات کی اشاعت نے شریفوں کی بد عنوانی سے کمائی گئی دولت کی تفصیلات  پر موادمہیا کیا جس کی بنیاد پر خان  نواز شریف کے خلاف کرپشن کیس کھلوانے میں کامیاب ہوئے۔

پچھلے ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے  کہا کہ عدالتوں کو شریفوں کی حکومت ختم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا  اور ججز نے تعاون کرتے ہوئے نواز کو جیل بھیج دیا۔ اس دوران ججز کو روزانہ ہدایات ملتی رہیں۔ عمران کے حریف کے سلاخوں کے پیچھے   جاتے ہی ہفتے  انتخابی فتح  واضح  نظر آنے لگی  لیکن پاکستان میں کبھی کسی جیتنے والے نے اس قدر کمپرومائز نہیں کیا۔

انتخابات پر دھاندلی کے صرف کھوکھلے الزامات نہیں لگے بلکہ  پولنگ سٹیشنز پر عوام کو خوفزدہ کرنے کے لیے تین لاکھ ستر ہزار  فوجی تعینات کیے گئے ۔ الیکشن سے قبل فوج اور انٹیلیجنس نے شریف کی پارٹی  مسلم لیگ کے سیاستدانوں  کو کرپشن کیسز سے خوفزدہ کیا تا کہ وہ پارٹی سے الگ ہو جائیں۔

میڈیا پر کریک ڈاون کی مدد سے تمام ٹی وی چینلز کو صرف عمران کی ریلیاں اور جلسے دکھانے پر مجبور کر دیا جب کہ شریف برادران کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے خلاف احتجاج نشر نہیں کیا گیا۔

نئے  وزیر اعظم   کو بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان قرضوں میں گھرا ہوا ہے اور 200 ملین سے زیادہ آبادی کو بجلی  اور پانی فراہم کرنے  اور جہادی گروپوں کے خلاف جنگ میں مصرووف ہے۔ سینکڑوں لاکھوں امریکی  ڈالر کی امداد  ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے سال کے پاکستان پر ٹویٹ کے بعد بند ہو گئی ہے۔ اس ٹویٹ میں ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے لکھا  کہ ''پاکستان نے ہمیں جھوٹ اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں دیا اور ہمارے لیڈرز کو بے وقوف بناتا رہا۔

اب خان کے پاس کیا  اختیارات ہوں گے؟ 1990 میں میں نےلکھا تھا کہ پاکستان فوج کے پاس ایک ملک ہے نہ کہ پاکستانی ملک کے پاس ایک فوج۔  بہت کم لوگوں کو اس بات پر شک ہو گا کہ آج تمام اختیارات اور طاقت پاکستانی فوج کے ہاتھ میں ہے۔

ملک کے اہم معاملات جیسا کہ نیو کلیر پروگرام، بھارت کے ساتھ تعلقات اور طالبان کی سپورٹ جیسے معاملات میں زیادہ تر وزرائے اعظم بے اختیار ہی رہے ہیں۔ ایک سابقہ لیڈر بے نظیر بھٹو نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیر اعظم تو ہوں لیکن بے اخیتار ہوں ۔ اس بھادر خاتون لیڈر کو بعد میں قتل کر دیا گیا۔  

کوئی شک نہیں کہ خان کے ساتھ ان نوجوانوں کا ساتھ ہے جنہیں انہوں نے امیدیں لگائی ہیں۔ لیکن بھٹو  کو بھی عوام کی سپورٹ حاصل تھی ۔ اگر دوسری آکسفورڈ گریجویٹ اپنی بہادری اور ٹیلنٹ کے باوجود اختیار نہ حاصل کر پائی تو  پھر سخت مزاج اور ضدی عمران سے بھی زیادہ توقعات نہیں باندھنی چاہیے۔

عمران کو مشورے دینے والی ان کی تیسری بیوی بشری مانیکا ہوں گی جو ایک مکمل مذہبی خاتون ہیں ۔ ان کے ساتھ بھی عمران نے ریحام خان کی طرح شادی خفیہ طریقے سے کی اور کچھ عرصہ تک اس شادی کی تردید بھی کرتے رہے  ۔

انہیں انتخابی فتح کی مبارکباد دینے والی سب سے پہلی خاتون  جمائمہ تھیں، جنہوں نے اپنے دو بیٹوں کی وجہ سے عمران کے ساتھ سپورٹ طلاق کے بعد بھی  جاری رکھی۔  جمائمہ نے مبارکباد کے پیغام میں لکھا: "ہمت  بنائے رکھنے ،یقین کے ساتھ  جدو جہد کرنے اور شکست نہ ماننے والوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا سبق ہے۔" لیکن ان کی آخری سطر خبر دار کر رہی ہے: ''اب چیلنج  یہ ہے کہ عمران کو یاد رکھنا ہو گا کہ وہ سیاست میں کیوں آئے تھے۔ ''

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *